ٹی وی کا عالمی دن: ’موبائل جتنا بھی عام ہو جائے لیکن ٹی وی دیکھنے کا اپنا مزہ ہے‘

اظہار اللہ - بی بی سی پشتو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان

Getty Images
سوشل میڈیا کو ٹی وی کے لیے بڑا خطرہ گردانا جاتا ہے۔

’موبائل فون اور انٹرنیٹ کا استعمال جتنا بھی زیادہ کیوں نہ ہو لیکن پھر بھی ٹی وی کی جگہ نہیں لے سکتا۔ گھر میں ٹی وی کہ اہمیت خاندان کے ایک فرد کی طرح ہے۔‘

یہ کہنا تھا پشاور کے رہائشی محمد احتشام کا۔ احتشام پشاور کے صدر بازار میں ایک ٹی وی کی دکان میں اپنے بھائی کی شادی کے لیے تحفے کے طور پر ٹی وی خریدنے آئے تھے۔

وہ دکاندار سے مختلف ٹی وی سیٹ کی قیمتوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔

انھوں نے ایک ہاتھ میں پکڑے سمارٹ فون کی طرف دیکھ کر بی بی سی کو بتایا کہ یہ موبائل جتنا بھی عام ہو جائے لیکن ٹی وی دیکھنے کا اپنا ایک مزہ ہے۔

’ٹی وی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ اپنی فیملی اور بچوں کے ساتھ کوئی پروگرام دیکھ کر اپنے آپ کو اینٹرٹین کر سکتے ہیں جبکہ موبائل بہت ہی ذاتی چیز ہے۔‘

دنیا بھر کی طرح آج پاکستان میں ٹی وی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ ٹی وی کی افادیت اور اس کے عوامی مسائل کے بارے میں آگاہی کا ایک اہم ذریعہ ہونے کی وجہ سے اقوام متحدہ نے 1997 میں 21 نومبر کو ٹی وی کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔

ٹی وی چینلز کا رجحان پاکستان میں بھی بہت پرانا ہے۔ پاکستان میں سنہ 2000 سے پہلے صرف سرکاری چینل پی ٹی وی یا ایک دو نجی چینلز تھے لیکن 2001 میں حکومت نے بڑی تعداد میں پرائیوٹ ٹی وی چینلز کو لائسنس دینا شروع کر دیے۔

ابھی پاکستان میں لگ بھگ 80 کے قریب پرائیوٹ چینلز ہیں جس میں زیادہ تر کی نشریات 24 گھنٹے کی ہیں۔

‘خریدار کم ہو گئے ہیں’

پشاور کے صدر بازار میں گذشتہ آٹھ سال سے ٹی وی سیٹ بیچنے کے کاروبار سے وابستہ فرحان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹی وی سیٹ خریدنے کے گاہکوں میں کمی آئی ہے۔

ان کے مطابق جب سے سمارٹ فونز اور بالخصوص فور جی انٹرنیٹ آیا ہے ٹی وی کے گاہکوں پر اثر ضرور پڑا ہے۔

’لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ٹی وی خریدنے والے ختم ہوگئے ہیں۔ اب بھی بہت لوگ خریدنے آتے۔ کرکٹ کے عالمی مقابلوں کے دنوں میں خریداروں میں پھر اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ٹی وی کے خریداروں کی موجودگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ موبائل فونز زیادہ تر سوشل میڈیا کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ان کے بقول بہت سارے ایسے پروگرام جو ٹی وی پر دکھائے جاتے ہیں وہ یا تو انٹرنیٹ سپیڈ کی کمی کی وجہ سے یا وہ علاقے جہاں انٹرنیٹ نہیں ،موبائل پر نہیں دیکھے جا سکتے۔

پاکستان

Getty Images
’اب بھی بہت لوگ خریدنے آتے۔ کرکٹ کے عالمی مقابلوں کے دنوں میں خریداروں میں پھر اضافہ دیکھنے کو ملتا ہیں۔’

کیا اب بھی لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کا زمانہ آگیا ہے تو ابھی ہر ایک شخص کے ہاتھ میں ہی ٹی وی سیٹ موجود ہے۔

گیلپ پاکستان کی 2017 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی لوگ دن میں اوسطً 117 منٹ ٹی وی دیکھتے ہے۔

تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2008 کے مقابلے میں ٹی وی دیکھنے کا دورانیہ کم ہو گیا ہے۔ سال 2008 میں ایک پاکستانی اوسطً دن میں 162 منٹ ٹی وی دیکھتا تھا۔

اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں ٹی وی کو زیادہ وقت دیتی ہیں۔

پشاور کی ایک یونیورسٹی کے طالب علم ملک یاسین دن کے چوبیس گھنٹوں میں تقریباً 6 گھنٹے سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر وقت وہ فیس بک استعمال کر کے گزارتے ہیں لیکن پھر بھی رات نو بجے کا خبرنامہ ٹی وی پر ضرور دیکھتے ہیں۔

’ٹی وی کی خبریں جب دیکھتا ہو تو ایسا لگتا ہے کہ یہ واقعی خبریں ہیں اور ان پر میرا اعتماد بھی ہوتا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر اکثر جعلی خبریں لوگ شیئر کرتے ہیں۔‘

سوشل میڈیا کو ٹی وی کے لیے بڑا خطرہ گردانا جاتا ہے۔ اس بارے میں پشاور کے صحافی اور تجزیہ کار صفی اللہ گل کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینلز کو اب اپنے آپ کو سوشل میڈیا کے ساتھ انٹیگریٹ کرنا ہوگا۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب تک انٹیگریشن نہیں ہو گی تو ٹی وی دیکھنے والوں میں کمی ضرور آئے گی کیونکہ اب لوگوں کے پاس وقت اتنا نہیں ہوتا کہ وہ بڑی سکرین کے سامنے بیٹھ کر ٹی وی دیکھ سکیں۔‘

‘میں سمجھتا ہوں سمارت فونز اور ٹی وی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی زیادہ تر ٹی وی ہی کا مواد شئیر کیا جاتا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں ٹی وی کو ضرور سوشل میڈیا پر موجود ہونا چاہیے جہاں لوگ خبروں کو شئیر کرتے ہیں، کمنٹس اور اپنا فیڈ بیک دیتے ہیں۔`

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16111 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp