سب اچھا لکھنے والا میڈیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم یہ لکھتے رہے کہ ’’سب اچھا ہے‘‘ مگر سچ تو کچھ اور تھا اور وہ جب سامنے آیا تو بہت دیر ہو چکی تھی اور ملک دو لخت ہو گیا۔ صحافت، صحافت ہوتی ہے مثبت یا منفی نہیں، پیلی یا نیلی نہیں ہوتی۔ خبر وہ ہوتی ہے جو حقائق پر مبنی ہو اور پابندی چاہے سنسر شپ کی شکل میں ہو یا مکمل پابندی کی شکل میں، حقائق پر پردہ ڈالنے کے لیے ہوتی ہے۔

کوئی بھی آزادیٔ صحافت ذمہ داری کے بغیر ممکن نہیں مگر ذمہ داری کا فیصلہ صرف ایک پیشہ ورانہ مدیر ہی کر سکتا ہے کوئی قانون یا باہر والا نہیں۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے ایک انگریز Potan Josephکو ڈان اخبار کا مدیر 1938 میں لگایا تو کچھ مسلم لیگ کے رہنما حیران ہوئے اور سوال کیا کہ ایک انگریز کو لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ جواب دیا ’’یہ شخص ایک ایسا مدیر ہے جو استعفیٰ اپنی جیب میں رکھتا ہے اور کبھی صحافتی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرتا‘‘۔ اس نے جب اخبار چھوڑا تو لکھا کہ ’’میں جتنا عرصہ ڈان میں رہا، جناح نے کبھی میرے کام میں مداخلت نہیں کی۔ کوئی ایسی خبر آتی جس کا تعلق مسلم لیگ سے ہو تو میں خود ان سے پوچھ لیتا تھا‘‘۔

بدقسمتی سے قائداعظم کی وفات کے بعد سے ہماری ریاستی پالیسی آزادیٔ صحافت کے منافی رہی۔ کئی اخبارات بند ہوئے تو کئی کنٹرول ایسے قوانین بنائے گئے جس کے ذریعہ حکومتِ وقت کسی بھی اخبار پر پابندی لگا سکتی تھی، صحافی، مدیر، پرنٹر اور پبلشر کی گرفتاری ہو سکتی تھی اور ایسا ہوا بھی۔ مگر جہاں ہر دور میں ’’سب اچھا‘‘ لکھنے اور بولنے والے مل جاتے تھے وہاں سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ لکھنے والے بھی۔

دوسری طرف درباریوں کی بھی کمی نہیں رہی کیونکہ تعریف بہرحال سب کو اچھی لگتی ہے خاص طور پر حکمرانوں کو جنہیں ’’سب اچھا‘‘ سننے کی عادت ہوتی ہے اور یہ کام سرکاری میڈیا اور درباری صحافیوں سے بہتر کوئی نہیں انجام دیتا۔ لہٰذا پابندی اُن پر لگتی ہے جو آپ کے غلط کاموں اور فیصلوں پر تنقید کے ذریعے یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ گمان تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے، یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو۔

قوانین کے ذریعہ آزاد اخبارات کو کنٹرول کیا گیا تو نقصان کنٹرول کرنے والے کا ہوا کیونکہ لوگوں نے وہ اخبارات پڑھنے ہی چھوڑ دئیے۔ مارشل لا تو چھوڑیں، سویلین حکومتوں نے بھی ایسے ہی قوانین کا سہارا لیا اور نقصان انہی کا ہوا۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ اس کے نتیجے میں وہ اخبارات بند ہوئے تو کئی سو صحافی اور کارکن بے روز گار ہو گئے۔ اخبارات یا میڈیا کو دبائو میں لانے کے کئی طریقے ہوتے ہیں جو کبھی پریس ایڈوائس کی شکل میں سامنے آئے تو کبھی اشتہارات کی بندش تو کبھی مکمل سنسر شپ کی شکل میں۔ جب اس سے بھی بات نہیں بنی تو پابندی لگا دی گئی۔ ان تمام حربوں کے باوجود آزادیٔ صحافت کا سفر تو بہرحال آگے ہی بڑھتا رہا۔

آج بھی کچھ ایسے قوانین بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آج بھی معاشی قتل کرکے اور میڈیا کو تقسیم کر کے ’’سب اچھا‘‘ کہنے والے کی مدد کی جا رہی ہے۔ پچھلے تین سالوں میں کم سے کم تین ایسے ڈرافٹ تیار کیے گئے جو ایوب دور کے پریس قوانین کی کاپی نظر آتے ہیں۔ موجودہ دور میں بھی دو ایسے قوانین پر کام ہو رہا ہے جن سے آزادیٔ صحافت ہی کیا کوئی کتاب لکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ایسا ایک قانون وفاق میں اور ایک سندھ میں سامنے آیا۔ خیر یہاں والے تو اس پر نظر ثانی کرنے کو تیار ہو گئے ہیں اور وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ اور مشیر اطلاعات اس پر خاص حد تک متفق ہیں کہ اس حوالے سے ہر سقم کو دور کیا جائے گا مگر ہمارے دوست وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری ایک نئی میڈیا ریگولیٹری باڈی بنانے میں سنجیدہ لگ رہے ہیں۔

دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ آخر حکومت کیوں نجی چینلز کی مالی امداد کرے اشتہارات کے ذریعہ، سرکاری اشتہارات کیوں دئیے جائیں۔ بات میں وزن ہے مگر پھر اس اتھارٹی بنانے کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے جس کے ذریعہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہو رہی ہے تاکہ میڈیا ’’مثبت‘‘ ہو سکے۔ سب سے اہم بات آخر اس وزارتِ اطلاعات کی ضرورت ہی کیا، جس کو سب ختم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں مگر جب حکومت میں آتے ہیں تو اس کی لذت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

دوسری طرف سندھ حکومت کو پچھلے چند سالوں سے کون مشورہ دے رہا ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت قانون لائو، پچھلی کابینہ نے بھی اور اس نے بھی اس کو اسمبلی میں لانے کی تیاری کرلی تھی۔ آخری بار یہ بل 14نومبر 2018کو پیش کیا جانے والا تھا کہ میں نے وزیراعلیٰ کے مشیر مرتضیٰ وہاب سے رابطہ کرکے درخواست کی کہ ذرا اس پر ایک نظر ڈال لیں، ایوب خان کے دور کی یاد تازہ ہو جائے گی۔ خدا کا شکر ہے کہ ایک دن پہلے اس کو روک دیا گیا۔ ماضی میں بھی کچھ لوگ تھے جنہوں نے پریس ٹرسٹ بنا کر آزاد اخبارات کو کنٹرول کر کے نہ صرف اسے تباہ کر دیا بلکہ وہ اب تاریخ کا حصہ بن گئے۔ کچھ ایسے ہی لوگ تھے کہ جنہوں نے بھٹو صاحب کو میڈیا کنٹرول کرنے کا مشورہ دیا ورنہ تو انہوں نے Press and Publication ord. 1960ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ نواز شریف صاحب کو بھی ایسا ہی کچھ مشورہ دیا گیا تھا کہ غیر جانبدار مدیروں اور صحافیوں کے فون ٹیپ کیے جائیں اور ان کو نوکریوں سے فارغ کیا جائے۔ آج خان صاحب کو بھی کچھ ایسے ہی مشورے دئیے جا رہے ہیں۔ انداز ذرا مختلف ہیں ورنہ تو خان صاحب اس چیز کے حامی تھے کہ وزارتِ اطلاعات ختم ہونی چاہیے۔ ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور APPخود مختار ادارے ہونے چاہئیں۔

سیاست میں یوٹرن لے لیا تو میڈیا کی آزادی پر کیا معنی رکھتا ہے۔ شاید آپ کی پالیسی کے نتیجے میں کچھ چینل بند ہو جائیں، کچھ اخبارات کم ہو جائیں، کچھ صحافی صحافت چھوڑ جائیں کیونکہ آج آپ کے پاس اقتدار بھی ہے اور اختیار بھی مگر لڑنے والے ہمیشہ تعداد میں کم ہوتے ہیں مگر انہیں چند سر پھرے لوگوں کی وجہ سے معاشرہ قائم رہتا ہے سچ کی آواز سنسر شپ کے دوران بھی سنائی دیتی ہے۔

یقین جانیے پابندی ہوتی ہے تو آزادی کے لیے لڑنا آسان ہوتا ہے کم از کم آزادی کا دعویٰ تو نہیں کیا جاتا۔ ایسا ہی کچھ آج کل ہو رہا ہے۔ ہمیں لگتا ہے آزادیٔ اظہار ہے مگر پھر کچھ خبریں پریشان کرتی ہیں۔ کیا لکھنا ہے، کتنا لکھنا ہے۔

وہ بھی کیا دن تھے۔ اخبارات خبروں سے خالی نظر آتے تھے مگر عوام پھر بھی باخبر، رات کو 8 بجے بی بی سی جو کہتا، اس پر یقین کر لیا جاتا تھا۔ آج ہر طرف بریکنگ نیوز مگر لوگ پھر بھی اصل خبر کی تلاش میں نظر آتے ہیں۔  Fake Newsکا کام سوشل میڈیا نے سنبھال لیا ہے۔ آج بھی یاد ہے جب رات کو اخبار کی کاپی مکمل ہوتی تھی تو ایک اسٹاف ممبر اس کو وزارتِ اطلاعات کے دفتر لے جاتا تھا جہاں صحافت سے بے خبر کوئی افسر فیصلہ کرتا تھا کہ کون سی خبر جا سکتی ہے اور کون سی نہیں۔ دوسرے دن صبح اخبار خالی خالی لگتا تھا۔ بہت سی حکومت مخالف خبریں غائب ہوتی تھیں۔

بشکریہ: روز نامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں