جوہی کے پانی چور اور احتجاج کے سو دن


سندھ کے ضلع دادو میں ملکی ذخائر سے مالامال جوہی میں جوہی برانچ پر حکمران پارٹی کے زور آور وڈیروں سرداروں اور ان کے وانٹھوں کے ہاتھوں نہری پانی پر دن دہاڑے ڈاکے کیخلاف متاثرین آبادگاروں کی طرف سے مسلسل احتجاج کو بھی اتنے ہی دن ہونے کو ہیں جتنے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو ہونیوالے ہیں۔

یہ احتجاجی چھیاسی دن جوہی میں اور گزشتہ سولہ دنوں سے کراچی پریس کلب کے سامنے دھرنا دئیے ہوئے ہیں۔ ان میں مرد بھی ہیں، عورتیں اور بچے بھی۔

یہ آبادگار اور ہاری ہیں جو جوہی اور کاچھو کے علاقے کے بے تاج یا باتاج بادشاہ ایک سیاسی رہنما، اس کے بھائی اور ان کے قبیلے کے ان لوگوں کے خلاف جو جوہی کے مشرق میںبالائی علاقے سےبادشاہت بناکر بیٹھے ہوئے ہیں اور جوہی برانچ کی پوچھڑی یا زیریں علاقے کے غریب آبادگاروں اور کسانوں کے حصے کا پانی بزور طاقت اور بندوق چرائے ہوئے ہیں۔

میں نے کل شب کراچی احتجاجیوں اور علاقے کے لوگوں سے ٹیلیفون پر بات چیت کی انکا کہنا ہے کہ جوہی برانچ کے بالائی حصے میں با اثر لوگوں اور انکے حواری جگہ جگہ ٹریکٹروں، لفٹ مشینوں (لفٹرز)، پائپوں کے ذریعے پانی زبردستی لوٹ کر اپنی زمینوں پر لے کر جا رہے ہیں۔ جس سے پوچھڑی یا زیریں علاقے جو کہ نو میلوں پر مشتمل ہیں،تک پانی نہ پہنچنے سے ان کی زمینیں اور خود جوہی برانچ کا نچلا حصہ وسیع علاقے میں خشک اور ویران ہو چکا ہے۔

متاثرہ زمینوں کے آبادگاروں کے احتجاج و اعتراضات کرنے پر فائرنگ کر کےان کو بھگا دیا جاتا ہے۔ دادو کنال کی جوہی برانچ میں پانی پر ڈاکے کا یہ سلسلہ دو ہزار آٹھ سے بلا کسی روک ٹوک کے جاری ہے۔

جب سے سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے۔ متاثرہ علاقے کے لوگ الزامات لگاتے ہیں گزشتہ دو سالوں سے آبپاشی انجینئر اور ایس ڈی او مارے خوف کے علاقے میں یا جوہی برانچ پر نہیں آر ہے۔ آبپاشی کے بنگلے اورعمارات جو کہ ایک طرح کا قومی ورثہ ہیں، ان پر بھی بااثر حکمران پارٹی کے وڈیروں نے قبضے کرلئے ہیں۔

نو کلومیٹر پر مشتمل اس علاقے میں پانی کی چوری سے ڈیڑھ لاکھ نفوس متاثر ہوئے ہیں۔ ان متاثرین کی فصل خراب اور مویشی مر چکے، پوچھڑی سے نہر کی برانچ ایک خشک جوہڑ میں تبدیل ہوچکی۔ علاقہ اور نہر کوئی ویرانی سی ویرانی ہے کی تصویر بنے یہ بتاتے ہیں گویا یہاں کوئی جنگ ہوئی تھی۔

بوند بوند پانی کو ترستے لوگ بچے بوڑھے عورتیں بتاتے ہیں کہ یہ جوہی نہیں کوئی صحرا ہے۔ یہ لوگ انصاف کیلئے ہر بڑے چھوٹے وزیر کبیر، سرکاری ادارے، آبپاشی کے چیف انجینئر، سیکرٹری ہر جگہ گئے ہیں(یہاں تک کہ گورنر کے پاس بھی) لیکن اپنے حصے کے پانی پر ڈاکہ نہیں رکوا سکے۔ نہ ہی با اثر لوگ جوہی برانچ کی صفائی اور کھدائی کرانے دیتے ہیں اور کھدائی کی مد میں مختص کی ہوئی رقم حکمران پارٹی کےبعض با اثر لوگ خود ہضم کر گئے ہیں جس کا اعتراف خود متعلقہ چیف انجینئر نے بھی کیا ہے۔

ایک با اثر وڈیرے کی چاول کی فصل سات کروڑ میں بکی ہے۔ اگر پوچھڑی کے حصے میں پانی کا نہ آنا ماحولیاتی مسئلہ یا قدرتی آفت ہوتاہوتو پھر وڈیرےکی چاول کی فصل سات کروڑ میں کیسی بکی؟

متاثرہ علاقے کےلوگ سوال کرتے ہیں۔ پہلے یہ بااثر لوگ چوری کرتے تھے اب ڈاکہ ڈالتے ہیں، ایک احتجاجی شہری کا کہنا تھا۔آخر کار متاثر آبادگاروں اور انکےحمایتیوں اور ہمدردوں چاہے جوہی شہر کے عام شہریوں اور باشعور حلقے نے جوہی برانچ میں حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والے انتہائی با اثر اور مسکین عوام یا شریف شہریوں کیلئےخوفناک بنے وڈیروں کی طرف سے پانی پر ڈاکے کے خلاف احتجاج اور دھرنے کی ٹھانی۔

وہ چھیاسی دنوں تک جوہی شہر میں احتجاج جاری رکھے ہوئے تھے لیکن انکی کسی نے بھی نہ سنی اور نہ ہی کہیں شنوائی ہوئی۔ جوہی فنڈ نگ این جی اوز کی جنت ہے لیکن یہ نام نہاد سول سوسائٹی بھی متاثرین کی حمایت کو نہیں نکلی کیونکہ انکے فنڈ ڈپٹی کمشنر جاری کرتا ہے اور ڈپٹی کمشنر ظاہر ہے کہ سرکاری پارٹی کے منتخب نمائندے کے زیربار ہوتا ہے۔

علاقے کے پرانے سیاسی کارکن اور متاثر آبادگار غلام قادر المعروف’’شینہیں‘‘ (شیر) رند کی قیادت میں پانی پر ڈاکے کے متاثرین چھیاسی دنوں تک جوہی میں احتجاج کرنے کے بعد اب گزشتہ ایک ہفتے سے کراچی پریس کلب کے سامنے فٹ پاتھ پر احتجاج کررہے ہیں۔

سندھ کے حکمرانو!سندھو دریا پر ڈیم کی مخالفت تو بڑی بات ہے،پہلے اپنے پڑوسیوں اور علاقے میں جوہی برانچ کی پوچھڑی کے آبادگاروں کو تو اپنی پارٹی کے وڈیروں سرداروں اور انکے وانٹھوں کے ڈاکے سے بچاکر ان مساکین کی زمینوں تک پانی پہنچائو۔

بچوں کا عالمی دن اور عریشہ اقبال

کراچی کے لیاقت آباد میں نہ توکوئی حکومتی پارٹی کا سردار بیٹھا ہے نہ وڈیرہ۔ اور نہ ہی اسکول ان کی بھینسوں کے باڑےاور نہ کچھ استاد اور استانیاں ان کے منشی یا وانٹھے پھر کیوں پرائمری اسکول کی بچی پر استانی نے تشدد کر کے اس کے ہاتھ زخمی کردئیے۔ لیاقت آباد کا پرائمری اسکول وہ بھی بابائے اردو مولوی عبدالحق کے نام پر وہاں گرلز ایلیمنٹری اسکول کلاس ٹیچر نے معصوم طالبہ عریشہ اقبال کو ہوم ورک کر کے نہ آنے پر لوہے کی راڈ سے اس بچی کے ہاتھوں پر شدید ضرب پہنچائیں۔

ہوا یہ کہ ان اسکولوں میں تعلیمی سال شروع ہونے پر نیا کورس اسکول مہیا کرتا ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے نیا کورس مہیا نہیں کیا گیا۔ کچھ بچیوں کو پرانے کورس کی کتابیں مہیا کی گئیں۔ بچی کے والدین نے مجھے فون پر بتایا کہ باوجود بچی کی وضاحت کرنے پر ٹیچر نے تشدد کیا۔

اگست سے اب تک بچی کے والدین اپنی بچی کیساتھ ہونیوالے تشدد کی دادرسی کیلئے رل رہے ہیں۔ الٹا بجائے داد رسی کےان کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ یہاں بھی تو شہری وڈیرے ہیں کہ یہ اسکول حکومتی نہیں بلدیہ کے کنٹرول میں ہے۔گزشتہ ہفتے بچوں کا عالمی دن تھا۔

گھر سے مسجد ہے بہت دور مگر یوں کرلیں

کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

(ندا فاضلی)

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں