کابل: ’عید میلاد النبی کے اجتماع میں خودکش دھماکہ، 43 افراد ہلاک‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کابل

EPA

افغانستان میں حکام کے مطابق دارالحکومت کابل میں مذہبی علما کے اجتماع میں خودکش دھماکے سے کم از کم 43 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس دھماکے میں 83 افراد زخمی بھی یوئے ہیں۔ علما کابل کے ہوائی اڈے کے قریب واقع یورینس شادی ہال میں پیغمبر اسلام کی یوم ولادت کی تقریب کے لیے جمع تھے۔

یہ کابل میں حالیہ مہینوں میں ہونے والے شدید ترین حملہ ہے۔

تاحال اس دھماکے کی ذمہ داری کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔

ہال میں کیا ہوا؟

بتایا گیا ہے کہ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت ہال میں ایک ہزار کے قریب افراد موجود تھے۔

کابل پولیس کے ترجمان باصر مجاہد کا کہا ہے کہ ’اسلامی علما اور ان کے پیروکار عید میلاد النبی کے موقع پر قرآن کی آیات کی تلاوت کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیں!

افغان انتخابات: پولنگ کے دن کم از کم 28 افراد ہلاک

کابل میں انڈین شہری سمیت تین غیر ملکیوں کا قتل

دو افغان سیکورٹی افسران ہلاک، امریکی کمانڈر بال بال بچ گئے

حکام کے مطابق خودکش بمبار داخل ہونے کے بعد اجتماع کے مرکزی حصے میں پہنچا جہاں اس نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔

دینیات کے لیکچرر محمد حنیف کا کہنا تھا کہ دھماکہ کان پھاڑ دینے والا تھا اور ’ہال میں ہر کوئی مدد کے لیے پکار رہا تھا۔‘

جائے وقوعہ سے موصول ہونے والی تصاویر میں خون سے لتھڑے اور پھٹے ہوئے کپڑے، ٹوٹے ہوئے نیچے اور بکھرا ہوا سامان دیکھا جا سکتا ہے۔

مقامی ٹی وی چینل 1ٹی وی نیوز کے وزارت صحت کے حوالے سے بتایا کہ 24 افراد شدید زخمی ہیں۔

کابل

EPA

ردعمل عمل کیا رہا؟

افغان صدر اشرف غنی نے اس ’دہشت گرد حملے‘ کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے بدھ کو قومی سوگ کا اعلان کیا ہے اور اس دوران قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے بھی اس دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے بھی ’دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی’ کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار افسوس کیا ہے۔

https://twitter.com/UNAMAnews/status/1064900918578212864

دھماکے کا ذمہ دار کون؟

افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ، جسے دولت اسلامیہ خراسان کا نام بھی دیا جاتا ہے، نے اس قسم کے حالیہ بیشتر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اگست میں کابل میں ہی ہونے والے دو حملوں کی ذمہ داری اس نے قبول کی تھی جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اکتوبر میں پارلیمانی انتخابات کے دوران بھی ملک بھر میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب افغان طالبان نے بھی اپنے حملے جاری رکھے ہیں تاہم ان کا زیادہ تر نشانہ سکیورٹی فورسز رہے ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان زبیع اللہ مجید نے منگل کو ہونے والے دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16111 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp