کوریا میں ایک دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں گھومتے ہوئے احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ دو ہزار سال پرانا شہر ہے۔ ہر طرف سربفلک عمارتیں ، سڑکوں پر دوڑتی ہوئی تیز رفتار ٹریفک اور تیز قدموں سے چلتے ہوئے بے پناہ لوگ۔ شہر میں حرکت اتنی تیز ہے کہ ہمارے جیسے کاہلوں کو ہر وقت کچلے جانے کا دھڑکا سا لگا رہتا ہے۔

کہتے ہیں کہ پاکستان نے انیس سو ساٹھ کی دہائی میں جو پنج سالہ ترقیاتی منصوبہ بنایا تھا، اس پر کوریا والوں نے عمل کیا اور کہیں سے کہیں نکل گئے، ہم نے عمل نہیں کیا اور پیچھے رہ گئے۔ تاریخی اعتبار سے یہ درست نہیں بلکہ ایک زوال پذیر معاشرے کی خود ساختہ دلیل ہے۔

دنیا کے اس جدید ترین شہر میں آ کر معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ترقی کا پہلا زینہ زبان ہے۔ جس قوم نے اپنی زبان چھوڑ دی وہ ترقی نہیں کر سکتی۔ دارالحکومت ہونے کے باوجود یہاں ہر بورڈ کورین زبان میں ہے۔ انگریزی بولنے والے خال خال ملتے ہیں۔ بمشکل ایک اخبار انگریزی زبان کا ملا تو اس کی شہ سرخی میں ان لوگوں کی پذیرائی کا ذکر تھا‘ جنہوں نے عالمی ادب کورین زبان میں ترجمہ کیا تھا۔

اخبار کے صفحہ اول پر ان لوگوں کی تصویریں دی گئی تھیں‘ اور خبر میں ان کے کام کی تفصیل بتائی گئی تھی۔ سیاست کے حوالے سے خبریں اندر کے صفحات پر تھیں اور بیانات کی بجائے سروے پر مشتمل تھیں کہ حکومت کے بارے میں عام آدمی کی رائے کیا بن رہی ہے۔

دریائے ہان کے دونوں طرف واقع اس شہر میں پھرتے ہوئے مجھے بالکل سمجھ نہیں آیا کہ کب اور کتنی بار یہ دریا پار کیا۔

ائیرپورٹ سے شہر کی طرف جاتے ہوئے بھی دو بار دریا پار کرنا پڑا تو معلوم ہوا کہ ائیرپورٹ دریا کے ڈیلٹا میں ایک جزیرے پر واقع ہے اور اس کے ایک طرف سمندر ہے تو دوسری جانب دریا۔ ایک بہت طویل پل جس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ دریا پر بنا ہے یا سمندر پر، ائیرپورٹ کو شہر سے ملا دیتا ہے۔

بہرحال سمندر اور دریا پار کرکے مجھے جس دروازے پر چھوڑا گیا وہ ایک نئی دنیا کی طرف کھلتا تھا جسے میں غلطی سے ہوٹل سمجھ بیٹھا تھا۔ یہ درحقیقت عمارتوں کا ایک طویل سلسلہ تھا جس کے ایک حصے میں ہوٹل بھی تھا۔ استقبالیہ پر مامور خواتین سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ پاکستان، چین اور کوریا کے مابین تجارت پر ہونے والے جس سیمینار میں ہمیں شرکت کرنا تھی وہ جنوب میں ہو رہا ہے اور ہم شمال میں کھڑے ہیں۔

شمال اور جنوب کے درمیان پیدل سفر پندرہ منٹ کا تھا اور منزل تک پہنچنے کے لیے ایک لائبریری سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ لائبریری کتنی بڑی ہے؟ بس اتنا سمجھ لیجیے کہ ایک ایکڑ رقبے پر چالیس چالیس فٹ اونچی الماریاں ہیں جن میں کتابیں بھری ہوئی ہیں۔ یہ کتابیں کتنی ہیں، معلوم نہیں لیکن اس کتب خانے میں لوگوں کا اژدہام دیکھ کر اپنی لائبریریاں اور ان کی ویرانی یاد آ گئی۔ کئی لفٹوں سے چڑھتے اترتے اور کئی عمارتوں سے ہوتے ہوئے ہماری رہبر نے کہا کہ سامنے وہ ہال ہے‘ اور جہاں آپ کے نام کی تختی لگی ہے وہاں بیٹھ جائیے۔

اس سیمینار میں کوریا اور چین کی بڑی کمپنیوں کے نمائندے اور سرکاری لوگ تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ انہیں اعدادوشمار بھی ازبر تھے اور ان کے پاس اپنی بات کی وضاحت کے لیے بہت اچھی پریزینٹیشنز اور ویڈیوز تھیں۔

ان دونوں ملکوں پر احسانِ عظیم کے طور پر ایک مجہول سا شخص پاکستانی سفارتخانے سے بھی آیا تھا۔ کہنے کو یہ کمرشل قونصلر تھا لیکن اس کے پاس پاکستانی کمپنیوں کے بارے کوئی معلومات تھیں نہ کوئی ویڈیو یا پریزینٹیشن۔ اس نے رٹی رٹائی ایک لا یعنی سی تقریر کی جو یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ پاکستان کے لوگ کسی موضوع پر مہارت رکھتے ہیں نہ اس کے افسروں میں کوئی حیا باقی ہے کہ کہیں جانے سے پہلے کچھ تیاری کر لیں۔

جب سیمینار ختم ہوا تو میں نے پوچھا، ”بھائی، آپ یہاں لینے کیا آئے تھے؟‘‘۔ افسرانہ رعونت سے فرمایا، ”مجھے ذرا جلدی ہے کیونکہ ہمارے سفیر صاحب رخصت ہو رہے ہیں اور ان کے لیے ہم نے الوداعی ڈنر رکھا ہوا ہے‘‘۔ میں رہ نہ سکا اور ‘ادب‘ سے صرف اتنا کہا کہ آپ بھی جائیے، سفیر بھی جائے اور اگر آپ نے یہی کچھ کرنا ہے تو اللہ کرے یہاں کا سفارتخانہ بھی جائے۔ نجانے ایسے لوگ کیونکر مقابلے کا امتحان پاس کر لیتے ہیں؟

سیول کے مرکز سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر اٹھارہ برس پہلے ایک نیا شہر بسا تھا جسے کوریا کے لوگ پیار سے انچن ائیر پورٹ کہتے ہیں۔ کہنے کو تو یہ ائیرپورٹ ہے مگر اصل میں ایک شہر ہے جہاں مسافروں کے لیے وہ سب کچھ ہے جو وہ کوریا سے خریدنا یا یہاں دیکھنا چاہتے ہیں۔

یہاں جہاز سے اتریں تو بیس منٹ میں آپ ائیرپورٹ سے باہر ہوتے ہیں اور اگر یہاں گھومنا چاہیں تو ایک مکمل دن اس کے لیے کم ہے۔ کام کی رفتار یہاں اتنی تیز ہے کہ جہاز سے اتر کر مسافر بیس منٹ میں سارے مراحل سے گزرنے کے بعد باہر آ جاتا ہے۔ یہاں پر جہازوں کی آمدورفت اتنی زیادہ ہے کہ پہلی بار کئی جہازوں کو قطار بنائے چڑھتے اور اترتے ہوئے دیکھا۔

یہاں کی رونق دیکھ کر اپنے ہوائی اڈوں کی ویرانی کچھ زیادہ کھلتی ہے۔ جدید دنیا میں ائیرپورٹ ڈرائنگ روم کی طرح بنائے جاتے ہیں تاکہ چند گھنٹے گزارنے والے لوگ بھی ملک کے بارے میں کچھ نہ کچھ سمجھ سکیں۔ ڈیوٹی فری شاپنگ سینٹر تو اب دنیا کے ہر ائیرپورٹ کا خاصا ہے‘ جہاں سے آپ یادگار کے لیے اچھی خاصی خریداری بہت ہی مناسب قیمت پر کر لیتے ہیں۔

دنیا کے مقابلے میں ہمارے ہوائی اڈوں میں شاپنگ سنٹر تو دور کی بات کوئی مناسب دکان ہے نہ کھانے پینے کی جگہ، لوگوں کی آمدورفت محدود سی اور وہ جسے رونق کہتے ہیں نہ ہونے کے برابر۔ بے ڈھنگی سی مذہبیت اور نااہلی سے اٹے ہوئے ملک کے ائیرپورٹ ایسے ہی ہو سکتے ہیں جیسے کہ ہمارے ہیں۔

کوریا تاریخ میں نہیں، حال میں رہتا ہے۔ اس لیے اسے سمجھنے کے لیے تاریخ کھنگالنے کی ضرورت نہیں ۔ انیس سو ساٹھ کی دہائی تو کل کی بات ہے۔ جب ہمارے ہاں جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھالا تھا تقریباً اسی زمانے میں کوریا میں جنرل پارک چوانگ ہی نے حکومت پر قبضہ کیا تھا۔

جنرل ایوب کے دور میں جب بائیس خاندان پیدا ہو رہے تھے تو کوریا میں جنرل پارک ادھار پیسے لے کر سٹیل مل لگا رہا تھا تاکہ ملک میں آنے والے سرمایہ کاروں کو سستا فولاد مہیا کیا جا سکے۔ جب کوریا کی سالانہ فی کس آمدنی بہتر ڈالر تھی تو پاکستان میں فی کس آمدنی نوے ڈالر کے قریب تھی۔

صرف پچاس برس میں بہتر ڈالر فی کس آمدنی والے ملک کو اٹھا کر یہاں تک لے آنے کا ہنر پاکستان کے کسی لیڈر کو ماضی میں آتا تھا‘ نہ حال میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کوریا کی فی کس آمدنی انتالیس ہزار ڈالر فی کس ہے اور ہم چھ ہزار ڈالر سالانہ تک بھی نہیں پہنچ پائے۔ ہم ایک ایک ڈالر کو ترس رہے ہیں اور وہ روزانہ ڈیڑھ ارب ڈال کی برآمدات کرتے ہیں۔

ترقی کے سفر میں کرپشن بھی ہوئی، بہت ہوئی اور آج بھی ہوتی ہے۔ احتساب بھی ہوا، خوب ہوا اور آج بھی جاری ہے مگر وہاں کوئی ادارہ کوئی حکومت ایسی نہیں آئی جس نے کرپشن روکنے کے نام پر سب کچھ روک دیا ہو۔ ان کی تیز رفتاری دیکھ کر آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اور ہماری کور چشمی پر سیاہ رات بھی مسکراتی ہے۔ دنیا میں کوریا دریائے ہان کا معجزہ کہلاتا ہے اور ہم دریائے سندھ کا المیہ بن چکے ہیں۔

بشکریہ دنیا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں