خان صاحب آپ وزیراعظم ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 3
  •  

قیام پاکستان کے زمانے میں ریاست بہاولپور کے والی نواب سر محمد صادق خان عباسی تھے۔ آزادی کے بعد نواب صاحب نے حکومت پاکستان کی بھرپور مدد کی اور سرکاری ملازمین کو تنخواہیں خود بہاولپور کے ریاستی خزانے سے ادا کیں۔ نواب آف بہاولپور سادہ لیکن خوددار شخصیت کے مالک تھے۔ ایک بار نواب صاحب لندن گئے تو سڑک پر چلتے چلتے انہیں اس زمانے کی سب سے پرآسائش گاڑی ”رولز رائس”کا شوروم نظر آ گیا۔ وہ شو روم کے اندر چلے گئے۔ وہاں انہیں ایک گاڑی پسند آئی تو انہوں نے سیلز مین سے گاڑی کی قیمت معلوم کرنا چاہی۔ سیلزمین نے انہیں عام لباس اور سادہ وضع قطع کے باعث عام ایشیائی شہری سمجھ کر دھتکار دیا۔ نواب صاحب واپس ہوٹل پہنچے اور اگلے روز شاہی ٹھاٹھ باٹھ اور ملازمین کا جتھہ لے کر شوروم پہنچے اور وہاں سے 6 رولز رائس کاریں خرید کر ملازمین کو حکم دیا کہ ان گاڑیوں کو فوراً بہاولپور پہنچا کر بلدیہ کے حوالے کرو اور انہیں پیغام دو کہ ان گاڑیوں سے شہر کی سڑکیں صاف کرنے اور کوڑا اٹھانے کا کام لیا جائے۔

نواب صاحب کے حکم پر ایسا ہی کیا گیا۔ کچھ ہی عرصے میں اس واقعے کی بازگشت دنیا بھر میں سنائی دینے لگی کہ رولز رائس تو وہ گاڑی ہے جو انگریز کے غلام ملک کی ایک ریاست میں سڑکوں کی صفائی پر مامور ہے۔ یوں رولز رائس کمپنی مذاق بن گئی اور اس کے کاروبار میں نقصان ہونے لگا۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ رولز رائس کمپنی کا مالک خود چل کر بہاولپور آیا اور اس نے نواب صاحب سے معافی مانگنے کے بعد گزارش کی کہ ان کی کمپنی کی گاڑیاں اس کام سے ہٹائی جائیں اور وہ تحفے میں مزید 6 گاڑیاں بھی پیش کرتے ہیں۔ نواب صاحب وسیع الظرف انسان تھے، تحفہ قبول کیا اور پھر ان 6 گاڑیوں میں سے ایک گاڑی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو بطور تحفہ پیش کر دی۔ یہ وہی نواب تھے کہ جنہوں نے پاکستان بننے کے بعد حکومت پاکستان کو 70 ملین روپے کا عطیہ دیا تھا اور اپنی ریاست کو اپنی 1955ء میں پاکستان میں ضم کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔

جی ہاں یہی ریاست بہاولپور آج کل جنوبی پنجاب کا حصہ ہے جہاں عوام غربت اور پسماندگی کے باعث احساس محرومی کا شکار ہیں۔ جنوبی پنجاب کے ہی ایک پسماندہ ترین علاقے سے ہمارے وزیر اعلیٰ جناب عثمان بزدار صاحب بھی تعلق رکھتے ہیں۔ ہم نے اکثر محافل میں وزیراعظم صاحب کی زبانی سنا ہے کہ عثمان بزدار بہت ہی سادہ آدمی ہیں، غریب حلقے سے ہیں لہذاٰ غریبوں کے دکھ درد اور مسائل سمجھتے ہیں۔ بہت اچھی بات ہے۔ لیکن کیا صرف دیکھنا اور سمجھنا کافی ہو گا؟ کیا ان مسائل کو حل کرنا صاحب اقتدار لوگوں کا فرض نہیں ہے؟ المیہ تو یہ ہے کہ مختلف حکومتوں کے ادوار میں جنوبی پنجاب سے سیاستدانوں کو وزیر و مشیر اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر تو بٹھایا گیا لیکن وہ ان علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے لئے گراں قدر اقدامات نہیں کر سکے۔ شاید اس کی ایک اور وجہ ایسے سیاستدان بھی ہیں جو نہیں چاہتے کہ دہائیوں سے چلے آ رہے جاگیردارانہ نظام سے عوام خود کو آزاد کروا سکیں۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں یہاں کچھ ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے لیکن یہ منصوبے بھی صرف شہری علاقوں تک محدود رہے۔

ورنہ شاید کسی بھی نمائندے نے سنجیدہ بنیادوں پر عوام کی فلاح و بہبود کے پیش نظر لاکھوں ایکٹر اراضی کو آباد کرنے یا بسانے کا خواب نہیں دیکھا۔ اگر کچھ ہوا بھی ہے تو صرف اتنا کہ اپنی زمین کی قیمت بڑھانے یا اپنی ذاتی سہولت کے لئے ائیرپورٹ، سرکٹ ہاؤس، فورٹ منرو کے مقام پر جزوی کام کرایا گیا جو کہ کروڑوں غریب و نادار افراد کی داد رسی کے لئے عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ حالیہ انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے ایک تحریک بھی شروع کی گئی جس کے سرکردہ رہنماؤں نے نیوز کانفرنس کے دوران ماضی کی غلطیوں پر معافی مانگی اور مستقبل کے لئےنئے خواب عوام کی آنکھوں میں سجا دیے۔ لیکن الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کے بعد یہ تحریک کہاں گم ہے، شاید اس کا جواب ڈھونڈنے میں کچھ وقت لگے۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ گورچانی، لغاری، مزاری، کھوسہ اور دریشک سمیت تمام قومیتی جماعتوں کے سربراہوں کا کڑا محاسبہ کیا جائے تاکہ جنوبی پنجاب کی عوام کا احساس محرومی دور کیا جا سکے۔ تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ آئین پاکستان میں طے شدہ طریقۂ کار کے تحت جنوبی پنجاب صوبہ بنانا عملاً تقریباً ناممکن ہے۔ یعنی نہ نو من تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچے گی کے مصداق نہ دو تہائی اکثریت ہو گی اور نہ صوبہ بنے گا۔ لہذا ضروری یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کو اقتدار کی منتقلی کے لئے کچھ آؤٹ آف باکس کام کئے جائیں۔ مثال کے طور پر سردار عثمان بزدار جنوبی پنجاب میں وزیراعلیٰ کے ایک مستقل کیمپ آفس کا قیام عمل میں لا سکتے ہیں۔ اگر لاہور میں بیٹھ کر جنوبی پنجاب پر حکومت ہو سکتی ہے تو جنوبی پنجاب میں بیٹھ کر لاہور پر بھی حکومت کی جا سکتی ہے۔ شہباز شریف صاحب کے دور میں ملتان میں ایک سب سیکرٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ تو کیا گیا تھا لیکن اس سلسلے میں عملی طور پر کچھ نہ ہو سکا۔ لیکن اب جنوبی پنجاب کے عوام اپنی محرومیوں کے ازالے کے لئے عمران خان اور عثمان بزدار کی جانب نظریں لگائے بیٹھے ہیں۔

چند روز پہلے ایک خبر نظر سے گزری کہ جناب عثمان بزدار صاحب کے احکامات پر ڈولفن فورس کے کچھ دستے ڈی جی خان روانہ کئے جا رہے ہیں۔ امید واثق ہے کہ یہ دستے وہاں عوام کی سیکورٹی اور فلاح کی غرض سے بھیجے گئے ہیں نہ کہ وزیراعلیٰ صاحب کے دورۂ آبائی علاقے کے دوران صرف پروٹوکول کی ڈیوٹی میں مصروف رہیں۔ بہرحال ہمارے محترم وزیراعظم صاحب نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ تو کر رکھا ہے، توقع یہی کرتے ہیں کہ یہ وعدہ انھیں بخوبی یاد ہو گا اور خاتون اول کی طرح بتانا نہیں پڑے گا کہ خان صاحب آپ وزیراعظم ہیں اور یہ کام آپ ہی نے کرنا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 3
  •  
محمد ذیشان بشیر کی دیگر تحریریں
محمد ذیشان بشیر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں