سبریمالا مندر میں جانے سے پہلے مسجد کا طواف لازمی


بھارت کی ریاست کیریلہ میں واقع سبریمالا مندر میں ہر سال کالی لنگی پہنے ہزاروں کی تعداد میں یاتری بھگوان ایپپا کے نام کی مالا چبتے تاترا پر جاتے ہیں لیکن اس یاتر کا اہم جز مندر کے راستے میں واقع ایک مسجد کا طواف ہے جس کے بغیر یہ یاترا مکمل نہیں ہوتی۔

سبریمالا مندر حالیہ دنوں میں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کا موضوع رہا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے اس مندر میں دس سے ساٹھ سال کی درمیانی عمر کی خواتین کے داخلے پر پابندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس ہر عمر کی عورتوں کے لیے کھولنے کا حکم دیا تھا۔

مندر تک پہنچنے کے طویل اور صبر آزما سفر کے دوران بھگوان ایپا کے عقدیت مند کم سے کم خوراک استعمال کرتے ہیں اور جنسی ملاپ سے بھی مکمل طور پر پرہیز کرتے ہیں۔

سبریمالا مندر سے ساٹھ میل کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس میں عقدیت مندوں کے لیے قیام کرنا یاترا کا لازمی حصہ ہے۔ اس قصبے میں مسجد جس کا نام واورا ہے عقدیت مند اس مسجد میں بڑی عقیدت اور احترام سے داخل ہوتے ہیں۔ اس مسجد کا طواف کرنے کے بعد یہ یاتری اپنے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔

یہ یاتری مسجد میں اپنی رسوم ادا کرتے ہیں اور اس دوران اگر مسجد میں نماز ادا کی جا رہی ہو تو اس میں کوئی خلل نہیں ڈالا جاتا۔ مسجد کے گرد طواف کی رسم گزشہ پانچ سو سال سے جاری ہے۔ یاترا کے جلوس میں ہاتھی بھی شامل ہوتے ہیں جنہیں مذہبی عقدیت کے ساتھ سجا جاتا ہے وہ مسجد کے دورازے تک جاتے ہیں جس کے بعد انھیں قریب ہی واقع دو مندروں میں باندھ دیا جاتاہے۔

مسجد کی کمیٹی سبریمالا مندر سے اپنے اس رشتے کو بہت اہمیت دیتی ہے اور اس تہوار کو مقامی طور پر چندن کم کم کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ارومالائی میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں اور سبریمالا کے پہاڑی راستوں پر ہندو یاتری اکثر تھک کر مسلمانوں کے گھروں میں آرام کی غرض سے ٹھہر جاتے ہیں۔

واورا اس علاقے میں ایک صوفی بزرگ گزرہیں جو بھگوان ایپا کا احترام کرتے تھے۔ یہ بات پورے علاقے میں اس قدر پھیل گئی کہ ان کی مسجد میں قیام ایپا کے یاتریوں کے لیے لازمی قرار دے دیا گیا۔

سبریمالا مندر

Getty Images

واورا کی مسجد کے بارے میں اور بہت سی روایتیں مشہور ہیں لیکن تاریخی طور پر ان کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔ بحیرہ عرب کے راستے اس علاقے میں بہت سے صوفی بزرگ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کے لیے آتے رہے ہیں اور لوگوں کا کہنا ہے کہ مسجد میں ان صوفی بزرگ کی تلوار بھی موجود ہے۔ اس تلوار کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ سب جنگجو تھے۔

اس بارے میں کسی کوئی شبہہ نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ بھگوان ایپا سے عقیدت رکھتے تھے۔

سبریمالا کا مندر بارہویں صدر عیسویں میں پنڈل سلاطین کے دور میں تعمیر کیا گیا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 7203 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp