سعودی عرب امریکہ کا ایک ثابت قدم پارٹنر ہے: ٹرمپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹرمپ اور سلمان

Reuters
وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان ہاتھ ملاتے ہوئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے لیے عالمی طور پر مذمت کے باوجود سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے رشتوں کا ایک مرتبہ پھر دفاع کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی مملکت ‘ایک ثابت قدم پارٹنر’ ہے جس نے امریکہ میں ‘ریکارڈ رقم’ کی سرمایہ کاری پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے یہ اعتراف کیا کہ شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان کو بہت حد تک خاشقجی کے قتل کے بارے میں معلومات حاصل تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

خاشقجی کے قتل کی آڈیو ٹیپ نہیں سنوں گا: ٹرمپ

خاشقجی قتل: ’امریکہ نے ابھی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا‘

امریکہ نے 17 سعودی شہریوں پر پابندی عائد کر دی

انھوں نے مزید کہا: ‘بہر حال ہمارا رشتہ مملکت سعودی عربیہ سے ہے۔’

خیال رہے کہ خاشقجی کا قتل دو اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی عرب کے قونصل خانے میں ہوا تھا۔

سعودی عرب نے اس کا الزام جرائم پیشہ افراد پر عائد کیا ہے اور اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس کا علم شہزادہ ولی عہد کو تھا۔

جبکہ امریکی میڈیا میں یہ خبر آئي کہ امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے کا خیال ہے کہ محمد بن سلمان نے اس قتل کا حکم دیا تھا۔

لیکن صدر ٹرمپ کے بیان میں یہ کہا گيا کہ ‘ایسا بہت حد تک ممکن ہے کہ اس المناک واقعے کا علم شہزادہ ولی عہد کو رہا ہو۔ شاید وہ جانتے ہوں اور شاید نہیں بھی۔’

بعد میں منگل کو انھوں نے کہا کہ سی آئی اے نے قتل کے متعلق صد فیصد تعین نہیں کیا ہے۔

اتوار کو فوکس نیوز کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں صدر نے کہا کہ انھوں نے ترکی کی جانب سے خاشقجی کے قتل کی فراہم کردہ ریکارڈنگ سننے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ وہ ‘تکلیف دہ ٹیپ’ ہے۔


آنے والے برسوں میں گہرا سایہ

دارالحکومت ریاض سے ہماری بین الاقوامی نامہ نگار لیز ڈوسٹ نے کہا کہ یہ سعودیوں اور بطور خاص سعودی رہنماؤں کے لیے راحت کی سانس ہے۔ لیکن یہ وہی ہے جس کی انھیں توقع تھی اور جو انھوں نے ہمیشہ صدر ٹرمپ کے لیے کہا ہے کہ وہ مملکت کے حقیقی دوست ہوں گے۔

طرفین اس بڑے بحران اور اس پر اٹھنے والے عالمی رد عمل کے تحت خط کھینچنا چاہیں گے۔ لیکن جیسا کہ صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا اور سعودی جانتے ہیں کہ یہ معاملہ جلد جانے والا نہیں ہے۔ کم از کم امریکی کانگریس میں بہت سے لوگوں کے ساتھ بہت سے دوسرے لوگوں جن میں وہ ممالک بھی شامل ہیں کے لیے یہ معاملے جانے والا نہیں جو اس کے متعلق مزید وضاحت کا مطالبہ کریں گے۔

بہت سے سعودی کہتے ہیں کہ انھیں اس بات پر یقین نہیں کہ ملک کے حقیقی حکمراں شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان نے ایسے نفرت انگیز عمل کا حکم دیا ہوگا۔ بہت سے لوگ جو اپنے ملک کو ترقی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں وہ اس قتل سے ہل کر رہ گئے ہوں کے اور انھیں ڈر ہے کہ اس کا گہرا سایہ آنے والے کئی برسوں تک چھایا رہے گا۔

ایک نمایاں سعودی شہری نے کہا کہ ‘اس سے سعودی عرب دس قدم پیچھے چلا گيا ہے۔’


دریں اثنا صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر لنڈسے گراہم نے اس معاملے پر سعودی عرب اور مناسب شاہی افراد کے خلاف پابندیاں لگانے کے متعلق کانگریس کے اراکین کے دو خیموں میں مضبوطی کے ساتھ تقسیم کی پیش گوئی کی ہے۔

بیان میں کیا کہا گیا ہے؟

ایران کے خلاف امریکہ کے اتحادی کے طور پر سعودی عرب کو کھڑا کرنے سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا: ‘یہ دنیا بہت ہی خطرناک جگہ ہے!’

اس میں کہا گیا کہ سعودی عرب نے ‘ریڈیکل اسلامی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عربوں ڈالر خرچ کیے’ جبکہ ایران نے ‘سارے مشرق وسطی میں بہت سے امریکیوں اور دوسرے معصوم لوگوں کا قتل کیا۔’

مائک پومپیو

EPA
امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے صدر کے بیان کی حمایت کی ہے

بیان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری اور اسلحہ خریدنے کے عہد پر بھی زور دیا گیا۔ اس میں مزید کہا گیا: ‘اگر ہم بے وقوفی میں ان معاہدوں کو منسوخ کر دیتے ہیں تو اس کا بہت بڑا فائدہ روس اور چین کو ہوگا۔’

جمال خاشقجی کے قتل کو ‘ہولناک’ قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ان کی موت کے بارے میں ‘شاید ہم لوگ تمام حقائق سے کبھی باخبر نہ ہو سکیں۔’

‘امریکہ اپنے ملک، اسرائیل اور خطے میں دوسرے اتحادیوں کے مفادات کی یقین دہانی کے لیے سعودی عرب کا پکا اور مضبوط پارٹنر رہنا چاہتا ہے۔’

بعد میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے ارجنٹائن میں جی -20 کے اجلاس میں محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے بشرطیکہ شہزادہ ولی عہد اس میں شرکت کر رہے ہوں۔

وزیر خارجہ مائک پومپیو نے اپنے صدر کی حمایت کی ہے اور ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوشوغلو سے ملاقات کے بعد کہا کہ ‘دنیا بہت خراب اور بے رحم ہے’ اور صدر ٹرمپ ‘ایسی پالیسی لینے کے لیے ممنون ہیں جس سے امریکہ کی قومی سلامتی میں مدد ملتی ہے۔’

مسٹر چاوشوغلو نے کہا کہ اس معاملے پر سعودی عرب کی جانب سے تعاون اس سطح پر ‘نہیں ہے جہاں ہم چاہتے ہیں۔’

دوسری جانب ڈیموکریٹک سینیٹر ڈیانے فیئنسٹین نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس بات سے صدمے میں ہیں کہ صدر ٹرمپ محمد بن سلمان کو خاشقجی کے ‘سوچے سمجھے قتل’ کے لیے سزا نہیں دینے جا رہے ہیں۔


‘امریکہ فرسٹ’ کی روح

واشنگٹن میں بی بی سی کے سینیئر نمائندے اینتھونی زرچر نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسرے قسم کے صدر ہیں اور اس کا اظہار ان کی خارجہ پالیسی سے زیادہ کسی اور جگہ نہیں ہوتا اور یہ جائے حیرت بھی نہیں۔ جمال خاشقجی کی موت پر ان کا بیان نہ صرف ان کی دو ٹوک زبان بلکہ کئی وجوہات کے سبب اہم ہے۔

‘صدر تیزی کے ساتھ موضوع کو ایران کی جانب موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ محمد بن سلمان کے قتل کے حکم کی رپورٹ کو شاید ہاں اور شاید نہیں کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں۔ وہ سعودی کی جانب سے 450 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور اسلحے کی خریداری کے معاشی اثرات کی مثال دیتے ہیں حالانکہ ابھی تک یہ زیادہ تر کاغذی پیمان تک ہی ہے۔’

‘ان کی سب سے بےتکی بات ان کا یہ کہنا ہے کہ سعودی خاشقجی کو ‘ملک کا دشمن’ اور اخوان المسلمون سے رشتہ رکھنے والا مستقل امریکی شہری سمجھتے تھے۔’

صدر ٹرمپ نے ‘امریکہ فرسٹ’ یعنی سب سے پہلے امریکہ کے اپنے تناظر کو اس کی روح تک اپنایا ہے۔ اخلاقیات اور عالمی قیادت کو متصور امریکی معیشت اور فوجی سکیورٹی کے پس پشت ڈال دیا گيا ہے۔


بیان بین الاقوامی سطح پر کیسا رول ادا کرے گا؟

بی بی سی کے صفارتی نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہےکہ مشرق وسطی اور اس کے ماورا کیا حاصل ہوگا یہ سنگین مسئلہ ہے۔

ہمارے نامہ نگار نے کہا کہ اس خطے میں امریکہ کی پالیسی دو اہم افراد، سعودی عرب کے محمد بن سلمان اور اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو، سے اس قدر شیر و شکر ہے کہ اس کا ایک آزاد پنچ کے طور پر خطے میں کیا کردار ہوگا یہ سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے تنگ اور مفاد پرست رویے سے مغرب میں واشنگٹن کے اتحادی مزید ناامید ہوں گے اور اس سے موسکو اور بیجنگ والوں کو قوت ملے گی جو پہلے سے ہی بین الاقوامی امور میں ‘پہلے روس’ اور ‘پہلے چین’ کا راگ الاپ رہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے صدر ٹرمپ کے بیان کو ‘شرمناک’ قرار دیتے ہوئے اس پر اپنے غصے کو اس طرح ٹویٹ کیا:

‘صدر ٹرمپ نے سعودی مظالم پر اپنے شرمناک بیان کا پہلا پیراگراف انتہائی بھونڈے پن کے ساتھ ایران پر ہر قسم کے ناجائز الزام جو وہ سوچ سکتے ہیں ڈالنے کے لیے صرف کیا۔ شاید ہمیں کیلیفورنیا کی آگ کے بھی ذمہ دار ہیں کیونکہ ہم نے جنگل کو اکٹھا کرنے میں مدد نہیں کی — جیسا کہ فن لینڈ والے کرتے ہیں؟’

https://twitter.com/JZarif/status/1064951977174581249

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16111 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp