ایک قدیم شہر کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے شہر کی فضا کچھ دنوں سے بدلی بدلی سی ہے، بظاہر تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے مگر پھر بھی شہر میں کچھ نہ کچھ عجیب ضرور ہے جو اِس سے پہلے کسی نے محسوس نہیں کیا۔

لوگ اپنے اپنے گھروں میں رہ رہے ہیں، کاروبار پر بھی جا رہے ہیں، بچوں کے اسکولوں میں مائیں اُن کی پڑھائی کو لے کر ویسے ہی فکرمند ہیں جیسے پہلے تھیں، شہر میں ٹریفک بھی معمول کے مطابق رواں دواں ہے، گلی محلوں میں ٹھیلے والے کھانے پینے کی مختلف اشیاء بیچتے نظر آتے ہیں، کبھی کبھار ان بیچاروں کی ریڑھیاں حکومتی اہلکار اٹھا کر لے جاتے ہیں مگر یہ بھی معمول کی بات ہے.

اگلے روز پھر وہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، دفاتر میں حاضری پہلے جیسی ہے اور کام وہی پرانا، سائل دفتروں میں آتے ہیں کلرکوں سے منہ ماری کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔

شہر کے وسط میں جو بازار ہے وہاں کپڑے بیچنے کی میری دکان ہے، میرے پاس زیادہ تر عورتیں خریداری کے لیے آتی ہیں، نرخ کم کروانے کے لیے اُن کی تکرار روز کی بات ہے، اس میں مجھے کوئی اچنبھا نہیں ہوتا، مگر نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ ان عورتوں کی آوازیں اب پہلے جیسی نہیں رہیں، بات کرتے کرتے یکدم ان کی شکلیں ڈراؤنی ہو جاتی ہیں اور آوازوں میں مردانہ پن آ جاتا ہے۔۔۔شاید یہ میرا واہمہ ہو ۔۔۔

میرے برابر میں بھی کپڑے کا ایک بیوپاری بیٹھتا ہے، میں روزانہ اسے دیکھتا ہوں، وہ چپ چاپ صبح اپنی دکان کھولتا ہے اور شام تک بغیر کسی حجت کے اپنا مال بیچتا ہے، مجھے اس کے رویے میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی لیکن اس کے باوجود نہ جانے کیوں مجھے یقین ہے کہ شہر میں کچھ نہ کچھ بدلا ہوا ہے۔

شہر کا داروغہ ایک ذمہ دار انسان ہے، ہم تاجر چندا اکٹھا کرکے اسے دیتے ہیں تاکہ وہ شہر کا انتظام چلا سکے، پہلے یہ چندا ایک مقررہ رقم سے تجاوز نہیں کرتا تھا مگر کچھ دنوں سے اس میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا ہے، کسی نے بھی اس اضافے پر ردعمل کا اظہار نہیں کیا، یوں لگتا ہے جیسے سب کے سب گونگے ہو گئے ہوں۔

میں محسوس کر رہا ہوں کہ داروغہ کا گشت بھی جیسے کوئی رسمی کارروائی ہو، اس میں شک نہیں کہ داروغہ پہلے ہی کی طرح مستعد ہے، مگر اب اس کے چہرے پر خاصی کرختگی آ چکی ہے، یوں لگتا ہے جیسے شہر کی بدلی ہوئی فضا نے اُس پر بھی اپنا اثر ڈالا ہے یا شاید اس کی کرختگی سے ہی شہر کا ماحول بدلا ہوا لگ رہا ہے۔

داروغہ کے دفتر سے جو ہرکارے چندے کی وصولی کے لیے آتے ہیں اب ان کے تیور بدل چکے ہیں، وہ جتنے روپے مانگتے ہیں ہم چپ چاپ انہیں دے دیتے ہیں، کبھی کبھی تو وہ ان روپوں کی رسید بھی نہیں کاٹتے۔ اگلے روز کسی نے رسید کا تقاضا کیا تو داروغے کے اہلکاروں نے اسے خوب پیٹا، انہیں یہ بات گوارا نہیں تھی کہ اُن کی نیک نیتی پر شک کیا جائے، آخر وہ ہماری حفاظت کے لیے ہی یہ سب کچھ کرتے تھے۔

شہر کے لوگ اب آپس میں سرگوشیوں میں گفتگو کرتے ہیں، جب ان سے پوچھا جائے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں، انہیں کس بات کا خوف ہے تو اُن سے کوئی جواب نہیں بن پڑتا اور وہ ہونقوں کی طرح ایک دوسرے کی شکلیں دیکھتے ہیں۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ ہر شخص ہی چھپ چھپ کر باتیں کرتا ہو، کئی تو ایسے ہیں جو روزانہ ہاتھ میں بھونپو لیے شہر کی مرکزی شاہراہ پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور پھر گھنٹوں آپس میں چنگھاڑتے رہتے ہیں.

مگر یہ کام داروغہ کے اہلکاروں کی نگرانی میں ہوتا ہے جو وہاں اپنے فرض کی ادائیگی پر مامور رہتے ہیں۔ اب مجھے یقین ہو چلا ہے کہ شہر کے نظام میں کوئی نہ کوئی خرابی ضرور پیدا ہو چکی ہے، اب میں اور زیادہ دیر تک اسے اپنا وہم سمجھ کر سر سے نہیں جھٹک سکتا۔ مگر میں کچھ کر بھی تو نہیں سکتا۔

میرے ساتھ کے بیوپاری مست رہتے ہیں، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ شہر میں چند لوگوں کے بولنے پر پابندی لگا دی گئی ہے یا شاید انہیں اس کا علم ہی نہیں، اور اگر علم ہو بھی تو یہ بات اُن کے کاروبار پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ مائیں خوش ہیں کہ اُن کے بچے خوب پڑھ لکھ رہے ہیں، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ جو کچھ انہیں پڑھایا جا رہا ہے وہ مستقبل میں شہری حقوق اور فرائض کی بجا آوری میں معاون بھی ثابت ہو گا یا نہیں۔

سرکاری اہلکار بھی اپنے اختیارات بڑھنے پر شاد ہیں، اب وہ جسے چاہیں بدعنوانی کا الزام لگا کر بند کر سکتے ہیں۔ شہر میں کھیل تماشے، جو پہلے سال میں ایک دو بار ہی ہوتے تھے اب قریباً روز ہوتے ہیں، بھانڈوں اور مسخروں کی چاندی ہو گئی ہے، یہ لوگ شہر کے بیچوں بیچ منڈلی لگا کر بیٹھ جاتے ہیں، تماش بینوں کے لیے یہ ایک اچھی تفریح ہے، مگر میں دیکھتا ہوں کہ صرف تماش بین ہی نہیں شہر کے شرفا بھی اب یہاں دل بہلانے کوآ جاتے ہیں۔

واعظ کا شکریہ جس کی وجہ سے شہر میں اب بھی کچھ نیک لوگ باقی ہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ نیک لوگ اپنی عبادات کے معاملے میں تو بہت سخت گیر واقع ہوئے ہیں مگر شہر کے بدلتے ہوئے حالات کی انہیں بھی فکر نہیں یا شاید انہیں علم ہی نہیں کہ شہر کے حالات کس رُخ پر جا رہے ہیں یا پھر یہ نیک لوگ دنیاوی معاملات میں خود کو آلودہ نہیں کرنا چاہتے۔

کہیں یہ سب میرا وہم ہی نہ ہو، یہی سوچ کر میں نے اپنی یہ کیفیت کسی سے بیان نہیں کی تھی کہ لوگ میرا مذاق اڑائیں گے، لیکن پھر میں ہمت کرکے شہر کے سب سے دانا شخص کے پاس چلا گیا اور اس سے تمام باتیں کہہ ڈالیں، دانا شخص نے غور سے میری باتیں سنیں، مجھے لگا جیسے میری باتوں نے اسے پریشان کر دیا ہو، وہ کچھ دیر خاموش رہا اور پھر اس نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اپنی یہ کیفیت کسی سے بیان نہ کروں اور چپ چاپ گردن جھکا کر ویسے ہی رہوں جیسے شہر کے باقی لوگ رہ رہے ہیں۔

میں نے اس دانا شخص کی بات مان لی اور چپ چاپ واپس آگیا۔ اب میں روزانہ صبح اپنی دکان کھولتا ہوں، کپڑے کا بیوپار کرتا ہوں اور شام کو دکان بند کرکے گھر واپس آجاتا ہوں، سب لوگوں کی طرح داروغہ کے اہلکار وں کو چندا دیتا ہوں، کبھی کبھی شام کو تماش بینوں کے ساتھ بھانڈوں کا کھیل دیکھنے چلا جاتا ہوں اور ہفتے میں ایک مرتبہ واعظ کو خوش کرنے کے لیے عبادت گاہ میں اس کا بیان بھی سن لیتا ہوں۔

شہر کی حالت اب پہلے سے زیادہ عجیب ہے، ہر وقت ایک پراسرار خاموشی چھائی رہتی ہے جو رات کو سناٹے میں تبدیل ہو جاتی ہے، مگر واعظ، دانشور، بھانڈ، بیوپاری، سرکاری اہلکار اور داروغہ،سب کے سب مطمئن ہیں، انہیں شہر میں ایسی ہی خاموشی چاہیے۔ مگر داروغہ شاید نہیں جانتا کہ ایسے خاموش شہر قبرستان بن جایا کرتے ہیں اور قبرستانوں پر کوئی حکمرانی نہیں کرتا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 294 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada