ایف آئی اے کا ڈی جی بشیر میمن آخر ہے کون؟

ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن آخر ہے کون؟ پیپلز پارٹی کے ساتھ اُن کی دشمنی کیا ہے کہ ابھی تھوڑا عرصہ پہلے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے الیکشن سیل کے انچارج تاج حیدرکی جانب سے اس وقت کے نگران وزیراعظم، چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے گئے علیحدہ علیحدہ خطوط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ڈی جی ایف اے بشیر میمن کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ الیکشن تو گزر گئے مگر پیپلز پارٹی مسلسل بشیر میمن کے خلاف اس کوشش میں رہی ہے کہ ان کو اس عہدے سے ہٹایا جائے۔

ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا ایک سادہ تعارف یہ ہے کہ وہ سندھ پولیس کے نوجوان سی ایس پی آفیسروں کے گُرو رہے ہیں۔ ان کا دوسرا تعارف یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت جب بھی آئی ان کی پوسٹنگ اکثر عتاب میں رہی ہے یا ان کو سندھ سے باہر پوسٹ کیا جاتا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ وجہ یہ ہی ہے کہ بشیر میمن اپنے آپ کو پولیس کے ملازم سمجھتے رہے ہیں نہ کہ کسی پارٹی کے۔ جس صوبے میں ایس ایس پی وردی پہنے، پارٹی کے ایم این اے کی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوں وہاں بشیر میمن جیسا پولیس آفیسر مس فٹ ہی ہوتا ہے اور پھر نتیجہ یہ ہی ہوگا کہ کبھی ان کو آزاد کشمیر کا آئی جی بنا کے بٹھا دیا جاتا کہ حسین وادیوں کی جا کر سیرکرو اورکبھی کسی سائیڈ پوسٹ پر۔ حالات کچھ بھی رہے بشیر میمن نے سندھ پولیس میں بہرحال نوکری جتنا وقت بھی کی ایک بہترین پولیس آفیسر بن کے کی اور دوسرے افسروں کو بھی بتایا کہ ایک پروفیشنل آفیسررہ کر، ایم این ایز اور وزیروں مشیروں کی ڈرائیونگ سیٹوں پر نہ بیٹھ کر بھی اور ناجائز باتیں نہ مان کر بھی نوکری کی جا سکتی ہے۔