سرخاب کے پَر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اخباری رپورٹ کے مطابق معزز چیف جسٹس نے ایک کیس کی سماعت کے دوران احد چیمہ سے استفسار کیا ہے کہ آپ کو کونسے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ آپکی تنخواہ ایک لاکھ سے چودہ لاکھ کر دی گئی؟احد چیمہ کیس زیر سماعت ہے اس لئے اسکے میرٹ پر بات کئے بغیرصرف اگر اس سوال پر غور کیا جائے کہ کسی سرکاری ملازم کو چودہ لاکھ تنخواہ دینے کا کیا جواز ہے؟کیا حکومتِ پاکستان اپنے کسی ملازم کو اتنی تنخواہ دینے کی متحمل ہو سکتی ہے؟

کیا پرائیویٹ کمپنیاں بنا کر حکومتی امور کو انجام دیا جانا چاہئے اور کیا وہ حکومتی اہلکار جو پرائیویٹ کمپنیاں بنانے کی پالیسی منظور کراتے ہیں، اور جنہیں پھر ان کمپنیوں کو حکومت کی جانب سے ریگولیٹ کرنا چاہئے وہ خود ہی اتنی بھاری تنخواہوں پر ان کمپنیوں کے سی ای او بن سکتے ہیں؟

کیا ایک ہی سرکاری ملازم کا بیک وقت سرکاری ملازم بھی رہنا اور پرائیویٹ کمپنی کا ہیڈ بھی بن جانا قابلِ قبول ہے کہ وہ بیک وقت طاقت سرکاری ملازمت سے حاصل کرے اور پیسہ پرائیویٹ ملازمت سے ؟سوال بہت سے ہیں، انکے جواب بھی موجود ہیں لیکن دھونس دھاندلی کے نظام اور بگڑی ہوئی عادتوں کا علاج کرنے کی ہماری قوم میں ابھی تک ہمت نہیں۔

پہلے بھی کچھ کالموں میں عرض کیا تھا، کہ ڈی ایم جی ہماری بیوروکریسی کا ایک شکاریpredatory) )گروپ ہے۔ اس نے نہ صرف اپنی سیٹوں جیسے ڈی سی اور کمشنر کیلئے بلدیاتی اداروں کے اختیارات پر قبضہ کر رکھا ہے ، سی ایس ایس اور نان سی ایس ایس دیگر تمام کیڈرز کی اہم اور پُرکشش سیٹوں پر قابض ہو جاتا ہے، بلکہ حکومتوں کے دیگر خودمختار اداروں، کارپوریشنز، کمپنیوں کی اہم سیٹوں پر بھی قابض ہو جاتا ہے۔

حالانکہ یہ واحد گروپ ہے جسکی نہ تو کسی بھی شعبے میں کوئی مہارت (speciality)ہے اور نہ ہی بیوروکریسی کے جدید جمہوری تصور میں اسکی کوئی جگہ۔انگریز کی غلامی کے دور میں ہمارے آبائو اجداد پر غلامی کےطوق کا وزن قائم رکھنے کیلئے بیوروکریسی کا ڈی ایم جی والا تصور رائج کیا گیا جس میں ملک بھر کی ہر اہم سیٹ پر ایک انگریز لایا جاتا تھا۔

ہمیں آزاد ہوئے ستر سال ہو گئے لیکن ڈی ایم جی نے آزادی کے فوائد عام آدمی تک پہنچانے کی بجائے انہیں خود اُڑا لیا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ڈی ایم جی کا مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت یا ڈکٹیٹرشپ تک محدود نہیں ہے، اس نے ہر سیاسی جماعت اور ہر ڈکٹیٹر کے ساتھ مل کر قوم کو جمہوری فوائد سے محروم رکھا ہے۔

سو احد چیمہ کے سرخاب کے پر تلاش کرنے کی جستجو ہمیں لامحالہ بیوروکریسی کے ڈی ایم جی سنڈروم تک لے جائے گی، جسکا علاج کئے بغیر بیوروکریسی کا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔

پِسے ہوئے عوام کے لئے ایک اور خوشخبری ایک اور اہم عدالتی فیصلے کی صورت میں سامنے آئی جو پرائیویٹ اسکولوں کی بھاری فیسوں کے متعلق ہے۔ اس فیصلے کے بعد مڈل کلاس والدین کو کچھ ریلیف ملنے کی توقع ہے۔معاشرے کے غریب اور انتہائی غریب طبقات کی تعلیمی ضروریات پوری کرنا ریاستی ذمہ داری ہے جس میں ہماری ریاست بُری طرح ناکام ہے لیکن مڈل کلاس طبقات اگر اپنی خون پسینے کی کمائی سے اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو انکااستحصال دہری ریاستی غفلت کے زمرے میں آئے گا۔

ایک تو ریاست انہیں تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی اور دوسرے اگر وہ خود اپنے تئیں کوشش کر تے ہیں تو انکے استحصال کوروکنے میں ناکام ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ان اسکولوں کا فرانزک آڈٹ ہو گا تو معلوم ہو گا کہ یہ والدین سے کتنی فیسیں لیتے ہیں اور اساتذہ جو تعلیم کی فراہمی میں سب سے اہم کردار رکھتے ہیں ، انکو کتنی تنخواہیں دیتے ہیں۔ سب سے اہم کہ یہ اس سارے عمل میں کس شرح سے منافع کماتے ہیں۔

کچھ اسکولوں کے ملازمین نے رابطہ کر کے بتایا ہے کہ اس فیصلے کے بعد مذکورہ اسکولوں کی طرف سے اب ملازمین کی تنخواہیں روکنے یا پھر ملازمین کو برطرف کرنے جیسی افواہیں گردش کر رہی ہیں ۔

اس سارے مسئلے کا اصل حل مالکان کی شرح منافع کو کنٹرول کرنا ہے لیکن کوئی بعید نہیں کہ سرمایہ دارانہ ذہنیت کے تابع مالکان اپنے منافع کو بچانے کیلئے تعلیمی معیار گرا دیں یا ملازمین اور اساتذہ پر چھری چلا دیں۔معزز سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کے دوران اس پہلو کو بھی مناسب اہمیت دی جائے ۔

ایسا نہ ہو کہ اس کیس میں بھی ویسا ہی ہو جیسا موبائل فون پر ٹیکس ختم کرنے کے فیصلے کے بعد ہوا۔ اس کیس میں معزز سپریم کورٹ نے موبائل فون پر ٹیکس ختم کرکے عوام کو ریلیف دیا لیکن شکایت ہے کہ موبائل کمپنیوں نے اس ریلیف کا بہت بڑ احصہ عوام کی بجائے اپنی جیبوں میں ڈال لیا۔ہوا یوں کہ موبائل کمپنیوں کے اکثر صارفین اب سو روپے کا کارڈ لوڈ کروانے کے بجائے ماہانہ پانچ سو یا زائد کا پیکیج لیتے ہیں۔

فرض کرلیں کہ ایک کمپنی کے پانچ سو کے پیکیج میں ماہانہ بارہ سو منٹ ہیں۔ بہت سے صارفین تمام منٹ استعمال نہیں کر سکتے اس لئے اگر بارہ سو کی بجائے کمپنی پندرہ سو منٹ دے دے تو بھی صارفین کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ایک فرانزک آڈٹ موبائل فون کمپنیوں کا بھی ہونا چاہئے ۔

سرخاب کے پروں والے اپنی روش سے باز آنے والے نہیں۔اس لئے دست بستہ درخواست اس بات کو یقینی بنانے کی ہے کہ سپریم کورٹ کے عوام کو ریلیف دینے کے احسن فیصلوں کو کہیں سرخاب کے پروں والے اپنی طاقت بڑھانے اوراپنی تجوریاں بھرنے کے ذریعے کے طور پر استعمال نہ کر سکیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •