لائق بچوں کو ناکام کرنے کا ذمہ دار کون؟


وہ انٹر کلاس کے پہلے درجہ میں سائنس کا طالبعلم تھا۔ باپ چونکہ ایک عسکری ادارے میں افیسر رینک سے ریٹائرڈ تھا لہذا تعلیم کے اخراجات نسبتا بہت کم تھے۔ ہاکی کا بہت اچھا پلیئر اور کالج کا بہترین اتھلیٹ تھا ہر غیر نصابی سرگرمی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ڈیبیٹ، ورائٹی شوز، سٹیج پرفارمینس تمام میں ہمیشہ سب سے اگے اگے ہوتا، لیکن جہاں تک تعلیمی سرگرمیوں کا تعلق تھا، کلاس سے سب سے نالائق طلبہ میں اس کا شمار ہوتا، نہ اسے کیمیسٹری کے فارمولوں سے کوئی شغف تھا اور نہ ریاضی کی مساواتوں میں دلچسپی۔ نتیجہ یہ کہ سپورٹس اور آرٹ ٹیچرز کا پسندیدہ ترین کھلاڑی سبجیکٹ ٹیچرز کا ناپسندیدہ ترین طالبعلم تھا۔

اساتذہ کو یہ پریشانی لاحق کہ اس کی وجہ سے ہمارا رزلٹ خراب ہو گا اور وہ اس فکر میں رہتا کہ موقع ملے تو کلاس سے غائب ہو کیونکہ کلاس میں بیٹھنے کا مطلب مسلسل بے عزتی اور بوریت تھی۔ ٹیچرز سے تنگ آ کر کلاس سے بھاگتا تو باہر ڈسپلن انچارج یا کبھی کبھار پرنسپل کے ہتھے بھی چڑھ جاتا اور پھر وہی ڈانٹ ڈپٹ، بے عزتی اور سزا کا سلسلہ۔ تو جن دنوں کالج میں کوئی سپورٹ یا غیر نصابی سرگرمی نہ ہو رہی ہوتی وہ عرصہ اس پر ایک مسلسل عذاب کا عرصہ ہوتا۔ نتیجہ ہر امتحان میں مسلسل فیل ہوتا جب بورڈ میں داخلہ بھیجنے کا وقت آیا تو حسب توقع اس کا داخلہ روک لیا گیا۔

اگلے سال پھر یہی کچھ ہوا اور وہ تیسرے سال بھی اسی فرسٹ ایئر کلاس میں رہ گیا تیسرے سال کے درمیان کسی کلرک کو یاد آیا کہ بورڈ قوانین کے تحت کوئی بچہ کسی ایک کلاس میں دو سال سے زیادہ عرصہ نہیں گزار سکتا تو افراتفری کے اس کے والد کو بلایا گیا اور سکول چھوڑنے کا سرٹیفیکیٹ اس کے ہاتھ میں تھما دیا گیا۔ باپ نے بہت شور مچایا اوپر تک شکایت لگانے کی دھمکی بھی دی لیکن کچھ نہ ہوا۔ کچھ عرصہ بعد وہ بچہ کالج میں آیا اور بتایا کہ اس نے کسی دوسرے کالج میں کامرس مضامین کے ساتھ امتحان پاس کر لیا ہے اور اپنی کلاس میں پہلی پوزہشن بھی حاصل کی ہے۔ یہ بات بتاتے ہوئے اس بچے کے لہجے میں جو فخر اور اعتماد تھا اس نے میرے سامنے یہ سوال کھڑا کر دیا کہ اس بچہ کے جو سال ضائع ہوئے ہیں ان کا بار کس کے سر ہے دو سال جس ذہنی تشدد کا یہ شکار رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے۔

یہ صرف ایک مثال ہے اپ پاکستان کے کسی بھی کالج کا دورہ کر لیں اپکو لاتعداد بچے ایسے ملیں گے کہ جن مضامین کی وہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان میں ان کی دلچسپی صرف کلاس میں حاضری لگوانے تک محدود ہے لیکن جہاں تک تعلیمی استعداد یا اپنے سبجیکٹ میں دلچسپی کا معاملہ ہے تو حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ ان میں بہت بڑی تعداد تو امتحانات میں فیل ہو کر کئی سال سپلیمنٹری امتحانات میں خجل خوار ہو کر رہ جاتی ہے اور جو نقل لگا کر پاس بھی ہو جاتے ہیں ان کی تعلیمی استعداد فیل ہو جانے سے کسی طور زیادہ نہیں ہوتی۔

ہمارے تعلیمی نظام میں ذہنی صلاحیتوں کو جس طرح تباہ کیا جاتا ہے اس کی مثال اپکو بہت کم ممالک میں ملے گی۔ اس کی کیا وجوہات ہیں ان پر ہمارے تعلیمی ماہرین کبھی غور نہیں کرتے اور جو کچھ بولتے ہیں ان کی سنتا کوئی نہیں۔ اس ساری پریکٹس کا جو نتیجہ نکل رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے کہ ہم ہر سال نام نہاد تعلیم یافتہ افراد کی ایسی کھیپ تیار کر رہے جو اپنے عملی میدان میں آ کر بری طرح ناکام ہو جاتے ہیں جو کچھ بھی سیکھتے ہیں اپنے سینیئر سے ہی سیکھتے ہیں۔

والدین سے اگر بات کی جائے تو ان کی نظر میں صرف تین شعبے میڈیکل انجینرنگ اور فوج قابل اعتماد اور تسلی بخش ہیں جن کے افراد کا مستقبل محفوظ اور یقینی ہے باقی کوئی بھی شعبہ بہ امر مجبوری اختیار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ کچھ عرصہ سے کمپیوٹر اور بزنس و کامرس کا شعبہ بھی توجہ حاصل کر رہا ہے لیکن سیاسی قیادت کی طرف سے منصوبہ بندی کے فقدان، اور سرمایہ داروں کی بھیڑ چال پالیسیوں کے سبب کون سا شعبہ کس وقت بیٹھ جائے کچھ پتہ نہیں۔ ایسے میں یہ والدین کی اولین ترجیح بن چکا ہے کہ جیسے بھی ہو بچوں کو یقینی روزگار والے شعبوں میں ہی تعلیم دلوائی جائے، یہ جانے بغیر کہ بچے کی ذہنی استعداد اور صلاحتیں اس شعبہ کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔

سی پیک کے بعد جب مقابلہ چینی کاریگروں اور ہنرمندوں کے ساتھ ہو گا تو ہمارے لوگوں کے لیے صرف کمتر درجہ کی ملازمتیں اور شعبے رہ جائیں گے ہمارے لوگ مزدور بوجھ اٹھانے والے چوکیدار چپڑاسی چائے بنانے والے اور کسی نے بہت ترقی کی تو کلرک یا آپریٹر ہی بن سکیں گے۔ اگر مقابلہ کرنا ہے تو بامقصد اور اپنے ذہنی میلان کے مطابق تعلیم حاصل کرنی ہو گی۔

سکولز کالجز میں بچوں کے ذہنی میلانات یا شوق کو جاننے اور ماپنے کے انتظامات ہونے چاہیے تاکہ پہلے دن سے طلبا کی مانیٹرنگ کی جا سکے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں ابتدا سے طلبا کے رحجانات اور میلان کو جاننے کے لئے جدید ترین طرہقہ ہائے کار اور آلات کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں بچوں پر ابتدا سے ہی کتابوں اور لاتعداد مضامین کا جو بوجھ ڈال دیا جاتا ہے اسے کم کرنے کا وقت آ چکا ہے دنیا ابتدائی سالوں میں بچوں کو صرف ایک مضمون پڑھانے کی طرف جا رہی ہے اور ہمارے ہاں پہلے دن سے بچوں کو دو زبانیں سکھائی جاتی ہیں۔ تیسری زبان بچے کو گھر میں سکھائی پڑھائی جا رہی ہے بلکہ اب تو چوتھی زبان کو بھی داخل نصاب کرنے کا مطالبہ آ چکا ہے۔ نتیجہ ہمارا بچہ کسی ایک زبان میں بھی کماحقہ اپنے خیالات کے اظہار پر قادر نہیں۔

خدارا اس طرف توجہ دیجیے دنیا نینو ٹیکنالوجی کی طرف جا رہی ہے جس سے افرادی قوت کی ضرورت کم سے کم ہو جائے گی اور ہم غیر ہنر مند افراد کے غول کے غول ہر سال پیدا کر رہے ہیں۔ آبادی پر کنٹرول کا ہر طریقہ آپ کے ہاں ناکام ہو چکا ہے۔
دنیا کا بوجھ بٹائیں نہ کہ زمین پر بوجھ بن جائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

پروفیسر سجاد حیدر کی دیگر تحریریں
پروفیسر سجاد حیدر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں