’میں ہوں رضاکار‘: نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے سرگرم عمل نوجوان

رفعت اللہ اورکزئی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر کوئی آپ کو یہ کہے کہ پشاور میں کچھ ایسے نوجوان اور اساتذہ بھی موجود ہیں جو نشہ کرنے والے عادی افراد کی بحالی کے لیے خود اپنا جیب خرچ کاٹ کر یہ کام کررہے ہیں تو شاید آپ کو یقین نہ آئے؟

لیکن یہ حقیقت ہے اور جس تنظیم کے بینر کے نیچے یہ نوجوان کام کررہے ہیں وہ رجسٹرڈ ہے نہ کسی سے امداد لیتی ہے۔

’آئی ایم ولنٹیئر‘ یا ’میں ہوں رضاکار‘ کے نام سے موسوم یہ تنظیم زیادہ تر یونیورسٹی طلبہ اور اساتذہ پر مشتمل ہے جو اپنی مدد آپ کے تحت نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے سرگرم عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’کینابس‘: پاکستان میں ’بچوں‘ کا نشہ؟

اسلام آباد میں کتنے فیصد طالبات نشہ کرتی ہیں؟

چرسی چوہے 540 کلو گرام منشیات ہڑپ کر گئے

سنہ 2007 میں قائم ہونے والی یہ تنظیم جس طرح اپنی مدد اپ کے تحت بغیر کسی لالچ کے کام کرتی ہے اس طرح ان کے کام کرنے کا طریقہ بھی مختلف ہے۔

تنظیم کے رضاکار پورے شہر میں پھیلے ہوئے ہیں اور انھیں جب بھی کسی جگہ سے کسی نشہ کرنے والی خاتون کے بارے میں معلومات ملتی ہیں تو یہ فوراً ان کو ایک ’ہدف‘ کے طور پر لیتے ہیں اور پھر تنظیم کی خواتین رضاکاروں کے ذریعے سے ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے۔

عائشہ بی بی نامی منشیات کی عادی یہ خاتون گذشتہ 18 سالوں سے پل کے نیچے زندگی گزار رہی تھیں

BBC
عائشہ بی بی نامی منشیات کی عادی یہ خاتون گذشتہ 18 سالوں سے پل کے نیچے زندگی گزار رہی تھیں

یہ رضاکار بعض اوقات منشیات استعمال کرنے والی خواتین کو نشہ بھی فراہم کرتی ہیں تاکہ ان کا اعتماد حاصل کیا جاسکے اور جب وہ ان کے ساتھ جانے پر راضی ہوجاتی ہیں تب انھیں کسی رضاکار کے گھر میں لے جایا جاتا ہے جہاں انھیں نہلا دہلا کر اور ان کو نئے کپڑے پہنا کر علاج کے لیے کسی بحالی کے مرکز منتقل کردیا جاتا ہے۔

’آئی ایم ولنٹیئر‘ کے رضاکاروں نے حال ہی میں پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں واقع ایک پل کے نیچے سے کئی سالوں تک ہیروئن کا نشہ کرنے والی ایک خاتون کو بچایا ہے۔ عائشہ بی بی نامی منشیات کی عادی یہ خاتون گذشتہ 18 سالوں سے پل کے نیچے زندگی گزار رہی تھیں جہاں دیگر عادی افراد بھی ان کے ساتھ رہ رہے تھے۔

عائشہ بی بی سے ملاقاتیں کرنے والی تنظیم کی ایک رضاکار طالبہ آمنہ ناصر نے کہا کہ عائشہ بی بی کی کہانی بڑی دردناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ عائشہ بی بی کا تعلق صوابی کی ایک کھاتے پیتے سے گھرانے سے ہے اور میٹرک کے بعد ان کے والدین نے انھیں اعلی تعلیم کے لیے لاہور بھیجا جہاں وہ ہاسٹل میں نشوں کی لت میں مبتلا ہو گئیں۔

منشیات

BBC
یہ رضاکار منشیات استعمال کرنے والے خواتین اور مردوں کی بحالی کے علاوہ دیگر فلاحی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے ہیں

انھوں نے کہا کہ عائشہ بی بی کو علاج کے لیے راضی کرنے کے لیے وہ کئی بار ان سے ملاقاتیں کرچکی ہیں اور اس دوران انھیں وہاں موجود دیگر عادی افراد کی طرف سے مشکلات کا سامنا بھی رہا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ عائشہ بی بی ان کو چھوڑ کر کہیں اور چلی جائیں۔

آمنہ ناصر کے مطابق کارخانو مارکیٹ میں نشہ کرنے والے ایک اور خاتون سے بھی بات ہوئی تھی لیکن اس نے آخری وقت میں جانے سے انکار کردیا تاہم ان کی کوشش ہے کہ اگلے ہفتے ان سے بھی بات کرکے کسی بحالی کے مرکز میں داخل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

’حکومت بھنگ کے کاروبار کی اجازت دے‘

منشیات فروش پولیس گاڑی کو ٹیکسی سمجھ بیٹھا

انگلیوں کے نشانات سے منشیات کے استعمال کی نشاندہی

’آئی ایم ولنٹیئر‘ کے ساتھ تقریباً دو سو کے قریب رضاکار منسلک ہیں جن میں اکثریت یونیورسٹی طلبہ اور اساتذہ کی ہے۔ ان کے رضاکار منشیات استعمال کرنے والے خواتین اور مردوں کی بحالی کے علاوہ رمضان کے مہینے میں مفت افطاری کا انتظام کرنا، مریضوں کو خون عطیہ کرنا، ضرورت مند خاندانوں کی کفالت کرنا ، مختلف تہوار پر بچوں کو تحفہ دینا اور پشاور کی صفائی مہم میں حصہ لینا جیسے سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

تنظیم کے سربراہ اور تدریس کے شعبے سے منسلک شہزاد حنیف کا کہنا ہے کہ اب تک تنظیم کی طرف سے نشہ کرنے والے 45 افراد کو بحالی کے مراکز میں منتقل کیا جاچکا ہے اور جن میں بیشتر علاج کے بعد اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔

رضا کار

BBC
اس تنظیم میں طلبہ اور اساتذہ کے علاوہ پیشہ ور افراد بھی شامل ہیں

انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پشاور میں منشیات استعمال کرنے والی خواتین کی بحالی کا کوئی مرکز موجود نہیں اسی وجہ سے ان کی کوشش ہے کہ ایسی خواتین پر توجہ مرکوز کی جائے جو نشہ چھوڑنا چاہتی ہوں اورجن کو بہتر سے بہتر علاج کی سہولیات فراہم کی جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ عائشہ بی بی کو اسلام آباد کے علاقے بنی گالا میں واقع ایک بحالی کے مرکز منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

’ہم نے کبھی کسی فلاحی یا امدادی ادارے سے کوئی مدد نہیں لی بلکہ ہم اپنے دل کی تسکین اور اپنے ہی لوگوں کی مدد کرنے کےلیے اپنے ہی جیب سے کمیوٹی سروسز کررہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ان کی تنظیم میں طلبہ اور اساتذہ کے علاوہ پیشہ ور افراد بھی شامل ہیں جو ضرورت کے وقت تنظیم کی مالی معاونت کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17982 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp