مولا جٹ کی واپسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی فلمی صنعت کی تاریخ کا ذکر ہو اور مولا جٹ ذہن میں نہ آئے یہ ممکن نہیں۔ مولاجٹ پاکستانی سینما کی تا ریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ مولا جٹ کا شمار کلاسیکل فلموں میں ہو تا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دہائیوں تک پاکستانی فلم انڈ سٹری پر اس فلم کی چھاپ رہی۔

مولا جٹ 11 فروری 1979 کو نمایش کے لیے پیش کی گئی۔ ہدایت کار یونس ملک جب کہ مصنف ناصر ادیب اور فلم کی موسیقی ما سٹر عنایت حسین نے ترتیب دی۔ اس فلم کا پس منظر مشہور افسانہ نویس احمد ندیم قاسمی کے مشہور افسانے ’گنڈاسا‘ سے ماخوذ تھا، جو کہ پنجاب کا مخصوص دیہی پس منظر لیے ہوئے تھا۔ ناصر ادیب نے اسے فلمی قالب میں ڈھال کر امر کر دیا۔ فلم کا شمار پاکستانی فلمی تاریخ کی بلاک بسٹر میں کیا جا تا ہے۔ اگر اس وقت کوئی سو کروڑ کلب کا وجود ہوتا تو یقیناً مولا جٹ اس کلب میں سرفہرست ہوتی۔

گلستان سینما ایبٹ روڈ لاہور میں مسلسل 130 ہفتے نمایش کے لیے اسکرین کے پردے کی زینت بنی رہی۔ اس کے علاوہ دیگر شہرو ں گجرات، فیصل آباد، سیالکوٹ، راولپنڈی میں الگ الگ گولڈن جوبلی منائی۔ یہا ں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نمایش کے دن ہی سے سینما گھروں میں اس فلم کے لیے کھڑکی توڑ رش رہا۔ بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کہ نمایش کے دوران یہ فلم اس وقت کے صدر جنرل ضیا الحق کے دور میں ایک منظر کی وجہ سے بین کر دی گئی، تاہم کچھ عر صے کے بعد یہ بین ہٹا دیا گیا اور فلم کی دوبارہ نمایش شروع ہو گئی، جس کی وجہ سے مولا جٹ بھارتی فلم ’شعلے‘ کا رِکارڈ نہ توڑ سکی۔ فلم میں مرکزی کردار سلطان راہی (مولا جٹ)، مصطفے قریشی (نوری نت) چکوری (دارو) آسیہ (مکو جٹی) اور کیفی (بالا گاڈی) کے کردار ادا کیے۔ یہا ں یہ بات بھی قابل ذکر ہے، کہ یہ تمام کردار ہمارے معاشرے کے جزو ہیں۔

درحقیقت مولا جٹ 1975 میں ریلیز ہونے والی فلم ’وحشی جٹ‘ کا غیر اعلانیہ سیکوئیل تھی۔ ’وحشی جٹ‘ بھی اپنے دور کی کام یاب فلموں میں شمار کی جا تی ہے۔ تاہم مولا جٹ نے مقبولیت کے وہ رِکارڈ قائم کیے، جو آنے والی کوئی فلم نہ توڑ سکی۔ آنے والے دنوں میں اس فلمی پلاٹ کو لے کر کئی پنجابی فلمیں بنائی گئیں۔ مولا جٹ کے فلمی کردار ان اداکاروں کی پہچان بن گئے۔ مکالموں کے تو کیا کہنے۔ ’نواں آیا ں اے سوہنیا‘۔ ’مولے نوں مولا نہ مارے تے مو لا نئی مردا‘۔ آج بھی زبان زد عام ہیں۔

’مولا جٹ‘ کی تاریخی کام یابی ہو اور ہم سایہ ملک بھارت چربہ تیار نہ کرے! فلم کا چربہ ہندی زبان میں ’میں انتقام لوں گا‘ کے نام سے بنایا گیا، جس میں دھرمیندر، شترو گھن سہنا اور رینا رائے نے اہم کردار ادا کیے۔ مگر یہ فلم، ’مولا جٹ‘ جیسی عظیم الشان کام یابی حاصل نہ کر سکی۔

آج جب کہ دنیا بھر کی فلم انڈسٹری میں سیکوئیل بنانے کا رحجان زور پکڑ رہا ہے۔ ماضی کی سپر ہٹ فلموں کے ری میک اور سیکوئیل کام یاب ہوتے نظر آرہے ہیں۔ پاکستانی فلم انڈسٹری کی بات کریں تو ’شانی‘ ( 1989 ) جو پہلی پاکستانی کام یاب سائنس فکشن فلم تھی کا سیکوئیل ’سرکٹا انسان‘ ( 1994 ) کے نام سے بنا یا گیا۔

اس کے بعد حال ہی میں ’جوانی پھر نہیں آنی‘ کا سیکوئیل بنایا گیا جو کام یاب ہوا۔ اس صورت احوا ل میں نوجوان ہدایت کار بلال لاشاری نے ’دی لجینڈ آف مولا جٹ‘ بنا کر ایک نئے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ بلال لا شاری نے 2013 میں ’وار‘ بنا کر فلمی صنعت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ ’وار‘ جدید ٹیکنالوجی کی حامل فلم تھی، جو اُردو اور انگلش زبان میں ریلیز کی گئی اور سپر ہٹ قرار پائی۔ اس مرتبہ بھی بلال نے جدید ٹیکنالوجی کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے ایک بھاری بجٹ کی فلم ’دی لیجنڈآف مولا جٹ‘ بنائی اور پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے نئی راہیں متعین کر دی ہیں۔

بلال کا اس فلم کے بارے میں واضح کہنا ہے کہ یہ فلم نہ تو ’مولا جٹ‘ کا سیکوئیل ہے اور نہ اس کا پارٹ ٹو ہے۔ فلم کی کہانی ناصر ادیب ہی نے لکھی ہے۔ بلال کی فلم اس وقت مختلف تنازعوں کا شکار ہو گئی، جب ’مولا جٹ‘ کے پروڈیوسر سرور بھٹی نے کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر عدالت سے رجوع کیا۔ مگر اب یہ تمام قانونی معاملات طے پا چکے ہیں اور فلم عید الفطر 2019 کے موقع پر پاکستا نی سینما گھروں کی زینت بننے کے لیے تیار ہے۔ فلم کی ریلیز کو لے کر بلال لاشاری بہت پر امید نظر آرہے ہیں۔ فلم کا منفرد اعزاز یہ ہے کہ یہ برصغیر کی پہلی فلم ہو گی، جو پاکستان اور چا ئنا میں بیک وقت نمایش کے لیے پیش کی جائے گی۔

فلم میں فواد خان (مولا جٹ)، حمزہ علی عباسی (نوری نت)، مائرہ خان (دارو) اور حمائمہ ملک (مکھو) کے کرداروں میں نما یاں ہیں۔ جب کہ دوسرے نمایاں ستاروں میں شفقت چیمہ، نیئراعجاز، علی عظمت اور گوہر رشید شامل ہیں۔ ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کا ٹیزر مائرہ خان کی سال گرہ کے موقع پر جاری کیا گیا ہے۔ ٹریلر کے ریلیز ہوتے ہی ہر طرف دھوم مچ گئی ہے۔ پاکستانی فلم انڈ سٹری کو اس وقت جدید ٹیکنالوجی اور نت نئے موضوعات کی اشد ضرورت ہے۔ ٹریلردیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے فلم کو ایک شاہ کار بنا نے کی کوشش کی گئی ہے۔ فلم کے ڈیجیٹل ایفیکٹ دیکھنے سے یہ گمان ہو رہا، کہ اب پاکستانی فلمی صنعت بولی وڈ کو ٹکر دینے کے لیے تیار ہے۔

یہاں کچھ ناقدین مذکورہ فلم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انگلش فلم ’دی گلیڈیٹر‘ اور ’لارڈز آف دی رنگز‘ کا چربہ قرار دے رہے ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری (بولی وڈ) میں کہانیاں نہیں چرائی جاتیں؟ کہانیاں چرا کر بھی فلم سازی کا معیار اتنا اعلیٰ ہوتا ہے کہ وہ فلمیں ہٹ قرار پاتی ہیں۔ اب اگر پاکستانی فلم انڈسٹری میں بلال لاشاری نے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ایک منفرد تجربہ کرنے کی کوشش کی ہے تو اس کی مخالفت کیوں؟

اس تجربے کو نقالی کا درجہ دینے کی بجائے ایک اچھی کوشش قرار دے کر لاشاری کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اب بلال لاشاری اس کوشش میں کتنا کام یاب ہوتے ہیں یہ فیصلہ شائقین فلم پر چھوڑ دیں۔ اور اگر فلم دیکھنی ہے تو پاکستانی فلم ہی کیوں نہ دیکھی جائے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
راجا خضر یونس کی دیگر تحریریں
راجا خضر یونس کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں