فضول خرچی کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عقلمند اس لئے لب کشائی کرتا ہے کہ اس کے پاس کہنے کو کچھ ہوتا ہے جبکہ بے وقوف اس لئے منہ کھولتے ہیں کہ انہیں کچھ کہنا ہوتا ہے۔ (افلاطون)

ممکن ہے خاموش رہنے پر بے وقوفی کا شبہ ہو مگر یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ آپ بولیں اور سب شکوک و شہبات دور ہو جائیں۔ (ابراہم لنکن)

دنیا بھر کے دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ سب سے بڑا فاتح وہی ہے جو زبان کے سرکش گھوڑے کو سُدھانے میں کامیاب ہو جائے۔ یوں تو ہر شعبہ ہائے زندگی سے منسلک افراد کے لئے الفاظ کا چنائو نہایت اہم ہوتا ہے مگر قیادت کی تنی ہوئی رسی پر چلنے والوں کے لئے تو الفاظ کے انتخاب کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خار زارِ سیاست میں قدم رکھنے والوں کو پہلا سبق یہی دیا جاتا ہے کہ زبان کے سرکش گھوڑے کی لگام ڈھیلی نہ ہونے دیں کیونکہ چرچل کے بقول سیاست کا عمل بھی قریباً جنگ جیسا ولولہ انگیز اور خطرناک ہے۔ جنگ میں آپ صرف ایک بار مرتے ہیں اور رزق خاک ہو جاتے ہیں مگر سیاست میں آپ کو بار بار موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جس طرح جنگ میں گھوڑے کو بے لگام چھوڑ دینے والا سوار عبرتناک شکست کے قریب تر ہو جاتا ہے اسی طرح سیاست کے میدان میں وہ شہسوار منہ کے بل گرتا ہے جو زبان کے گھوڑے کی طنابیں ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے۔ سیاستدانوں کا وصف یہ ہے کہ وہ کم بولتے ہیں، جہاں ایک لفظ سے کام چلتا ہو، وہاں جملہ ضائع نہیں کرتے اور جہاں ایک فقرے سے ضرورت پوری ہو جائے وہاں تقریر جھاڑنے کی حماقت نہیں کرتے۔

موجودہ دور میں تو کم گوئی اور سوچ سمجھ کر بولنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ میرے بیان کو تروڑ مروڑ کا شائع کیا گیا۔ الیکٹرونک میڈیا کا دور ہے، ٹی وی چینلز فوراً کلپنگ نکال کر دکھا دیتے ہیں کہ آپ نے چند برس قبل کیا کہا تھا۔

انسان خود تو مر جاتا ہے لیکن اس کے الفاظ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں مثلاً ذوالفقار علی بھٹو جن کا شمار صف اول کے سیاستدانوں میں ہوتا ہے، اگرچہ اپنے الفاظ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرتے تھے مگر ان کے چند جملے آج بھی ان کا تعاقب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے ڈھاکا میں اسمبلی کا اجلاس بلائے جانے پر دھمکی دی کہ جس نے اس میں شرکت کی، میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا۔ اِدھر ہم، اُدھر تم کا جملہ لاکھ وضاحتوں کے باوجود پیچھا نہیں چھوڑتا۔

جذبات کی روانی میں انہوں نے کہا: اگر مجھے قتل کر دیا گیا تو ہمالیہ خون کے آنسو روئے گا مگر یہ جملہ طنز و استہزا کا استعارہ بن گیا۔ ضیاء الحق نے کسی صحافی کے سوال پر جھنجھلا کر کہہ دیا: آئین ہے کیا شے، چند صفحات کی ایک دستاویز جسے میں جب چاہوں پھاڑ کر پھینک دوں۔

ضیاء الحق خود تو دنیا سے رخصت ہو گیا مگر اس کا یہ جملہ آج بھی سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔ نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے نوے کی دہائی میں ایک دوسرے کیخلاف جو زبان استعمال کی، اسے چارٹر آف ڈیمو کریسی کی لحد میں اتار دیا گیا مگر یہ گڑا مردہ پھر بھی باہر نکل کر واویلا کرنے سے باز نہیں آتا۔

پرویز مشرف کے دور میں بلوچوں سے بہت ناانصافیاں ہوئیں، کئی آپریشن ہوئے لیکن ڈکٹیٹر کا ایک جملہ بندوقوں کی گولیوں سے زیادہ مہلک ثابت ہوا کہ یہ ستر کی دہائی نہیں کہ یہ پہاڑوں پر چڑھ جائینگے، ہم انہیں وہاں سے ماریں گے جہاں سے انہیں پتا بھی نہیں چلے گا۔

آصف زرداری کا شمار پاکستان کے کایاں ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے زبان بندی اور خاموشی کو اپنی طاقت بنایا اور لب کشائی کے معاملے میں ہمیشہ بہت محتاط رہے۔ جب سیاسی مخالفین کی کڑوی کسیلی باتوں کا حوالہ دیا جاتا تو وہ کوئی جواب دینے کے بجائے بات کو ہنس کر ٹال دیتے لیکن ججوں کی بحالی سے متعلق ان کے منہ سے ایک جملہ نکل گیا کہ وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے اور یہ جملہ انکے ناقدین کا کام آسان کر گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف جوشِ خطابت میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں اور پھر انکے بڑے بھائی وضاحتیں دیتے رہ جاتے ہیں۔ یوں تو انکے بیشمار جملے بدنامی کا باعث بنے لیکن جو زبان انہوں نے پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں منتخب صدر کے حوالے سے استعمال کی، وہ آج بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

مثلاً وہ ان پر علی بابا چالیس چور کی پھبتی کستے رہے۔ انہوں نے کہا تھا، اگر میں نے آصف زرداری کو لاہور کی سڑکوں پر نہ گھسیٹا تو میرا نام شہباز شریف نہیں۔

بعض اوقات سیاستدانوں سے سہواً ایسی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے شیخ رشید کے بارے میں کہا تھا کہ اس کو تو میں اپنا چپراسی بھی نہ رکھوں لیکن آج وہی شیخ رشید ان کی کابینہ میں وزیر ریلوے ہیں۔ انہوں نے چوہدری پرویز الٰہی کو ’’پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو‘‘ کہا لیکن آج وہ ان کے اتحادی اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ہیں۔

اس طرح کے معترضہ جملے اور ناپسندیدہ بیانات کم و بیش ہر سیاستدان سے منسوب ہیں اور سب کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ بالعموم غیر محتاط سیاستدان بھی حکومت میں آنے کے بعد ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گفتگو کے حوالے سے محتاط ہو جاتے ہیں۔

وزیراعظم بننے سے پہلے ’’اوئے نواز شریف، اوئے افتخار چوہدری‘‘ تو عمران خان کا طرزِ تخاطب تھا ہی لیکن سربراہ حکومت کی حیثیت سے توقع تھی کہ وہ اپنی زبان کے سرکش گھوڑے کو لگام دینگے لیکن بظاہر یوں لگتا ہے کہ انہوں نے اس گھوڑے کی طنابیں مزید ڈھیلی کر دی ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران جس فراوانی سےوہ متنازع الفاظ کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں، اسے سیاسی نادانی کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔

کاش! وہ حلف اٹھانے کے بعد شاہ محمود قریشی سے ہی کچھ سیکھ لیتے۔ کاش! کوئی شخص انہیں چرچل کی بات یاد دلاتا کہ نازیبا الفاظ نگل لینے سے آج تک کسی کا معدہ خراب نہیں ہوا۔ کاش! وہ یہ سمجھ سکتے کہ زبان کسی تیز دھار آلہ کے مثل ہے، ماہر سرجن کے پاس ہو تو نشتر اور اگر اناڑی کے پاس ہو تو خنجر۔

کاش وہ کبھی فرصت کے لمحات میں غور کریں کہ کتنے ہی باصلاحیت اور عظیم قائد زبان کے سرکش گھوڑے کو بے لگام چھوڑنے کے باعث منہ کے بل گر چکے ہیں۔ پرانے پاکستان میں وزیراعظم کی پرچیوں اور لکھی ہوئی تقریر کی بھد اڑائی جاتی تھی مگر نئے پاکستان میں فی البدیہہ تقریریں سن کر احساس ہوتا ہے کہ لکھی ہوئی گفتگو کی جگ ہنسائی زبانی تقریر کی رسوائی سے کہیں بہتر ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ بہت کفایت شعار ہیں مگر تعجب ہے بولنے کے معاملے میں وہ اس قدر فضول خرچ کیوں واقع ہوئے ہیں۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

محمد بلال غوری

بشکریہ روز نامہ جنگ

muhammad-bilal-ghauri has 95 posts and counting.See all posts by muhammad-bilal-ghauri