نوازشریف، ایئر مارشل کی رفاقت سے جیلانی کابینہ تک


گزشتہ ”جمہور نامہ‘‘ میں، عملی سیاست میں نوازشریف کی آمد کا حوالہ کئی دوستوں کے لیے دلچسپ انکشاف تھا، جو یہ سمجھتے رہے تھے کہ یہ جنرل جیلانی تھے جن کی انگلی تھام کر لاہور کے صنعت کار خاندان کا نوجوان اس کُوچے میں آیا۔ بعض احباب کو کئی بھولے بسرے واقعات یاد آئے۔
ان میں کراچی کے سینئر جرنلسٹ (اور ہمارے برادرِ بزرگ) نصیر احمد سلیمی بھی تھے۔ انہیں جاوید ہاشمی کا انتخابی جلسہ یاد آیا جس میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض نوجوان نوازشریف ادا کر رہا تھا۔ یہ 1977ء کے (دھاندلی والے) انتخابات تھے جن میں لاہور کے ایک حلقے سے جاوید ہاشمی پی این اے کے امیدوار تھے۔ نصیر سلیمی کراچی سے لاہور آئے ہوئے تھے۔
جناب الطاف حسن قریشی اور ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی تین سال قید کی سزا بھگت رہے تھے (بھٹو دور میں ان کی دوسری قید)۔ اس سے پہلے وہ 1972ء میں بھی حوالۂ زنداں ہوئے۔ یہ بھٹو اقتدار کا آغاز تھا، یحییٰ خان سے ورثے میں ملنے والا مارشل لاء جاری تھا اور قریشی برادران کے ساتھ شامی صاحب کو بھی مارشل لاء عدالت نے ایک ایک سال قید، ایک ایک لاکھ روپے جرمانے اور ان کے جرائدکے ڈیکلریشن کی منسوخی کی سزا سنائی تھی۔ ترقی پسند حسین نقی اور ان کے رسالے ”پنجاب پنچ‘‘ کے پرنٹر مظفر قادر بھی اسیرانِ بلا میں شامل تھے۔
قریشی برادران کو تین سال کی یہ (دوسری) سزا، تاج پورہ المیہ پر پریس ایڈوائس کی خلاف ورزی پر سنائی گئی تھی۔ یہ لاہور میں پنجاب اسمبلی کے حلقہ 6 میں ضمنی انتخاب کا معرکہ تھا۔ غلام مصطفیٰ کھر پیپلز پارٹی سے ترکِ تعلق کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں تھے اور اپوزیشن بھٹو کے باغی کی پشت پر آن کھڑی ہوئی تھی۔
شمالی لاہور کے تاجپورہ گرائونڈ میں یہ بہت بڑا انتخابی جلسہ تھا، جس پر ”امن وامان کے ذمہ دار‘‘ قہر بن کر ٹوٹ پڑے، فائرنگ، آنسو گیس، لاٹھی چارج… ہم ان دنوں پنجاب یونیورسٹی لا کالج کے طالب علم تھے اور ”تماشائی‘‘ کے طور پر یہاں موجود تھے۔ بھگدڑ میں ایک بار تو ہم نے بھی موت کو سامنے پا کر، کلمہ پڑھ لیا تھا۔
جاں بحق ہونے والوں کی تعداد درجنوں میں تھی (زخمیوں کا کوئی شمار نہ تھا) سرکاری پریس ایڈوائس میں اس حوالے سے ایک سطر کی اشاعت بھی ممنوع قرار پائی۔ قریشی برادران نے اردو ڈائجسٹ میں اس المیے کی پوری کہانی (مع تصاویر) چھاپ دی اور تین سال کیلئے جیل چلے گئے۔
شامی صاحب نے ”چالاکی‘‘ یہ کی کہ رپورٹ کے چار صفحے اپنے ہفت روزے میں الگ سے رکھ دیئے۔ جناب مجید نظامی کا اصرار تھا کہ پریس ایڈوائس تحریری طور پر بھجوائی جائے اور انہوں نے اس ایڈوائس ہی کو خبر بنا دیا۔
نصیر سلیمی صاحب قریشی برادران سے خاص نیاز مندی کے باعث، ان کے اہل خانہ کی خیریت دریافت کرنے سمن آباد آ ئے۔ یہاں جاوید ہاشمی کا انتخابی جلسہ بھی تھا، جس میں نوجوان نواز شریف سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ سلیمی صاحب ایک بار اسلام آباد سے لاہور کی پرواز میں جاوید ہاشمی کے ہم سفر تھے۔ انہیں یاد ہے کہ ایئر پورٹ پر ہاشمی صاحب کو لینے کے لیے نواز شریف اپنی گاڑی میں موجود تھے۔
یہ بھٹو اقتدار کا عہدِ شباب تھا، جب نواز شریف نے بڑے میاں صاحب (مرحوم) کی اجازت (یا ہدایت) پر عملی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے ان کا انتخاب ایئر مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال تھی، جنہیں قائدِ عوام اپنا دشمن نمبر ایک سمجھتے تھے۔
نوجوان نواز شریف کو اپنے لیڈر (اور پارٹی) کے لیے کسی بھی ایثار و قربانی سے گریز نہ ہوتا۔ ایئر مارشل اصغر خان کی کتاب ”My Political Struggle‘‘ میں متعدد جگہ نواز شریف کا ذکر بھی ہے (یہ 1975 سے 2002 تک ایئر مارشل کی روزانہ لکھی جانے والی ڈائریوں کا مجموعہ ہے) بعض دلچسپ واقعات میں، وہ واقعہ بھی شامل ہے، جب لاہور کے ایک حلقے سے خورشید محمود قصوری اور نواز شریف، دونوں پارٹی ٹکٹ کے امیدوار تھے۔
اس ”تنازعہ‘‘ کے حل کے لیے ایئر مارشل نے خود اس حلقے سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ نواز شریف کوایک دوسرے حلقے سے ٹکٹ مل گیا اور خورشید قصوری صوبائی سیٹ پر چلے گئے۔ شریف فیملی کا ریلوے روڈ پر آبائی گھر، ایئر مارشل صاحب کا مرکزی دفتر بن گیا۔
ایک اور ملاقات کا دلچسپ احوال: ضیاء الحق کی طرف سے 16 اکتوبر 1979 کے ا نتخابات کے التوا کے ساتھ سیاسی جماعتوں پر پابندی اور سیاسی لیڈروں کی نظر بندی کا حکم بھی آ گیا (یہ انتخابات کا دوسرا التوا تھا) ایئر مارشل ایبٹ آباد میں اپنے گھر پر نظر بند تھے کہ 24 دسمبر 1979ء کو نوازشریف کا فون آیا کہ وہ اگلے روز انہیں ملنے آئیں گے۔ ایئر مارشل نے سب مارشل لا ایڈمنسٹریٹر سے اس ملاقات کی اجازت لے لی۔
25 دسمبر کو نوازشریف، بیگم صاحبہ اور بچوں کے ساتھ آئے۔ یہ ان کی سالگرہ کا دن تھا۔ مہمان (اور ان کے اہل خانہ) کے لیے یہاں لنچ کا اہتمام بھی تھا۔ یوسف ہارون ان دنوں امریکہ سے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ نوازشریف نے بتایا کہ یوسف ہارون گزشتہ روز ان سے ملے تھے، ان کے بقول وہ جنرل ضیاء الحق کی دعوت پر آئے ہیں اور ان سے متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ ضیاء الحق ”اچھے لوگوں‘‘ پر مشتمل اپنی پارٹی بنانے کا سوچ رہے ہیں۔
وہ ولی خاں، شیر باز مزاری اور میرے (ایئر مارشل کے) متعلق بہت اعلیٰ رائے رکھتے ہیں۔ میں نے نوازشریف سے کہا کہ یوسف ہارون دس سال سے ملک سے باہر ہیں، وہ ضیاء الحق کو کیا ایڈوائس دیں گے۔ جہاں تک ولی خاں کا تعلق ہے، وہ تو پہلے ہی ضیاء الحق کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور کچھ عرصہ پہلے الیکشن ملتوی کرنے کا مشورہ بھی دے چکے ہیں، لیکن وہ کھلم کھلا ضیاء الحق کے ساتھ اشتراک نہیں کریں گے۔
میرے خیال میں تو ضیاء الحق ابھی میرے ساتھ (یا سیاسی عناصر کے ساتھ) ڈائیلاگ پر بھی آمادہ نہیں۔ تاہم ہو سکتا ہے کہ وہ جلد ہی آمادہ ہو جائے۔ وقت اس کے خلاف ہے اور وہ وقت زیادہ دور نہیں جب اس کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔ ضروری نہیں کہ میری نظر بندی سے وہ زیادہ عرصہ فائدہ اٹھا سکے۔ ہم ہمیشہ اصولوں پر قائم رہے ہیں اور ان اصولوں کو اب کیسے ترک کر سکتے ہیں، جن کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کرتے آرہے ہیں۔
”مائی پولیٹکل سٹرگل‘‘ میں اس واقعہ کا بھی ذکر ہے جب نوازشریف (28 مارچ 1981ء کو) ایبٹ آباد میں اپنے گھر پر نظر بند ایئر مارشل سے ملنے کے لیے آئے۔ وہ اپنے لیڈر سے جنرل جیلانی کی (صوبائی) حکومت میں شمولیت کی ”اجازت‘‘ لینے آئے تھے۔ ان کی بیگم امینہ اصغر خاں سے ملاقات ہوئی جن کا مشورہ تھا کہ وہ یہ غلطی نہ کریں۔ اگلے روز (29 مارچ کو) وہ بیگم صاحبہ سے دوبارہ ملے۔ وہ کنفیوز تھے اور نہیں جانتے تھے کہ کیا کریں، لیکن لگتا تھا کہ وہ حکومت میں شامل ہو جائیں گے۔
اور اب ”کلامِ شاعر بزبانِ شاعر‘‘۔ جنرل جیلانی کی کابینہ میں شمولیت کی کہانی، خود میاں نوازشریف کی زبانی: ”جنرل اقبال کے ساتھ میرے بڑے اچھے مراسم تھے۔ وہ بھٹو صاحب کی حکومت میں لاہور کے کور کمانڈر بھی رہے (جب پی این اے کی تحریک چل رہی تھی) ان کی دوستی بریگیڈیئر قیوم صاحب سے تھی، جن کی جنرل جیلانی سے گہری دوستی تھی۔ انہوں نے کابینہ میں شمولیت کے لیے میرا نام بھی دے دیا۔ اس وقت میں جیلانی صاحب کو جانتا تک نہیں تھا۔
سہیل وڑائچ کی کتاب ”غدار کون‘‘؟ میں نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کا ایک خاص کردار ( نہ چاہتے ہوئے بھی) پاکستان میں موجود رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا بھی جنرل ایوب خان سے تعلق تھا، وہ اس کی کابینہ میں رہے، ایک وزیر کے طور پر ابھرے اور جانے پہچانے گئے۔ اس کے بعد ان کا اپنا سیاسی کردار شروع ہوتا ہے۔
اس طرح اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار کہا جائے تو شاید کوئی بھی اس سے مبرا نہیں ہو سکتا۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ کسی شخص کا وقت آنے پر انفرادی طور پر کیا کردار رہا؟ اس سے اندازہ لگائیں کہ اس کی سوچ کیا ہے؟ جمہوریت کے بارے میں اس کے دعوے اور نظریات کیا ہیں اور یہ بھی کہ عملی طور پر وہ کیا ہے؟ زور اس چیز پر دینا چاہیے کہ بالآخر اس نے کیا کردار ادا کیا؟
بشکریہ دنیا
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں