ایک اشتہار کا قصہ – مکمل غیر سینسر شدہ کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زوال اخلاقی ہو یا علمی، ہمہ گیر ہو تا ہے۔ ٹی وی چینلز پر ایک اشتہار چلتاہے، کسی چائے فروش کمپنی کا۔ ایک لڑکا دیوار پھلانگ کر ایک گھر میں داخل ہو تا ہے۔ ایک لڑکی معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھتی اور کہتی ہے : ”تم سے ذرا انتظار نہیں ہوتا۔ کچھ دن تو رہ گئے ہیں شادی میں۔ “ لڑکا جواباً جو کچھ کہتا ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ اسے چائے کا ذائقہ کھینچ لایا ہے جو وہ یہاں سے پی کر گیا تھا۔ لڑکی کے والدین لڑکے کو واپس جاتے دیکھ لیتے ہیں۔ دونوں اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کرتے ہیں۔ ماں اس واقعے کو بیٹی کے سلیقے کی دلیل سمجھتی ہے اور باپ چائے کا کمال۔

میں جب بھی یہ اشتہار دیکھتا ہوں، ناقابل ِبیان کوفت ہوتی ہے۔ بد تہذیبی اور بد ذوقی کا ایسا شاہکار کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ اعلان ِعام ہے کہ تہذیب اور ذوق دونوں کی موت واقع ہو چکی۔ کسی کو تہذیبی حساسیت کا اندازہ ہے نہ ذوقِ سلیم ہی میسر ہے۔ دیوار پھلانگنا بد تہذیبی ہے۔ اس پر ایک لڑکی کے والدین کا اظہارِ اطمینان و مسرت، اس سے بڑھ کربد اخلاقی ہے۔ پھر یہ محبت کے لطیف احساس کی بے حرمتی ہے کہ اسے اس سطحیت کے ساتھ بیان کیا جائے۔

یہ اشتہار کئی مراحل سے گزر کر ناظرین تک پہنچا ہے۔ چائے فروش، اشتہار ساز، سینسر بورڈ۔ کیا کہیں کوئی صاحبِ ذوق مو جود نہیں تھا جو تہذیبی اور جمالیاتی حوالے سے اس پر نظر ڈالتا؟ یہ محض دیگ کا ایک دانہ ہے ورنہ بدذوقی کے ایسے ایسے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ سر (اپنا نہیں ) پیٹنے کو دل چاہتا ہے۔ آدمی سوچتا اور حیران ہوتا ہے کہ کروڑوں روپے کی یہ صنعت کس ذہنی اثاثے کے ساتھ چل رہی ہے۔

یہ صرف ایک شعبے کا قصہ نہیں۔ ہر شعبہ ایسے مظاہرسے بھرپور ہے۔ کسی نئے خیال کا گزر ہے نہ لوگوں کو اپنی معاشرتی حساسیت کا اندازہ ہے۔ کہیں ذہنی پستی ہے اور کہیں بے مغز نقالی۔ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اپنی تہذیبی ساخت سے واقف ہے اور نہ ہی فکری ارتقا کے مطالبات سے آشنا۔ اشتہار ہو یا ٹی وی ڈرامہ۔ سیاست ہو یا مذہب۔ خانقاہ ہو یا مکتب۔ ہر طرف ’نہ زندگی نہ محبت، نہ معرفت نہ نگاہ‘ ۔

مباحث پر سیاست کا غلبہ ہے۔ اس لیے لوگ زیادہ تر سیاست کی بے مائگی کا گلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان کے یو ٹرن پر بات ہو رہی ہے۔ لطف یہ ہے کہ جو تبصرہ نگاراس مشق میں مصروف ہیں، ان کے کالم اور خطبات رجعت کے ان گنت نمونے لیے ہوئے ہیں۔ ایک روز ایک بات، دوسرے دن دوسری بات۔ یہی نہیں قلم قابو میں ہے ا ور نہ زبان۔ اس پر اعتماد کا یہ عالم کہ جیسے کوئی حکیم الامت کلام کر رہا ہے۔

مذہب کی دنیا میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ دلیل و استدلال ہی نہیں، اخلاق اور علم بھی معلوم ہوتا ہے کہ رخصت ہو چکے۔ دلیل کی جگہ فتوے نے لے لی اور اخلاق کی جگہ دشنام نے۔ جہاں عقل کو بروئے کار آنا چاہیے وہاں جذبات کی حکمرانی ہے۔ مکالمہ نہیں، اب مناظرہ ہوتا ہے۔ متکلم نہیں، اب مناظر پیدا ہوتے ہیں۔ دین دعوت کا نہیں، عصبیت کا نام ہے۔ لوگ دین نہیں، مسلک کے وکیل ہیں۔ اسی لیے عرض ہے کہ زوال جب آتا ہے تو ایک شعبے تک محدودنہیں رہتا، سارے سماج میں پھیل جا تا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

یہ زوال اُس معاشرے کا مقدرہے جو بند ہے۔ جہاں نئے فکر کا گزر ممنوع ہے۔ جہاں اختلاف کو جرم سمجھا جا تا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی دین ہے لیکن ان معاشروں میں جہاں معاملات کو پوری طرح سرمایہ دار کے حوالے کر دیا جا تا ہے جس کا واحدمقصد منافع خوری ہے۔ مثال کے طورپر ایک سرمایہ دار جب ایک ٹی وی چینل قائم کر تا ہے تو اس سے زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے وہ ناظرین کی تعداد میں اضافہ چاہتا ہے۔ اب وہ یہ دیکھتا ہے کہ عوامی ذوق کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ اس ذوق کو پیشِ نظر رکھ کر پروگرام ترتیب دیتا ہے۔

اس سرمایہ دار کو ایک دوسرے سرمایہ دار کی معاونت چاہیے جو اپنی مصنوعات کی تشہیر چاہتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ عوام کی اکثریت اس کی مصنوعات سے واقف ہو اوراس کی خریدار بنے۔ اس کے لیے وہ دیکھتا ہے کہ کون سا چینل زیادہ دیکھا جا تا ہے۔ یوں وہ اس کومشتہر بنا تا ہے۔ یہاں ایک تیسرا منافع خور شامل ہو جاتا ہے جو ایسے اشتہارات بناتا ہے جو عوامی ذوق کے مطابق ہوتے ہیں۔ یہ تینوں اپنے اپنے منافع کی تلاش میں ہیں۔ عوام کے ذوق کی تعمیر یا معاشرے کی تہذیبی اقدار کا لحاظ کسی کے پیشِ نظر نہیں ہے۔

مغرب، جواس سرمایہ داری کا جد ِ امجد ہے، وہاں علم و ذوق کا یہ زوال نہیں۔ وہاں اگرسطحیت کے مظاہر موجودہیں تو اس کے ساتھ اعلیٰ ادب بھی پیدا ہو رہا ہے۔ اعلیٰ درجے کی فلمیں بھی بن رہی ہیں۔ طبعی اورسماجی علوم میں تحقیق کی شاندار روایت بھی پنپ رہی ہے۔ وہاں کا سرمایہ دار بھی منافع ہی کو اپنا مطمح نظر سمجھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ہی نظام دو جگہوں پر دو مختلف نتائج کیوں دے رہا ہے؟

مغرب میں سرمایہ داری ایک معاشی نظام ہے جوایک نظام ِاقدار کا حصہ ہے جس نے ایک فکری تبدیلی کے نتیجے میں جنم لیا۔ اس نظام ِ اقدار میں انسان کی فکری آزادی کو مقدم رکھا گیا ہے۔ اس کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو مہمیزدینے کے لیے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔ وہاں کاسرمایہ داردراصل اس نظام ِاقدار کے ایک حصے کے طور پر بروئے کار آتا ہے۔ اشتراکیت جیسے خارجی خطرات نے بھی اسے یہ سکھایا ہے کہ اگر انسان کی آزادی کو سلب کر لیا گیا تو پھر اس کی اپنی بقا بھی خطرات میں گھر جائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ وہاں کا سرمایہ دار اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ اس نظامِ اقدار کی حفاظت کے لیے خرچ کر تا ہے، جس کی ایک شاخ پر اس کا آشیانہ قائم ہے۔ مثال کے طور پریورپ کی کئی یونیورسٹیاں ایسی ہیں جن کے وسائل وہاں کا سرمایہ دار طبقہ فراہم کر تا ہے۔ صدیوں سے ایسے ٹرسٹ قائم ہیں جن کا سود ہی ان جامعات کو چلانے کے لیے کافی ہے۔ نوبل پرائز بھی ایک ایسے ہی سرمایہ دار کی نشانی ہے۔

یہ سرمایہ دار علمی اورثقافتی اداروں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی حکومتیں بھی اس میں معاون ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی اقدار کے بارے میں حساس ہیں۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ یہاں کی حکومتیں اس باب میں سنجیدہ ہیں اور نہ سرمایہ دار۔ ان کے مقاصد قلیل ہیں اورذہنی سطح پست۔ آج ایک باخبر کالم نگار نے لکھا کہ افتخار عارف صاحب کوادارہ فروغ قومی زبان کی صدر نشینی سے ہٹا دیا گیا۔ یہ فیصلہ بتا رہا ہے کہ حکومتی سطح پرفیصلے کن بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں۔

سرمایہ دار کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ایک طرف ناجائز منافع خوری کرتا ہے اور دوسری طرف ان گروہوں کو وسائل فراہم کر تا ہے جو فی الجملہ تہذیب اور معاشرہ دونوں کے لیے ضرررساں ہیں۔ وہ تہذیب کے مطالبات سے با خبر ہے نہ معاشرتی ضروریات سے۔ یوں وہ سماجی جمود میں حصہ دار ہے، سماجی ارتقا میں نہیں۔ یہ ہے وہ بنیادی فرق جو مغرب اور ہمارے معاشرے کے درمیان ہے۔ اس لیے سرمایہ دارانہ نظام دو مقامات پر دو مختلف نتائج دے رہا ہے۔

ایک بند معاشرے میں سماجی ارتقا ممکن نہیں۔ جہاں ریاست اور روایتی معاشرتی طبقات آزدی رائے پر پابندی کے باب میں ہم آہنگ ہو جائیں وہاں نئی سوچ جنم نہیں لے سکتی۔ پھرنئے افکار کا گزر ہو تا ہے نہ دادِ تحقیق ہی دی جاسکتی ہے۔ اعلیٰ درجے کی فلمیں بنتی ہیں نہ اشتہارات۔ اعلیٰ درجے کے علما اور سکالرپیدا ہوتے ہیں نہ سیاست دان۔ زرخیز دماغ ایسی سرزمین سے کوچ کر جاتے ہیں اور معاملات پست ذھبی سطح کے لوگوں کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں۔
کسی قوم پر جب یہ حادثہ گزر جائے تو وہ ایک شعبے کو متاثر نہیں کرتا۔ اس کے اثرات ہمہ گیر ہوتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں