حوصلہ بلند ہو تو ایسا!


لوگ خواب دیکھتے ہیں، میں نے خواب پورے ہوتے دیکھے۔ ایک سال گزرا مجھے سندھ کے علاقے گھوٹکی میں ایک اسکول دیکھنے کی دعوت دی گئی۔ یہ اسکول گیس اور تیل کی صنعت سے تعلق رکھنے والے عبدالحکیم مہر صاحب نے قائم کیا تھا۔ اس کی دو خوبیاں تھیں، یہ شہروں سے دور گاؤں دیہات کے علاقے میں تھا، دوسرے یہ کہ اس میں تعلیم مفت تھی۔

یوں سمجھئے کہ حکیم صاحب تعلیم کو طالبعلموں کے گھروں کی دہلیز تک پہنچارہے تھے۔ میں وہاں گیا۔ نیو فاؤنڈیشن پبلک اسکول کے قیام کے لئے انہوں نے اپنی زمین دے دی اور یہی نہیں، اس پر اسکول کی عمارت بھی کھڑی کردی۔ اس وقت کوئی دو سو لڑکے پڑھتے ہوئے نظر آئے۔

لڑکیاں بہت کم تھیں کیونکہ ان کے والدین کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کے لئے کلاس روم الگ ہونے چاہئیں۔ جن دنوں میں گیا عمارت کے نئے بلاک کی تعمیر کی تیاری شروع ہوچکی تھی مگر مجھے اندازہ نہ تھا کہ عمارت میں توسیع کے بعد اسی سرزمین میں علم کے کیسے گل و گلزار کھلیں گے۔

عجب اتفاق ہوا کہ ایک برس بعد حال ہی میں مجھے ڈہرکی جانے کا موقع ملا جہاں مجھے یہ خوش خبری سنائی گئی کہ اگلی صبح ہم نیو فاؤنڈیشن پبلک اسکول دیکھنے چلیں گے۔ میرے ذہن میں وہی انگریزی کے ایل شکل کی عمارت اور وہی ڈیڑھ دو سو لڑکے تھے۔ اب جو گیا اور اس بار جو منظر دیکھا اسے بیان کرنا دشوار ہے۔

ڈہرکی کی کچی پکی سڑک پر ہچکولے کھاتی ہماری گاڑی جوں ہی اسکول کے قریب پہنچی، اسکول لگنے کے وقت کا گھنٹہ بجنے ہی والا تھا۔ یوں لگا کہ زمین سے اور گنّے کے کھیتوں سے لڑکے اُبل پڑے۔ ہر ایک اسکول کی طرف لپک رہا تھا۔ اب جو ہماری گاڑی نے ایک موڑ کاٹا، سامنے نیو فاؤنڈیشن پبلک اسکول کی چار دیواری کے اندر عمارتوں کا جال نظر آیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے بچے اپنی جماعتوں میں پہنچ گئے۔ ہر ایک نے دھلی دھلائی ستھری یونی فارم پہنی تھی اور جوتے اور موزے صاف تھے۔ مقررہ وقت پر بچے کسی اشارے یا ہدایت کے بغیر اسکول کے لمبے چوڑے صحن میں خود ہی قطاروں میں آراستہ ہونے لگے۔ اب کیا دیکھتا ہوں کہ پورا دالان ہر عمر کے دو چار نہیں، پورے آٹھ سو ساٹھ بچوں سے بھر گیا۔

دو سو لڑکیاں اور چھ سو سے زیادہ لڑکے۔ یا اﷲ، اتنے سارے بچے، میرے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ یہ کیسا انقلاب دیکھ رہا ہوں، مجھ سے زیادہ میری آنکھیں حیران تھیں۔ بس اس بات کا قلق رہا کہ اسکول کے بانی عبدالحکیم مہر صاحب موجود نہ تھے، ان سے ملاقات نہ ہوسکی حالانکہ اس غیر معمولی ترقی کی داستان میں ان ہی کی زبانی سننا چاہتا تھا۔

لندن واپس آکر مجھے حکیم صاحب سے ملاقات نہ ہونے کا افسوس رہا۔ آخر میں نے فون اٹھایا اور ان کا نمبر ملایا۔ بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ ذرا تصور کیجئے، میں اس وقت اپنے اسکول کی طرف جارہا ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ میں کیسا انقلاب دیکھ کرآیا ہوں، گھوٹکی کے ویرانے میں علاقے کا قریب قریب ہر بچہ اسکول جارہا ہے، یہ سب کیسے ہوگیا۔

انہوں نے بہت اچھی بات کہی۔ بولے کہ کام نیک نیتی سے کیا جائے تو دوسرے بھی ہاتھ بٹانے کے لئے آگے بڑھتے ہیں۔ ان کے اسکول کی اٹھان دیکھ کر ملک کے ایک بڑے کاروباری ادارے اور حکومت کے ایک تعلیمی ادارے نے انہیں ہر قسم کی امداد پیش کردی۔ کام تو وہ شروع کرچکے تھے، اس کی رفتار تیز ہوگئی۔

عمارت میں توسیع ہونے لگی، لڑکیوں کے لئے الگ کمرے بن گئے اور والدین نے اپنی بیٹیوں کو اسکول جانے کی اجازت دے دی۔ اس کے لئے اس معروف کاروباری ادارے کے رضاکار گھر گھرگئے اورلڑکیوں کو تعلیم دینے پر رضا مند کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک ماہر تعلیم کی خدمات اور چند ٹیچرز بھی فراہم کردیں۔

اسی دوران ایک بڑ ا کام ہوا، پیر صاحب پگارا اسکول کا معائنہ کرنے آئے اور انہوں نے اپنے ماننے والوں سے کہا کہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں۔ ان کی اپیل تو حکم کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کا اثر ہوا اور آج وہاں طالب علموں کی تعداد ساڑھے آٹھ سو سے زیادہ ہوگئی ہے جن میں دو سو لڑکیاں ہیں۔

مجھے تو یوں محسوس ہوا کہ اسکول کی یہ عمارت بھی تنگ پڑجائے گی اور حکیم صاحب کی وہ پرانی بات مجھے یاد رہے گی۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ بڑے لڑکے اور لڑکیاں جب ہائی اسکول پاس کرلیں گے اور کالج میں داخلے کا مرحلہ آئے گا تو آپ کے یہ بچے کہاں جائیں گے۔

کہنے لگے کہ بچوں کو مشکل ہوئی تو دوسری منزل تعمیر کرکے یہیں کالج بھی بنا دوں گا۔ میں نے سوچا، حوصلہ بلند ہو تو ایسا ہو۔ اسی دوران اسکول مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ حکیم صاحب کے ایک عزیز نے اسکول میں ڈسپنسری قائم کردی ہے جہاں علاج اور دوا مفت ہے اور یہ سہولت آس پاس کے علاقے کے تمام ہی باشندوں کے لئے ہے اور چوبیس گھنٹے دستیاب ہےاور میرے مشورے پر وہا ں کا دورہ کرنے والے اسکالرز کے لئے نہایت نفیس بیڈ روم بھی بنا دیا گیا ہے۔

میں گیا تو ہر ایک بولا یہ آپ کا کمرہ ہے۔ علاقے کی آبادی کم ہے اور بعض طالب علم پانچ سے دس کلو میٹر کے فاصلے سے آتے ہیں۔ لڑکیوں او رٹیچرز کے لئے گاڑی کا بندوبست ہے اور حکیم صاحب کا ذہن چین سے بیٹھنے والا نہیں۔ وہ اسی عمارت میں آٹھ دس سلائی کی مشینیں لگا کر اور علاقے کی لڑکیوں کو تربیت دے کرانہیں خود کفیل بنانے کی ٹھانے ہوئے ہیں۔

ان کو یہ تجویز انعم نے پیش کی ہے جو اپنے گھر میں سلائی کی چھوٹی سی فیکٹری کھول کر اپنا کاروبار شروع کر چکی ہے۔ حکیم صاحب جس تصور سے بہت خوش ہیں وہ یہ کہ بڑی عمر کے طالب علم یہاں سے فارغ ہوکر آگے جائیں گے اور چھوٹے طالب علم ان کی جگہ لیتے جائیں گے اور یہ سلسلہ کبھی نہیں رُکے گا۔ ان کے دوسرے خواب بھی پورے ہوئے، اس خواب کی تعبیر روشنی بن کر ان کے آنگن میں اترے گی اور خوشبو بن کر مہکے گی، یقین ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں