نئے پاکستان کا نیا خواب


خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں بلکہ یہ تو وہ واحد چیز ہے جس پرکبھی پابندی نہیں لگی۔ 71سال سے ہم خواب ہی تو دیکھ رہے ہیں اور دیکھتے دیکھتے ملک تقسیم ہوگیا او پھر ایک نئے پاکستان کا خواب دکھایا گیا جس میں روٹی، کپڑا اور مکان ملنا تھا، اب چالیس سال بعد پھر ایک ’’نیا پاکستان‘‘ بننے جارہا ہے، دیکھیں ان پانچ سالوں میں کتنا بنتا ہے، اس مرتبہ خوابوں کو کوئی تعبیر ملے گی یا پھر ایک نیا خواب۔

آج پھر ہمیں خوشحال پاکستان کی نوید سنائی جارہی ہے، بس تھوڑی سی قربانی مانگی جارہی ہے اور وہ بھی ان سے جن کے پاس اس لفظ ’’قربانی‘‘ کے سوا کچھ ہے بھی نہیں۔ ان 71سالوں میں یہ مخلوق (کچھ اور نہ سمجھ لینا)  جس کا نام ’’عوام‘‘ ہے یا تو قربانی دیتی ہے یا خواب دیکھتی ہے جان کی قربانی بھی دی، مال کی بھی اور وقت کی بھی، اب دینے کو بچا کیا ہے، اس مخلوق کے پاس ،جب بھی اس نے جاگنے کی کوشش کی اپنی سمت کا تعین کرنے کی کوشش کی، اسے ایک نیا اور سنہرا خواب دکھاکر سلادیا گیا۔

شاید ان خوابوں نے ہی ہمیں قوم بننے نہیں دیا کیونکہ قوم بننے کے لئے خوابوں کی دنیا سے باہر آنا پڑتا ہے، جب بھی قوم نے جاگنے کی کوشش کی تو ایک نیا خواب دکھاکر سلا دیا گیا، آہستہ آہستہ ہم تقسیم ہوتے چلے گئے، لسانیت میں، فرقہ واریت میں، قوم پرستی میں اور یہ سب اس لئے ہوا کہ قائد اعظم اور قائد ملت کے بعد ریاست اپنی سمت کا فیصلہ ہی نہ کرپائی کہ یہ ملک Rule of law پر چلے گا یا مارشل لا سے.

بدقسمتی سے کوئی رہنما ہی نصیب نہیں ہوا کیونکہ نہ تو ہم نے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کیا اورنہ ہی جمہوریت کو آگے بڑھنے دیا، کبھی بنیادی جمہوریت کے ذریعہ تو کبھی غیر جماعتی جمہوریت کے ذریعہ اپنے ’’من پسند‘‘ رہنما بنائے اور جو اس کی راہ میں رکاوٹ بنا وہ یا تو پھانسی چڑھا یا سرعام مارا گیا۔

احتساب بھی اس ملک میں ایک خواب ہی رہا ، کبھی 313افسران کونکال کر تو کبھی 1400،مقصد کرپشن کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک کھیپ کو نکال کر دوسری کو لانا اور اپنے مقاصد کے لئے کام کرانا، پھر نعرہ لگا ’’پہلے احتساب پھر انتخاب‘‘ اور اس بنیاد پر ایک آمر 11سال حکومت کرکے چلا گیا.

بدقسمتی سے ’’نظام مصطفیٰؐ‘‘ کی تحریک چلانے والوں نے حکومت کو بٹھانے کے بعد آمریت پر مٹھائی تقسیم کی۔جمہوریت لانے والے بھی خواب دکھاتے رہے اور اس کا بستر گول کرنے والے بھی، احتساب کا نعرہ لگانے والوں نے سیاست کو ہی کرپٹ کردیا۔

نظریاتی سیاست کی جگہ تجارتی سیاست نے لے لی، بعد میں اپنے ’’من پسند‘‘ سیاستدان بھی ناپسند ہو گئے کیونکہ انہوں نے سوال کرنے شروع کردیئے تھے، ایک کے بعد ایک حکومت اس لئےنہیں گھر بھیجی گئی کہ وہ کرپٹ تھی بلکہ کرپشن کے ذریعہ تو وزیراعظم لائے اور نکالے گئے، ان سے ناراضی یہ رہی کہ انہوں نے لانے والوں کی بات نہیں مانی.

اب چاہے وہ جنیوا معاہدہ ہو یا کارگل پھر ایک آمر آیا اور اس نے روشن خیال پاکستان کا خواب دکھایا اور ’’سب کا احتساب‘‘ کا یقین دلایا، جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ یہ معاملہ کچھ اور ہے جس نے اس کا ساتھ دیا وہ مسٹر کلین کہلایا، کچھ سالوں بعد لوگ پھر سڑکوں پر نکل آئے اس بار ’’آزاد عدلیہ‘‘ کے خواب کے چکر میں، ایک ایسی تاریخ بدلنے نکل پڑے جو آمریت کو تحفظ دینے سے بھری پڑی ہے، اسی تحریک میں ایک اور خواب دکھایا گیا کہ

’’ریاست ہوگی ماں کے جیسی‘‘

اسی دوران میڈیا پرپابندی لگی تو ہم بھی آزاد میڈیا کے تحفظ کے لئے نکل پڑے، شاید عامل صحافیوں کی تاریخ تحریکوں سے بھری پڑی ہے۔

آمر گیا اور الیکشن ہوئے تو ہم اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ جمہوریت آگئی ہے اور اب یہ خواب نہیں حقیقت ہے، مگر تین مسلسل الیکشن کے بعد بھی اصل جمہوریت ایک خواب ہی لگتی ہے، اگر یقین نہ آئے تو کسی پارک یافٹ پاتھ پر سوئے ہوئے غریب کےقریب جاکر سنیںوہ خواب میں کیا باتیں کررہا ہوتا ہے۔

آج میں پھر ایک نئے پاکستان کا خواب دیکھ رہا ہوں، سوتے میں کوئی قریب آکر مجھ سے کہہ رہا ہے کہ ’’گھبرانے کی ضرورت نہیں اب پاکستان بدل گیا ہے، بڑے چور پکڑے جائیں گے، جیل جائیں گے، سزا ہوگی، لوٹی ہوئی دولت واپس آئے گی، سرکاری اسکول اور اسپتال نجی اسکولوں اور اسپتالوں جیسے ہوں گے، پولیس اور سول سروس غیر سیاسی ہوگی‘‘ خواب دیکھتے ہوئے میری آنکھوں میں ایک چمک آئی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ توبیگم نے کہا، کیا خواب دیکھ رہے ہو ٹی وی پر ٹکر چل رہا ہے کہ گیس مہنگی ہوگئی ہے، بجلی بھی اور سی این جی بھی۔

تیار ہوکر دفتر کے لئے باہر نکل کردیکھا تو سڑک دھرنے والوں نے بند کی ہوئی تھی، دوسرے راستے پر پیٹرول پمپ تک پہنچا تو پیٹرول نایاب ،گاڑی پریس کلب میں کھڑی کرکے رکشہ میں دفتر کے لئے روانہ ہوا تو رکشے والے کا غصہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا، کہنے لگا ’’مظہر صاحب‘‘، آپ کو سنتا رہتا ہوں ذرا فواد چوہدری سے تو معلوم کریں کہ بھائی چوری کس نے کی، دولت کوئی لوٹ کرلے گیا ہےمگروصولی گیس، بجلی اور سی این جی کی قیمتیں بڑھاکر ہم سے کی جارہی ہے۔

میں نے اسے تسلی دی کہ ابھی تو اسے آئے دو یا تین ماہ ہوئے ہیں، خرابی کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا، جواب نے مجھے لا جواب کردیا، کہنے لگا ہمارے والد بھی ہمیں ایسے ہی خواب دکھاتے چلے گئے اور آج میں انٹر پاس ہونے کے باوجود رکشہ چلا رہا ہوں، ان حکمرانوں سے کہیں ہمیں خواب نہ دکھائیں حقیقت بیان کریں۔

روٹی کپڑا اور مکان کے لئے بھٹو مرحوم نے دبئی کا راستہ دکھایا اور لاکھوں لوگوں نے باہر جاکر نوکری کی، اب سنا ہے پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکری ملےگی، ’’نئے پاکستان‘‘ میں، اگر ایسا ہوتا ہے تو پانچ سال کیا دس سال حکومت کرو، شاید ہم اپنے بچوں کو خوابوں سے باہر لاکر کچھ حقیقتیں بھی دکھا سکیں، کب تک ایک دوسرے کو زبان ومذہب کے نام پر قتل کرتے رہیں ۔

اب دیکھتے ہیں ان پانچ سالوں میں نئے پاکستان کا خواب دیکھنے والے نوجوانوں کی زندگی میں تبدیلی آتی ہے یا پھر ایک اور نئے پاکستان کا خواب، اگر موقع ملے تو کتابWhy Nations Fail ضرور پڑھئے گا اس میں خواب نہیں حقیقتیں بیان کی گئی ہیں کہ قومیں ناکام کیوں ہوتی ہیں۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں