انڈیا کا بےخوف رنگ ماسٹر دامو دھوترے جو عالمی لیجنڈ کہلایا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین کے معروف شہر شنگھائی میں سرکس کے ایک شو کے دوران ایک مصنف جانوروں کے لیجنڈری ہندوستانی ٹرینر سے انٹرویو کے لیے ایک پنجرے میں پہنچ جاتا ہے۔

ایک ٹرینر سے انٹرویو کے لیے یہ سیٹنگ غیر معمولی تھی۔ لیکن ہندوستانی ٹرینر دامو دھوترے کی بھی کوئی بات معمولی نہیں تھی۔

اگرچہ اس وقت وہ صرف 25 سال کے تھے لیکن وہ اپنے بےخوف اور جان پر کھیل جانے والے کرتب کے لیے مشہور ہو چکے تھے۔ اور وہ چاہتے تھے کہ مصنف کو اس بات کا احساس ہو کہ وہ کس سہل انداز میں جنگلی جانوروں کو کنٹرول کرتے ہیں۔

ہرچند کہ سرکس کی دنیا میں دامو نے بہت نام کمایا لیکن انھیں ہندوستان میں کم ہی جانا جاتا ہے۔

ان کے پوتے مہیندر دھوترے نے اپنے دادا کی زندگی پر تحقیق کی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے دادا کے کارناموں کو جانیں۔

مہیندر دھوترے کہتے ہیں کہ ان کی کہانی غیر معمولی ہے۔ انھوں نے اپنا کریئر انگریزوں کے ہندوستان میں شروع کیا اور اس زمانے میں لیجنڈ بنے جب کسی غیر سفید فام کے لیے کسی بھی پیشے میں ٹاپ پوزیشن پر پہنچنا بہت مشکل تھا۔

دامو انڈیا کے مغربی شہر پونے میں ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوئے۔ جب وہ ابھی دس سال کے ہی تھے کہ انھوں نے اپنے ماموں کے سرکس جانا شروع کر دیا۔

جنگلی درندوں سے وہ خاصے متاثر ہوئے۔ وہ ان کے ٹرینر کو بغور دیکھتے اور پھر پنجرے کے باہر مستقل ان کی نقل اور مشق کرتے۔

دھوترے بتاتے ہیں کہ ‘ایک دن پنجرہ کھلا رہ گيا اور وہ اس میں داخل ہو گئے اور جانوروں کو پرسکون رکھنے میں کامیاب رہے۔ انھوں نے بس چند منٹ کے لیے یہ کام کیا لیکن سرکس میں ہر کوئی یہ سمجھ گیا کہ وہ خاص ہیں۔’

اس واقعے نے یہ ظاہر کر دیا کہ وہ بے خوف ہیں۔ اور اپنے پورے کریئر میں ان کا یہی رویہ رہا۔ وہ بے خوف اور بہادر رہے اور اپنی ان خصوصیات کا استعمال انھوں نے کرتب دکھانے میں کیا۔

دامو کی دلچسپی دیکھ کر ان کے ماموں انھیں تربیت دینے پر رضامند ہوئے۔ اس پر دامو کی والدہ بہت ناراض ہوئيں۔ ان کو اسی بات سے ہول آنے لگا کہ ان کا بیٹا درندوں کے پنجرے میں داخل ہوگا۔

جب ان کے بھائی نے انھیں یقین دلایا کہ دامو محفوظ ہوگا اس کے بعد ہی وہ راضی ہوئيں اور اس طرح اپنے زمانے کا معروف ٹرینر دامو دھوترے پیدا ہوا۔

سنہ 1912 میں دامو نے سکول چھوڑ دیا اور اپنے ماموں کے ساتھ چار سال کے سفر پر نکل پڑا۔ لیکن اسے ماں اور گھر کی یاد آتی ستانے لگی اس لیے وہ پونے واپس آ گئے۔

لیکن ان کا دل ابھی بھی سرکس میں ہی تھا۔ وہ اپنے والدین کی مدد کے لیے پیسے بھی کمانا چاہتے تھے۔

مسٹر دھوترے نے بتایا: ‘انھوں نے سائیکل پر کرتب دکھانے کا کام شروع کیا جس کی شہرت ہونے لگی اور ایک مقامی اخبار نے انھیں ‘ونڈر بوائے’ یعنی حیرت انگیز بچہ کہا۔

دامو پونے کے مختلف مقامات پر کرتب دکھاتے اور انھیں جب کبھی موقع ملتا وہ جانور کی تربیت کرتے۔

22 سال کی عمر میں انھوں نے ایک روسی سرکس میں موٹر سائیکل پر کرتب دکھانے والے کی نوکری کے لیے درخواست دی۔ انھیں کام مل گیا۔ انھوں نے سرکس کے مالکان کو اس بات پر راضی کر لیا کہ انھیں رنگ ماسٹر کا کام دیا جائے۔ ان کی زندگی کا اہم دور اس وقت شروع ہوا جب انھوں نے سرکس کے ساتھ چین کا سفر کیا۔

دھوترے بتاتے ہیں کہ ‘وہ فوری طور پر چین میں ہٹ ہو گئے ۔۔۔ میرے خیال سے لوگوں کو ان کا بے خوف انداز پسند آیا۔ وہ پنجرے میں درجنوں جانور کے ساتھ کرتب دکھا سکتے تھے۔’

رنگ ماسٹر کے لباس نے بھی بھیڑ اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت لوگ رنگ ماسٹر کو پورے لباس میں دیکھنے آتے تھے کہ وہ حفاظتی لباس کا کس طرح استعمال کرتے ہیں۔

دامو رنگ میں ہمیشہ کھلے بدن داخل ہوتے اور ان کے سر پر روایتی ہندوستانی پگڑی ہوتی تھی۔

وہ رنگ کے اندر ڈراما کرنے کے ماہر تھے۔ اپنے مشہور کرتب میں وہ بکری سے شیر کی سواری کراتے تھے۔ یہ عقل کے خلاف بات تھی کیونکہ شیر اور چیتے بکری کا شکار کر لیتے ہیں۔

دھوترے کا کہنا ہے کہ ایسا صرف دامو کی وجہ سے ہوتا تھا کیونکہ وہ جانوروں میں کسی طرح یہ اعتماد پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

اپنی مقبولیت کے باوجود دامو کو یہ محسوس ہوا کہ روسی سرکس ان کے لیے بہت چھوٹی ہے۔ اس لیے انھوں نے یورپی اخباروں میں اشتہار دینے کا فیصلہ کیا۔

ایک فرانسیسی سرکس والے نے ان کا اشتہار دیکھا اور انھیں یورپ آنے کے لیے کہا۔ انھوں نے جنوری سنہ 1939 میں فرانس کا سفر کیا لیکن اس سفر میں انھوں نے جو کچھ کمایا تھا وہ سب خرچ ہو گيا۔

جب وہ وہاں پہنچے تو وہ یورپ میں نسبتاً کم معروف تھے۔ لیکن فرانس میں انھیں شہرت حاصل کرنے میں دیر نہیں لگی۔ انھوں نے اچھا کمانا بھی شروع کر دیا۔

دھوترے بتاتے ہیں کہ ‘اس وقت تک ان کی شادی ہو چکی تھی اور وہ اپنے گھر پیسے بھیجنے لگے تھے جس سے انھیں بہت خوشی ہوتی تھی۔’

لیکن ان کی کامیابی دیرپا نہیں رہی۔ دوسری جنگ عظیم نے سنہ 1940 کے وسط سے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور سکیورٹی کے پیش نظر سرکس پر پابندی لگا دی گئی۔

دامو کے پوتے کہتے ہیں کہ وہ اس سے دلبرداشتہ ہو گئے۔ ‘وہ یورپ میں بغیر کام کے تنہا ہو گئے۔ وہ ان کے لیے مشکلات کا دور تھا۔’

پھر فرانسیسی سرکس نے امریکہ کے دورے کا فیصلہ کیا اور دامو کو ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ وہ بہت پرجوش تھے کیونکہ امریکہ اس وقت کے سب سے بڑے اور معروف سرکس رنگلنگٹن برادرز کا ملک تھا۔

امریکہ پہنچ کر انھوں نے رنگلنگٹن برادرز کے حکام سے رابطہ کیا اور اپنے لیے جگہ کا مطالبہ کیا۔ انھیں ملازمت دی گئی اور وہ بے حد مقبول ہوئے۔

دھوترے کہتے ہیں: ‘امریکہ میں لوگوں نے اس قدر بے خوف کرتب نہیں دیکھے تھے اور انھیں وہ بہت پسند آئے۔ ان کا نام سرکس کی دنیا میں لیجنڈ کے طور پر لیا جاتا ہے۔’

لیکن پھر امریکہ 1941 کے اواخر میں جنگ عظیم میں شامل ہو گيا اور سرکس پر پابندی لگا دی گئی۔ دامو کو سنہ 1945 میں جنگ کے خاتمے سے قبل امریکی فوج میں شامل کرلیا گیا۔

انھوں نے صحت کی خرابی کی وجہ سے سنہ 1949 میں رنگلنگٹن بردرز کی ملازمت چھوڑ دی اور یورپ واپس چلے گئے۔ اور پھر دوسال بعد وہ ہندوستان واپس آ گئے کیونکہ ان کی صحت مزید خراب ہو چکی تھی۔

اس وقت تک ان کی اہلیہ کو کینسر کی تشخیص ہو چکی تھی۔ ان کی آمد سے قبل ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ انھوں نے سرکس سے چھٹی لینے کا فیصلہ کیا اور پھر اسے چھوڑ ہی دیا کیونکہ وہ دمے کے سبب جانوروں کے ساتھ کام نہیں کر سکتے تھے۔

دھوترے کہتے ہیں ‘تاہم وہ سرکس سے اتنے جڑے ہوئے تھے کہ انھوں نے دوسروں کو رنگ ماسٹر بننے کی تربیت دینا شروع کر دی۔’

سنہ 1971 میں دامو ‘بین الاقوامی سرکس ہال آف فیم’ میں شامل کیے گئے۔ اس کے دو سال بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

دھوترے کہتے ہیں کہ ‘اب دوسرا دامو دھوترے پیدا نہیں ہو سکتا کیونکہ سرکس کا فن مرتا جا رہا ہے اور اب جانوروں کے استعمال پر پابندی لگ چکی ہے۔ اس لیے یہ اہم کہ ان کی وراثت کو یاد رکھا جائے۔’

بہر حال وہ یہ مانتے ہیں کہ آج کے اعتبار سے سرکس میں دامو کا عمل جانوروں کے لیے ظالمانہ تھا۔ تاہم وہ یہ کہتے ہیں کہ ‘جس دور میں دامو نے سرکس میں کرتب دکھائے وہ دور مختلف تھا اور تفریح کے بہت ذرائع نہیں تھے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18486 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp