سگریٹ بری چیز ہے تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل گاڑی خراب تھی۔ شعیب کے پاس بیٹھا تھا۔ اس کا موڈ نہیں تھا گاڑی ٹھیک کرنے کا۔ دھوپ اچھی نکلی ہوئی تھی، اکٹھے بیٹھے کیلے اور امرود کھا رہے تھے۔ گاڑی کے لیے مجھے بعد کا ایک دن دے دیا گیا تھا۔ شعیب کے پاس گاڑیوں کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ فوک وزڈم بھی بہت اچھی ہے۔
مجھے سر میں ایک سائیڈ پہ دانہ سا نکلا ہوا ہے۔ وہ اسے دکھایا اور پوچھا کہ یار بتاؤ کیا کروں۔ شعیب کہنے لگا: یہ موہکا ہے۔ آپ ایسا کریں نائی سے رابطہ کریں، وہ کوئی دوا دے گا تو یہ خود بخود جل جائے گا، پھر نہیں نکلے گا۔ پھر ایک اور آئیڈیا دیا کہ گھوڑے کی دُم کا بال لیں اور اس پہ لپیٹ دیں، خود ہی کٹ جائے گا۔
میں نے پوچھا کہ یار وہ ٹیٹنس وغیرہ نہ ہو جائے۔ کہنے لگا: تسی رہن ای دیو۔ پھر باتیں کرتے کرتے ہم نے یہ دریافت کیا کہ جب تک بیکٹیریا اور وائرس دریافت نہیں ہوئے تھے اس وقت تک خود ان کو بھی پتہ نہیں تھا کہ ہم نے کیا کیا بیماریاں پھیلانی ہیں۔ جب سے سائنس ترقی والے موڈ میں آئی ہے تب سے یہ سب بھی ڈیڑھ الرٹ ہو گئے ہیں۔
پہلے زمانوں میں گھوڑوں کی دم سے شیونگ برش بھی بنتے تھے، مچھلی پکڑنے کا جال بنتا تھا، پینٹنگ والے برش بنانے کے لیے انہیں استعمال کیا جاتا تھا، وائلن کے تار اسی چیز کے ہوتے تھے، صوفوں کی پوشش میں ڈیکوریشن کے لیے بھی انہیں استعمال کرتے تھے، پھر اینیمل رائٹس سامنے آئے، پھر چائنا آ گیا، اس کے بعد جراثیم کی اینٹری ہو گئی، گھوڑے اپنی دمیں بچانے میں کامیاب ہو گئے، موہکا بے چارہ مرے کہ جیوے؟ وہ اب بھی وہیں کا وہیں ہے۔
چیزیں بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہیں اور زندگی بہت چھوٹی ہے، اتنی کم اور اتنا پھیلاؤ کہ یاد کرنے بیٹھیں تو سو صفحے کی ایک کتاب بھی نہ بن پائے اور گزارنے پہ آئیں تو ہر دن ایک نیا ناول ہو اور جس کے صفحے ایک ہزار ہوں۔ اس چھوٹی سی زندگی میں ہم جس چیز کے بارے میں طے کر لیں کہ اس نے ہمیں نقصان دینا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی چن چڑھا ہی دیتی ہے۔
ان میں سے ایک چیز سگریٹ ہے۔ اے حمید نے کہیں لکھا تھا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو سگریٹ سے نقصان ہوتا ہے تو اسے چھوڑ دیں۔ پینا ہے تو انجوائے کرکے پئیں ورنہ پرے ماریں اور سائیڈ پہ ہو جائیں، تو اس بیان سے فقیر متفق ہے۔ اگر نقصان آپ کو ڈراتے ہیں، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کسی بیماری کا شکار ہو جائیں گے، اگر آپ ہر دوسرے سگریٹ سے ہونے والے نقصان کی پریشانی میں تیسرا سگریٹ پیتے ہیں تو یہ سگریٹ کی بھی بے عزتی ہے، اسے چھوڑ دیجیے۔
ہر معقول چیز کی طرح سگریٹ کی بھی انا ہوتی ہے، روز روز اس کی عزت نفس کو پسلیوں میں ٹھڈے لگانے کی جگہ ایک ہی بار خود ایک طرف ہو جائیں، یہ مہذب طریقہ ہے۔
سگریٹ کا حساب گھوڑے کی دم کے بال والا ہے۔ جب تک لوگ تمباکو استعمال کرتے ہوئے اس کے سائیڈ ایفیکٹس سے واقف نہیں تھے تب تک زندگی بڑی شاندار تھی۔ تمباکو والا پان تہذیبی رچاؤ میں شامل تھا اور حکیم لوگ ہاضمے کے لیے بھی حقہ تجویز کر دیتے تھے۔
سوچیں کل کوئی سٹڈی آ جائے کہ کالا نمک، سبز چائے، فروٹ سالٹ یا امرت دھارا بھی کینسر پیدا کرتے ہیں تو آپ کیا کریں گے؟ جب ہاضمہ خراب ہو گا تو کون سی دیسی دوا لیں گے؟ پھر پیدل چل چل کے مر جائیے گا دوسرا کوئی آپشن نہیں ہو گا۔ تو بس یہ سین ہے۔ TP53 جین کینسر کی ہر سٹڈی میں اہم ذمہ دار پایا گیا ہے۔
یار ہر چیز پہ گوگل کرنے نہیں دوڑ پڑتے‘ بات پوری پڑھا کریں۔ یہ جین آپ کے ہر سیل میں پایا جاتا ہے۔ جسم میں کتنے سیل پائے جاتے ہیں؟ سینتیس ٹریلین سے زیادہ۔ یاد رہے کہ یہ جو ٹریلین ہے یہ کھربوں سے آگے والی کہانی ہے۔ تو اگر آپ کے اندر یہ جین پیدائشی طور پہ درست حالت میں نہیں ہے تو بابا کس کس چیز سے بھاگیں گے اور کہاں تک بھاگیں گے؟ کھربوں سیل اور ہر سیل میں ایک جین پھڈے باز، اپنا جسم ہی باغی ہو تو بے چارہ تمباکو کیا اکھاڑے؟ میں نے پھر بھی سگریٹ چھوڑ دی!
چھ ماہ پہلے ایک دوست نے سگریٹ چھوڑی تو ایک اور دوست سے بات کرتے ہوئے فقیر نے وہی گھسی پٹی رائے دی کہ استاد یہ بندہ ٹھیک نہیں ہے، جو سگریٹ چھوڑ دے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے، دو ماہ بعد اپن بھی اس کیٹیگری میں آ گئے۔ پچھلے دنوں ایک لطیفہ بڑا گرم تھا کہ چھوٹے علاقوں میں سرکاری ڈاکٹر مریض کے لواحقین کو صرف یہ بتانے کی تنخواہ لیتے ہیں کہ ‘اینہوں شہر دے ہسپتال لَے جاؤ‘۔
عین اسی طرح جو بندہ موٹا ہے یا جو سگریٹ پیتا ہے اس کے گھٹنے میں درد سے لے کر دماغی خرابی تک ہر چیز کے پیچھے ڈاکٹروں نے فیس لے کر یہی وجہ بتانی ہوتی ہے کہ جی آپ کا وزن زیادہ ہے یا پھر آپ سگریٹ پیتے ہیں تو یہ تو ہو گا۔ چھوٹا موٹا ایک مسئلہ تھا، ڈاکٹر نے حسب معمول گھما پھرا کے بات سگریٹ پہ ختم کی، مولا کے فقیروں کو جلال آیا، اگلے ہفتے دل بھر کے سگریٹ پیے‘ اس سے اگلے ہفتے دل ہی نہیں کیا۔ اور پھر آج تک خواہش نہیں ہوئی۔
صبح کپتان صاحب والی گاڑی منگوائی تو جو مسافر پہلے اترا تھا‘ اس نے اندر سگریٹ پی ہوئی تھی۔ دل میں بڑا برا بھلا کہا اور باقاعدہ برا منایا کہ لوگ کیسے اِل مینرڈ ہوتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سنگ اٹھاتے ہوئے سر بھی برابر یاد آ رہا تھا، کلجگ ہے بھائی کلجگ ہے، نیاری لیلا ہے رام کی!
بڑا دماغ گردن کے لیے بوجھ ہوتا ہے، درد کر دیتا ہے، زیادہ سوچنے کی بجائے یہ سوچ لیا کہ آخر لوگ اور چیزیں ہمیشہ ساتھ رہنے کے لیے پیدا نہیں ہوتے۔ صبر آ گیا۔ ہاں مگر جب گناہ ٹیکس کا شور سنا تو بڑا افسوس ہوا کہ ایک ہی چانس تھا حکومت وقت سے بغاوت کرنے کا ادھر بھی اللہ میاں نے سارا سین پہلے ہی مثبت بنا دیا۔
اس خطہ بنام پنجاب کی آب و ہوا ہمیشہ سے قدرت نے ایسی ہی صلح جو اور امن انگیز رکھی ہے۔ کچھ کو الیکشن کے بعد صبر آتا ہے کوئی پہلے سے فاتحہ پڑھ کے بیٹھا ہوتا ہے۔ بے شک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ امی کی ایک دوست ہندکو میں کہتی ہوتی ہیں، ایجہی وی گرمی اے کہ بوت ای گرمی اے (ایسی بھی گرمی ہے کہ بہت ہی گرمی ہے) تو بس اپنا بھی آج کل ایجہا وی صبر اے کہ بوت ای صبر اے!
ایک فرق ضرور پڑا ہے۔ دس بارہ سال پہلے جب سگریٹ چھوڑی تھی اور باقاعدہ دو تین برس نہیں پی تھی تو سونگھنے کی صلاحیت اور ذائقے کی حس، دونوں بڑے شارپ ہو گئے تھے۔ اس مرتبہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ ویسے اگر نہیں ہے تو یہ اچھا بھی ہے کیونکہ بندہ زیادہ کھانے سے بچ جاتا ہے ورنہ آسمان سے گر کے کھجور میں اٹکنے والا حساب ہوتا ہے۔
آہا، ڈائیلاگ پہ غور کریں؛ آپ بیمار کیسے ہوئے؟ وہ جی وزن بڑھ گیا تھا، آپ کا وزن کیسے بڑھا؟ وہ جی سگریٹ چھوڑ دی تھی، آپ نے سگریٹ کیوں چھوڑی؟ وہ جی بیمار ہو گیا تھا۔ اور یوں بندہ اسی منحوس چکر میں پھنسا رہتا ہے۔ تو بس اس مرتبہ خیر کری مالک نے۔
کل اپنی سوسائٹی کے اکلوتے تندور پہ گیا، تین روٹیاں منگوائیں، تھوڑی دیر بعد ایک جوان پیک کرکے لے آیا۔ بل پوچھا تو کہنے لگا 37 روپے، میں ہنسنے لگ گیا، پوچھا: 37 کس حساب سے؟ تو کہنے لگا کہ ایک روٹی بارہ روپے کی ہے تو تین روٹیاں سینتیس روپے کی، وہ کاؤنٹر والوں نے یہی بتایا ہے۔
تو بھائی زندگی ہونے کو اتنی سادہ بھی ہو سکتی ہے کہ جو کچھ بھی کاؤنٹر والے بتائیں آپ یقین کرکے آگے ٹرانسفر کر دیں اور اتنی پیچیدہ بھی ہو سکتی ہے کہ ‘بارہ تیے چھتی‘ کا ورد کرتے رہیں اور بے چارے لڑکے کو ایک روپیے کی خاطر دوسرا چکر لگوائیں۔ جدھر سوئی گیس کا دس گنا بل دینا ہے، جدھر بجلی کے اندر ٹی وی سٹیشن کا بل دینا ہے ادھر گناہ ٹیکس بھی شاہ مدار کو دینا ہی دینا ہے۔
یہ سوال اٹھانا کہ گناہ کیا ہے اور کیا نہیں، ایسے چونچلے وہاں سوٹ کرتے ہیں جہاں پہلے کوئی عقل والا کام ہو رہا ہو۔ جدھر لوگ رائے شماری والے انگوٹھے کو ہاتھ لگا لگا کے رو رہے ہوں ادھر جو کچھ بھی ہو جائے کم ہے!
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 480 posts and counting.See all posts by husnain