برطانیہ: امداد میں تاخیر سے عورتیں جسم فروشی پر مجبور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ سیکس ورکر

Getty Images
برطانیہ میں ایسی عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو یونیورسل کریڈٹ کے اجرا میں تاخیر کی وجہ جسم فروشی پر مجبور ہو رہی ہیں، خیراتی ادارے

برطانوی حکومت کی جانب سے کم آمدنی والے شہریوں کو دی جانے والی مالی امداد کے نظام میں اصلاحات کی وجہ سے کئی خواتین جسم فروشی پر مجبور ہو رہی ہیں۔

برطانیہ کی موجودہ کنزرویٹو حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں رائج فلاحی نظام میں اصلاحات کرتے ہوئے یونیورسل کریڈٹ نامی نظام متعارف کروایا تھا۔

انگلینڈ میں پانچ خیراتی اداروں نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک میں ایسی عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو یونیورسل کریڈٹ کے اجرا میں تاخیر کی وجہ سے جسم فروشی پر مجبور ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

برطانیہ میں جنسی استحصال پر خاموشی کیوں؟

گیارہ فیصد برطانوی مرد سیکس خریدتے ہیں

رکن پارلیمنٹ فرینک فیلڈ نے دارالعوام میں تقریر کرتے ہوئے حکومت کی توجہ اس مسئلے کی طرف دلائی۔ حکومت نے جواب میں کہا کہ کسی شہری کو یونیورسل کریڈٹ سسٹم کی وجہ سے پریشانی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔

لیورپول کے علاقے سے تعلق رکھنے والی جولی نے بتایا کہ ا س نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ زندگی میں کبھی جسم فروشی پر مجبور ہوں گی۔

جولی نے، جو اُن کا اصلی نام نہیں ہے، ریڈیو فور کو بتایا کہ یونیورسل کریڈٹ کی ادائیگی میں آٹھ ہفتوں کی تاخیر نے انھیں جسم فروشی پر مجبور کیا۔’میں اتنی مجبور تھی کہ جب مجھے سیکس کے عوض 30 پاونڈ کی پیشکش ہوئی تو میں نے اسے قبول کر لیا۔’

جولی نے کہا:’میں یہ تسلیم کرتے ہوئے انتہائی شرمندہ ہوں کہ میں رقم کے لیے ایک شخص کے ساتھ سوئی۔’

جولی کہتی ہیں کہ وہ اتنی مجبور تھیں کہ وہ خوراک کے لیے مفت خوراک کے مراکز فوڈ بینکوں سے مدد لینے پر مجبور تھی۔ ‘میں نے زندگی کبھی اس صورتحال کا سامنا نہیں کیا تھا۔ میں بہت بری طرح پھنسی ہوئی تھی’۔

ممبر پارلیمنٹ فرینک فیلڈ نے نادارعورتوں کے جسم فروشی پر مجبور ہونے کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا تو انھیں ایک حکومتی وزیر ایستھر میکوی نے کہا کہ فرینک فیلڈ کو چاہیے کہ وہ اس عورت کو بتائیں کہ ملک میں آٹھ لاکھ تراسی ہزار ملازمتیں موجود ہیں۔’

سیکس ورکر

Getty Images
امداد میں تاخیر کی وجہ سے جسم فروشی کی طرف مائل ہونے والی خواتین کی اکثریت اکیلی ماؤں کی ہے

ملک میں متعارف کرائے گئے یونیورسل کریڈٹ سسٹم کے نقادوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو امداد کے لیے ہفتوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

جولی کو اب یونیورسل کریڈٹ مل رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر انھیں امداد نہیں ملے گے تو ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہو گا اور وہ سڑکوں پر ہوں گی۔

‘ٹومارو ویمن ورل’ نامی خیراتی ادارے سے تعلق رکھنے والی اینگلا مرفی نے کہا کہ جولی اکیلی ایسی عورت نہیں ہے جو یونیورسل کریڈٹ کی وجہ سے جسم فروشی پر مجبور ہو رہی ہے۔

‘ یہ بہت عام کہانی ہے۔ امداد کی فراہمی میں تعطل انتہا کا ہے۔ آپ کیسے گذارہ کر سکتے ہیں۔’

کہا جاتا ہے کہ ایسی عورتیں جو امداد میں تاخیر کی وجہ سے جسم فروشی کی طرف مائل ہو رہی ہیں وہ مائیں ہیں اور اکثر اکیلی مائیں ہیں۔

یونیورسل کریڈٹ کیا ہے

یونیورسل کریڈٹ اس امداد کو کہتے ہیں جو برطانوی حکومت کی جانب اپنے شہریوں کو چائلڈ ٹیکس کریڈٹ، ہاؤسنگ بینیفٹ، انکم سپورٹ، جاب سیکرالاؤنس اور ورکنگ ٹیکس کریڈٹ کو ایک جگہ اکٹھا کر کے ادا کی جاتی ہے۔’

یونیوسل کریڈٹ ایسے لوگوں کو ملتا ہےجن کی آمدن ایک مخصوص سطح سے کم ہوتی ہے یا وہ بیروزگار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10730 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp