دھرنے کے وہ تین دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور میں مولوی خادم حسین رضوی نے دھرنا دیا تھا، اسی دن صبح سویرے میرے دو بیٹے اپنے کالج کی انتظامیہ کی نگرانی میں سیروتفریح کے لیے ایبٹ آباد کے لیے گھر سے نکلے۔ ان کے ساتھ دوسرے طالب علموں کے علاوہ اساتذہ اور گارڈ بھی موجود تھے۔
شاید اسی لیے میری طرح سب والدین نے بخوشی اپنے بچوں کو اجازت دے دی کہ وہ تین روز کے لیے اپنے دوستوں کے ساتھ نئی نئی ملی آزادی کا محدود سا لطف اٹھا سکیں۔ جب پندرہ سولہ سال کے بچوں کا یہ گروپ ایبٹ آباد پہنچا تو انہیں پتا چلا کہ اب لاہور سے کوئی آ سکتا ہے نہ کوئی جا سکتا ہے۔
تین روزہ پروگرام کے مطابق ان کی واپسی کا وقت ہوا تو بھی لاہور کی وہی صورتحال تھی کہ کوئی شہر میں آ پا رہا تھا‘ نہ یہاں سے نکل پا رہا تھا۔ موٹر وے پر گاڑیاں جلائی جارہی تھیں ، شہر کے مختلف حصوں میں تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد کچھ ٹولیاں نکلتیں اور کچھ جلا کر یا توڑ کر منتشر ہو جاتیں۔
میرا گھر شہر کے مضافات میں ہے جہاں اس طرح توڑ پھوڑ تو نہیں ہو رہی تھی لیکن مجھے نہر کنارے بنی سڑک سے ہوتے ہوئے دفتر آنا ہی ہوتا تھا۔ ان دنوں میں شہر کی یہ واحد سڑک تھی جو مکمل طور پر کھلی ہوئی تھی لیکن یہاں سے گزرتے ہوئے دھڑکا لگا رہتا تھا کہ نجانے کب کوئی نعرے لگاتی ہوئی ٹولی یہاں سے گزرتی گاڑیوں کو دیکھ کر اشتعال میں آ جائے اور یہ سڑک بھی بند ہو جائے۔
دھرنے کے پہلے دو دن تک میری رہائش کے علاقے میں موبائل فون کام کر رہے تھے مگر شہر کے اندر ان کی حیثیت جیب میں رکھے پتھر سے زیادہ نہیں تھی۔ کہیں انٹرنیٹ میسر آ جاتا تو کسی سے رابطہ ہو جاتا ورنہ ہر طرف خاموشی تھی۔
اس ماحول میں تیسرے دن مجھے میرے بچوں کی طرف سے پیغام ملا کہ راستے بند ہونے کی وجہ سے کالج انتظامیہ نے انہیں ایبٹ آباد میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے؛ البتہ سب بچوں کے پاس پیسے ختم ہو چکے ہیں‘ اس لیے انہیں کچھ پیسے بھیج دیے جائیں۔ میں نے انہیں پیسے بھیجنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ شہر بھر میں موبائل فون بند ہو چکے ہیں اس لیے پیسے بھیجنا بھی ممکن نہیں۔
وہ تو بھلا ہو پنجاب کالج والوں کا کہ انہوں نے کسی طریقے سے کچھ انتظام کیا اور بچوں کو بروقت کھانا مہیا کر دیا لیکن یہ سلسلہ کب تک چلنا تھا، کوئی کچھ نہیں جانتا تھا۔
وزیر اعظم عمران خان چین کے دورے پر تھے اور پنجاب حکومت پر نالائقی کا غلبہ تھا۔ سو ہر طرح کی حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی بلکہ لیٹی ہوئی تھی اور چند سو لوگوں نے پورا شہر یرغمال بنا رکھا تھا۔ ان دنوں میں بار بار یہ خیال آتا کہ اگر دس دس افراد کی ٹولیاں ہی ہماری ریاست کو مفلوج کر سکتی ہیں تو کیا ہمیں ریاست کہلانے کا حق بھی حاصل ہے یا نہیں؟
ایک صحافی کے طور پر مجھے دھرنوں کا بخوبی علم ہے۔ میں نے اسلام آباد میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کا دھرنا بھی دیکھا ہے اور خادم حسین رضوی کا فیض آباد کا دھرنا بھی دیکھا ہے۔ لاہور اور پنجاب میں اس وقت جو کچھ ہو رہا تھا وہ دھرنا نہیں تھا بلکہ کچھ اور تھا۔ یہ مکمل انارکی سے صرف ایک قدم پہلے کا مقام تھا۔
ذرا تصور فرمائیے کہ عربی حلیہ بنائے ہوئے ایک شخص باقاعدہ کیمرے پر اعلان کر رہا تھا کہ ملک کے کون کون سے شہر مکمل طور پر بند کیے جا چکے ہیں۔ اس کا انداز بتا رہا تھا وہ کسی مذہبی یا جمہوری احتجاج کا حصہ نہیں بلکہ قابض طاقتوں کا نمائندہ ہے جو مفتوحہ علاقوں میں کرفیو کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا رہا ہے کہ کوئی گھر سے باہر نکلا تو نتائج کا ذمہ دار خود ہو گا۔
دنیا کے کمزور ترین ملک کی کمزور ترین حکومت کے سامنے بھی کوئی شخص کوئی جواز بنا کر پرچی پر لکھا ہوا یہ اعلان پڑھے تو اسے بغاوت تصور کیا جاتا ہے مگر اس وقت لاہور میں کوئی حکومت تھی نہ حکمران، بس بنامِ اسلام بلوہ کرنے والے تھے جنہوں نے مال روڈ کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنا رکھا تھا‘ اور ریاست ان کے سامنے کنیز کی طرح جھکتی چلی جا رہی تھی۔ میں ایک بے بس مجبور شخص اپنے دو بچوں کو ان کی اور اپنی مرضی کے خلاف گھر سے دور رکھنے پر مجبور تھا۔
میرا سب سے چھوٹا بیٹا کہنے کو نو سال کا ہے مگر اس کی ذہنی عمر فقط چار مہینے ہے۔ یہ بچہ ہمارے گھر کی روشنی ہے۔ مسکراتا ہے تو ہم سب ہنستے ہیں، اسے ذرا سی تکلیف پہنچے تو درد ہمیں ہوتی ہے۔ زندگی سے اس کا ناتہ جوڑے رکھنے کے لیے چند مخصوص دوائیں اسے دن میں تین بار دی جاتی ہیں۔
ہم معمول کے مطابق اس کی ہفتے بھر کی دوا لے آتے ہیں اور ختم ہونے سے ایک دن پہلے مزید ایک ہفتے کی دوا لے آتے ہیں۔ جب لاہور میں یہ سہ روزہ طوائف الملوکی شروع ہوئی تو یہ ٹھیک وہی دن تھا جب اس کی دوائیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ زندگی اور موت اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ انسان اذیتوں کا خالق خود ہی ہے۔
اسے وقت پر دوا نہ ملے تو اس کے ہاتھ پاؤں مڑنے لگتے ہیں اور کسی بھی باپ کی طرح میرے لیے بھی اس سے بڑی بے بسی کوئی نہیں کہ وہ تکلیف سے تڑپ رہا ہو اور میں کچھ نہ کر سکوں۔ میری حالت یہ تھی کہ دیوانہ وار اس کی دوائیاں ڈھونڈ رہا تھا مگر شہر سائیں سائیں کر رہا تھا۔
میڈیکل سٹور اگر کھلے تھے تو ان میں دوائیاں چند گھنٹوں بعد ہی کم ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ بھاگ دوڑ کر کے اس کے لیے دو دن کی دوائی کا بندوبست کیا تو اس کی ماں نے اگلا سوال کیا، ”دو دن بعد کیا ہو گا؟‘‘ میں ایک لاچار شخص تھا‘ جو بہادری کا نقاب اوڑھے ایک بیمار بچے کی ماں کو جھوٹی تسلی دے رہا تھا۔
اس نے مجھ سے ایبٹ آباد میں پھنسے ہوئے بچوں کے بارے میں پوچھا تو میں نے کچھ کہنے کی بجائے ٹی وی لگا لیا۔ میر ے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ میں کر بھی کیا سکتا تھا، ایک میں ہی کیا، ان دنوں تو میری ریاست بھی میری طرح ٹی وی لگائے ہی تو بیٹھی تھی۔
جب مولوی حضرات ملک کو بند کرنے کے درپے تھے اور قریب تھا کہ اگلے مرحلے میں سرکاری دفاتر پر قبضہ کرنا شروع کر دیتے کہ اسلام آباد میں مولانا سمیع الحق قتل ہو گئے۔
اس قتل کی تہہ میں کیا ہے اس کا ابھی تک علم نہیں مگر یہ طے ہے کہ ان کے قتل نے حالات کو ایسا رخ دیا کہ حکومت جو ریت میں سر دبائے ہوئے تھی ذرا جاگی اور پنجاب کے دس کروڑ لوگوں کو ان صاحبوں کی قید سے آزاد کرایا جو اپنی گالم گلوچ اور ناقابل اشاعت زبان کی سند کے لیے بھی مذہبی حوالہ دینے سے نہیں چوکتے۔
جب مولوی حضرات حکومت و ریاست کی ناک مال روڈ پر رگڑوا کر اپنے اپنے حجروں میں تشریف لے گئے تو بظاہر حالات معمول پر آ گئے۔ میرے دونوں بیٹے خیریت سے گھر لوٹ آئے، چھوٹے بیٹے کی دوا بھی ملنے لگی۔ شہر اور صوبہ‘ دونوں زندگی کی طرف لوٹ آئے۔
مگر یوں لگ رہا تھا کہ اب اس زندگی کی ڈور ہر اس زبان آور شخص کے ہاتھ میں ہے جو اپنے چند مصاحبین کے ساتھ مال روڈ پر بیٹھ کر اسے کاٹ سکتا ہے۔ لاہور، پنجاب بلکہ پورا پاکستان خوفزدہ ہو چکا تھا۔ ہر کوئی جانتا تھا کہ وہ جب چاہیں گے ہمیں ایک بار پھر یرغمال بنا لیں گے اور حکمران حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے حیلے بہانے سے سرکاری خرچے پر کوئی مذہبی جشن برپا کرکے خود کو اسلام پسند ثابت کرنے لگیں گے۔ ہ
م مایوسی اور خوف کی کہر میں بھی شاید جی ہی لیتے مگر لگتا ہے کہ ریاست کو عقل آنے لگی ہے۔ اس نے آخرکار ہمت کرکے ان لوگوں پر ہاتھ ڈالا ہے جن کے منہ کو عوام کی آزادی کا خون لگ چکا ہے۔
اگرچہ نقص امن کے اندیشے کے تحت تیس روزہ گرفتاری ہرگز ان کے جرائم کی سزا نہیں‘ لیکن ابھی اتنا بھی کافی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ملک کو تگنی کا ناچ نچایا ہوا تھا، مگر ریاست کی معمولی سی جنبش نے ان کی طاقت کا بھرم کھول دیا ہے۔ خوف مکمل طور پر ختم نہیں ہوا‘ مگر امید کی ایک کرن بہر طور چمکی ہے۔
بشکریہ دنیا
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •