سلطانی گواہ نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص سلطانی گواہ نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟ احتساب کے خواب سراب ہو جاتے اور ناپسندیدہ سیاستدانوں کو نشانِ عبرت بنانا دشوار ہو جاتا۔ ہمیں برطانوی قانون دان فرنے چارلس (Fearne Charles) کا ممنون و شکر گزار ہونا چاہئے جس نے 18ویں صدی میں کرائون وِٹنیس کی قانونی اصطلاح متعارف کروائی۔

شاید اس زمانے میں وہاں بھی احتساب کا ایسا ہی کڑا نظام رائج تھا جیسا آج ہمارے ہاں دکھائی دے رہا ہے۔عدالتوں میں استغاثہ کو شدید مشکلات پیش آتیں، شہادتوں اور شواہد کی عدم دستیابی کے باعث ملزم چھوٹ جاتے ہیں۔اس کا حل یہ نکالا گیا ہےکہ کسی شریک ِجرم شخص کو رہائی کا لالچ دیکر کرائون وِٹنیس بنالیا جائے تاکہ مرکزی ملزم کے خلاف اس کی گواہی کو بنیاد بناتے ہوئے سزا دی جا سکے۔

اس شرانگیز قانونی اختراع پر تب بھی بہت سوالات اٹھے اور اب بھی ایسی گواہی کو معتبر خیال نہیں کیا جاتا کیونکہ ذاتی فائدے کی غرض سے ملزم کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ قانونی گنجائش تو شریک ِملزم کو سلطانی گواہ بنانے کی حد تک تھی مگر استغاثہ نے یہ راستہ بھی نکال لیا کہ کسی بے گناہ شخص کو زبردستی شریک ملزم بنا کر گرفتار کرلیا جائے اور پھر اسے سلطانی گواہ بننے کے عوض رہائی کی پیشکش کی جائے۔

ماضی میں کئی اہم مقدمات کے متنازع فیصلے اسی بنیاد پر ہوئے۔ مثال کے طور پر بھگت سنگھ جسے پاکستان اور بھارت میں یکساں طور پر جدوجہد آزادی کا ہیرو سمجھا جاتا ہے، اسے سلطانی گواہوں کے ذریعے ہی قتل کے مقدمے میں پھنسا کر پھانسی کی سزا دی گئی۔

بھگت سنگھ اور بی کے دَت نے 8 اپریل 1929ء کو مرکزی دستور ساز اسمبلی میں بم پھینکے اور موقع پر ہی خود کو سرنڈر کر دیا ۔اس مقدمے میں دونوں کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی مگر بھگت سنگھ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوف زدہ حکومت نے اسے ایک اورمقدمے میں پھنسانے کا فیصلہ کر لیا۔

لاہور میں برطانوی پولیس افسر جان پی سینڈرز اور ہیڈ کانسٹیبل چنان سنگھ کو قتل کر دیا گیا تھا، جس کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج تھی مگر اسے بھی بھگت سنگھ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ یکم مئی 1930ء کو وائسرائے لارڈ اِرون نے ایک آرڈیننس کے ذریعے اسپیشل ٹریبونل قائم کیا تاکہ بھگت سنگھ کا ٹرائل کیا جا سکے۔

سماعت شروع ہوئی تو جے گوپال، پھندر گوش اور صبح سنگھ کو سلطانی گواہ بنا لیا گیا ۔ٹریبونل نے بھگت سنگھ اور راج گرو کو سزائے موت سنا دی اور 23 مارچ 1931ء کو انہیں لاہور میں پھانسی دیدی گئی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس ٹریبونل نے یہ سزا سنائی، اس کی اپنی کوئی قانونی حیثیت نہ تھی کیونکہ مقدمے کا فیصلہ ہونے کے تین ہفتے بعد ہی وہ آرڈیننس اسمبلی سے منظور نہ ہونے کے باعث کالعدم ہو گیا جس کی رو سے ٹریبونل قائم کیا گیا تھا۔

قیام پاکستان کے بعد اس نوعیت کا سب سے بڑا مقدمہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی ہے۔ احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان قصوری کو قتل کر دیا گیا اور اس کا الزام ایف ایس ایف (بھٹو کی بنائی ہوئی فیڈرل سیکورٹی فورس) پر لگایاگیا۔ بنیادی طور پر اس مقدمے کے مرکزی ملزم ایف ایس ایف کے سربراہ مسعود محمود تھے جنہیں ضیا الحق کے دور میں سلطانی گواہ بنا کر معاف کر دیا گیا اور پھر پھانسی کا پھندا ذوالفقار علی بھٹو کے گلے میں فِٹ کر دیا گیا۔

مسعود محمود نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ انہیں یہ حکم وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے دیا گیا تھا۔

مقدمہ ٹرائل کورٹ کے بعد ہائیکورٹ سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ میںآیا تو سات رکنی بنچ نے تین کے مقابلے میں چار کے اکثریتی فیصلے سے ان کی سزا برقرار رکھی۔ جسٹس غلام صفدر شاہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ مسعود محمود کے بعض بیانات صرف سنی سنائی باتوں کے ذیل میں آتے ہیں اس لئے بطور شہادت قابلِ قبول نہیں ہو سکتے۔

علاوہ ازیں وعدہ معاف گواہ بذاتِ خود کوئی ایسا قابل اعتماد گواہ نہ تھا، جسٹس محمد حلیم نے جسٹس غلام صفدر شاہ کی بات سے اتفاق کیا جب کہ جسٹس دُراب پٹیل نے بھی اس رائے کا اظہار کیا کہ سلطانی گواہ مسعود محمود کوئی قابل اعتبار گواہ نہ تھا اور اس قسم کے مقدمے میں اس کی شہادت سے زیادہ کوئی معتبر شہادت درکار تھی۔

ہمارے یہاں قانون شہادت میں ترمیم کے بعد سلطانی گواہوں کو وعدہ معاف گواہ کہا جاتا ہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں اسحاق ڈار کو وعدہ معاف گواہ بنا کر نوازشریف کو سزا دی گئی اور شریک ملزموں کے لئے وعدہ معاف گواہ بن کر رہائی پانے کی فراخدلانہ پیش کش کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

پہلے اطلاعات آئیں کہ فواد حسن فواد کو شہباز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے پر آمادہ کر لیا گیا ہے، پھر خبر ملی کہ صاف پانی کمپنی کے سابق سربراہ وسیم اجمل سابق وزیراعلیٰ کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار ہو گئے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق کو قابو میں کرنےکے لئے بھی قیصر امین بٹ کی شکل میں وعدہ معاف گواہ ڈھونڈ لیا گیا ہے اور ضمانت خارج ہونے کے بعد خواجہ برادران کی گرفتاری یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ احتساب کے خواب جنہیں ماضی میں سراب سمجھا جاتا تھا اب حقیقت کاروپ دھار رہے ہیں ۔

مسلم لیگ (ن) ہی نہیں پیپلز پارٹی کی قیادت کا بھی اسی نہج پر سخت احتساب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ راجا پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کیس، جو کئی سال سے آگے نہیں بڑھ پا رہا تھا، کے ایک مرکزی ملزم کو راجا پرویز اشرف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنا لیا گیا ہے۔

رانا محمد امجد جو سینٹرل پاور پرچیز اتھارٹی کے سابق ایم ڈی ہیں، انہیں معاف کر دیا گیا ہے اور احتساب عدالت نے بطور وعدہ معاف گواہ پیش کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ سابق وزیر اعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ بھی آنے کو ہے اور ممکن ہے انہیں اسی مہینے ایک بار پھر اڈیالہ جیل بھجوا دیا جائے۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی پیشیاں بھگت رہے ہیں، بالخصوص زرداری صاحب کو کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ یادش بخیر، آصف زرداری نے بطور صدرِ مملکت اپریل 2011 کو ایک ریفرنس بھیجا تھا کہ کیا بھٹو کی پھانسی عدلیہ کا درست فیصلہ تھا؟

سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے اس ریفرنس کی سماعت کے لئے 11 رُکنی بنچ تشکیل دیا مگر یہ معاملہ زیر التوا ہے کیونکہ گڑے مُردے اکھاڑنے سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ احتساب کی اس مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ گاہے خیال آتا ہے کہ یہ سلطانی گواہ نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟

(بشکریہ روزنامہ جنگ)
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

محمد بلال غوری

بشکریہ روز نامہ جنگ

muhammad-bilal-ghauri has 96 posts and counting.See all posts by muhammad-bilal-ghauri