نظریاتی سیاست سے کرپشن تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک زمانہ تھا جب سیاست میں بھی ایک رومانس ہوتا تھا۔ حسن ناصر کی شاہی قلعے میں پراسرر ہلاکت ہو یا ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی…! لیڈر تو ایک طرف، لوگ نظریات کی خاطر نعرے لگاتے تختہ دار پر چڑھ گئے۔ یہاں منصور بھی ملے گا اور سقراط بھی!اگر اس کے نظریاتی قصے سنانے اور لکھنے شروع کردوں تو کالم قسط وار لکھنا پڑے گا کیونکہ اب تو ہزار الفاظ سے زیادہ لکھ بھی نہیں سکتے۔

ایک زمانہ تھا جب پولیس اور سی آئی ڈی کا چھاپہ پڑتا تھا تو سیاسی کتابیں، پمفلٹ، پرنٹنگ پریس ضبط کرلیاجاتا تھا۔ اب چھاپہ پڑتا ہے تو پاکستانی اور بیرونی کرنسی کروڑوں میں گھروں سے برآمد ہوتی ہے۔ پہلے مقدمات نظریہ پاکستان اور قومی مفاد کے خلاف کام کرنے جیسے الزامات پر بنائے جاتے تھے، اب اثاثہ چھپانے، بیرون ملک ملکیت، دہری شہریت، شوگر ملز یا اسٹیل مل لگانے پر بنائے جاتے ہیں۔ پہلے وفاداری تبدیل کرنے کو کم ازکم برا ضرور سمجھا جاتا تھا، اب ضرورت سمجھا جاتا ہے۔

یہ غضب کرپشن کی عجب کہانی نہیں بلکہ عجب کرپشن کی غضب کہانی ہے۔ آج شاید ہی ریاست کا کوئی ستون یہ کہہ سکے کہ وہ کرپشن سے مکمل پاک ہے تو پھر احتساب صرف سیاستدانوں کا کیوں…!

شاید اس لئے کہ یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ نظام کو بہتر بنائیں، معاملات کو درست کریں، کوئی رکاوٹ بنے تو اقتدار کو لات مار کر باہر آجائیں۔ شاید اپریل 2016ء میں نواز شریف اگر پاناما لیکس کے بعد استعفیٰ دے کر باہر آجاتے تو آج ملک کی سیاسی صورتحال بڑی مختلف ہوتی۔ کاش! زرداری صاحب اپنی پارٹی کے رہنمائوں کی درخواست 2015ء میں مان لیتے تو پی پی پی شاید مقابلے کیلئے بہتر تیار ہوتی۔

سیاست کا رومانس مجھے اکثر زمانہ طالب علمی میں لے جاتا ہے جب بات دلیل سے ہوتی، نظریاتی اختلاف کے باوجود ایک احترام کا رشتہ باقی رہتا تھا ہاتھ میں کتاب اور قلم ہوتا تھا، بندوق نہیں…!

بحث اس پر ہوتی تھی کہ ریاست کو کیسا ہونا چاہئے، کونسا نظام بہتر ہے، نوجوانوں کے اسٹڈی سرکل ہوتے تھے جن کا معیار بہرحال بہت سے آج کے ٹاک شوز سے بہتر ہوتا تھا۔پھر اچانک تشدد آگیا۔ افغانستان میں کیا تبدیلی آئی کہ پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آگیا۔

1977ء سے پہلے سیاست نظریاتی رہی، گو کہ نفرت کی سیاست اور کرپشن کی بنیاد ایوب دور میں پڑ گئی تھی۔ نظریہ ضرورت،صرف غیر آئینی حکومت کو آئینی کہنے کا نام نہیں بلکہ منفی رجحانات کو فروغ دینے کا نام بھی ہے۔ اس طرح ایک کرپٹ معاشرے کی بنیاد رکھ دی گئی۔

کیا آپ نے نظریاتی سیاست کے دور میں کسی عدالت میں ملزم سے یہ سوال پوچھتے سنا یا پڑھا کہ تمہاری منی ٹریل کیا ہے، تم نے جعلی اکائونٹ کے ذریعے اربوں کی منی لانڈرنگ کی؟ اس وقت تو راولپنڈی سازش کیس ہو، نیب کے خلاف حیدرآباد ٹرائل ہو یا جام ساقی سازش کیس جیسے مقدمات کی نوعیت ہی مختلف ہوتی تھی۔

نظریاتی لڑائی میں سب سے اہم سوال یہ تھا کہ ملک کو جمہوری انداز میں آگے بڑھانا ہے کہ آمریت کے زیرسایہ…!زبان اور شناخت اس ملک میں ہمیشہ سے اہم مسئلہ رہا ہے اور جب بھی کچھ لوگ یہ بات کرتے ہیں کہ تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہئے خاص طور پر بنیادی تعلیم تو اس کو دوسرا رنگ دے دیا جاتا تھا۔

اگر قیام پاکستان کے فوراً بعد ہمارے ملک سے بھی جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کردیا جاتا، آئین معطل نہیں کیا جاتا اور جمہوریت کی بنیاد رکھ دی جاتی تو نہ کوئی سیاستدان آمریت کی پیداوار کہلاتا اور نہ ہی نظریہ ضرورت کے تحت کرپٹ معاشرے کی بنیاد رکھی جاتی۔

اب ذرا پچھلے چالیس سال میں آنے والی حکومتوں اور سیاست کا جائزہ لے لیتے ہیں تو یہ بھی اندازہ ہوجائے گا کہ نظریاتی سیاست کو کس طرح ختم کیا گیا اور کرپشن کے ذریعے کیسے تبدیلی لائی گئی جس میں خود سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں کا عمل دخل بھی شامل ہے۔

اگر کوئی نظریاتی طور پر کمزور ہے تو وہ جلد ہی بکنے کو تیار ہوجاتا ہے۔ان چالیس سالوں میں دو طویل فوجی حکومتیں رہیں۔ ایک جنرل ضیاء الحق کی 11؍سال اور جنرل پرویز مشرف کی 9؍سال! سیاسی حکومتوں میں پی پی پی کی 1977ء کے بعد بے نظیر کی پہلی حکومت 18؍ماہ، دوسری تقریباً ڈھائی سال اور تیسری 5؍سال۔

اسی طرح پی ایم ایل (ن) کی پہلی دو حکومتیں ڈھائی سے تین سال رہیں اور آخری حکومت پانچ سال! سویلین حکومتوں پر سب سے بڑا الزام کرپشن کا اور دوسرا خراب طرزحکمرانی کا رہا۔ اس کے مقابلے میں آمرانہ حکومتوں کے دوران ہمیں سیاسی طور پر جماعتوں کو کمزور کرنا، من پسند گروپ تشکیل دینا، لسانی و فرقہ واریت، ڈرگ اور گن کلچر اور اعلیٰ عدلیہ کو پی سی او کے ذریعے نظریہ ضرورت کے تحت چلانا نظر آتا ہے۔

جنرل ضیاء کے دور میں روس کے خلاف جہاد افغانستان کے نتیجے میں جس طرح امریکی ڈالر آئے اور ساتھ ہی ہیروئن اور اسلحہ آیا، اس نے نہ صرف پورا معاشرے کو تباہ کردیا بلکہ سیاست میں بھی پیسہ آیا جس کی پہلی مثال ہمیں 1989ء میں اس وقت ملی جب اس وقت کی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی۔

اس سے پہلے نظریاتی سیاست کو ختم کرنے کیلئے پہلے میڈیا پر پابندی لگی پھر طلبہ یونین اور ٹریڈ یونین پر اور پھر سیاست کو جماعتی سے غیر جماعتی کرکے اسے برادری اور لسانی و مذہبی رنگ دے دیا گیا۔اس وقت تک یہ خدشہ موجود تھا کہ بھٹو کی پھانسی کے باوجود پی پی پی کا زور نہیں ٹوٹ سکا لہٰذا سندھ کے شہری علاقوں میں جہاں ایک طرف لسانی سیاست کو فروغ دیا گیا تو دوسری جانب سب سے بڑے شہر کراچی میں انڈر ورلڈ کے ذریعے ہیروئن اور اسلحے کی تقسیم سب سے زیادہ رہی۔

پنجاب میں پی پی پی کا زور توڑنے کیلئے ایسے خاندان کو سامنے لایا گیا جن کا سیاست سے دور دور تک کا واسطہ نہیں تھا۔ اس خاندان کا بھٹو سے اختلاف صرف اس بات پر تھا کہ اس نے ان کی انڈسٹری کو بھی قومیا لیا تھا۔ ان کی وہ فیکٹریاں واپس کی گئیں یہ کہہ کر کہ اب سیاست بھی کریں اور کاروبار بھی…! اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ سیاست میں کرپشن کے پیچھےکون سے عوامل کارفرماتھے ۔

اب سویلین حکومتیں بنانے اور گرانے کا سلسلہ شروع ہوا اور 1985ء سے لے کر 1999ء تک پانچ حکومتوں کا خاتمہ ہوا۔ سب پر الزام کرپشن کا مگر جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ محمد خان جونیجو کی حکومت جنیوا اپکاڈ کا شکار ہوئی، بینظیر کی پہلی حکومت پر جو الزام لگے، وہ عدالتوں میں ثابت نہ ہوسکے پھر نواز شریف کی پہلی حکومت کرپشن پر ہٹائی گئی مگر پھر واپس لے آئی گئی۔

اس سارے عرصے میں ہمیں پیسہ بیدردی سے خرچ ہوتا نظر آیا۔ حکومت بنانے میں اور گرانے میں! اصغر خان کیس اس کی عملی شکل ہے۔ ویسے تو اور بھی بہت کچھ ہوا۔ 12؍اکتوبر 1999ء کو پرویز مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹا تو ان کے 9؍سال کے عرصے میں ہم کو ایک اور جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی جنگ روس کے خلاف تو دوسری دہشت گردی کے خلاف!

جتنا نقصان پہلی جنگ سے ہوا، اتنا ہی دوسری جنگ سے شاید پہلی جنگ کا حصہ نہ بنتے تو دوسری کی نوبت نہ آتی۔ اس دور میں احتساب کا نعرہ بڑے زورو شور سے لگا مگر پھر ’’نیب‘‘ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا۔ جماعتوں کو توڑا گیا اپنا اقتدار بچانے اور بڑھانے کیلئے اور ظاہر ہے یہ سب ملکی مفاد میں ہی کیا گیا ہوگا۔

بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں نے ان سالوں میں جو کچھ کیا، اس کا کوئی دفاع نہیں کیا جاسکتا وہ شریک کار رہیں۔ شاید ہی کسی رکن اسمبلی نے وفاداری تبدیل کرتے وقت اپنے پچھلے کردار پر معافی مانگی ہو، شرمندہ ہوا ہو۔

نہ ان جماعتوں نے اپنی جماعتوں میں جمہوری کلچر کو فروغ دیا اور نہ ہی احتساب کا کوئی نظام وضع کیا صرف کرپشن کو فروغ دیا جس سے ادارے تقسیم ہوئے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج بھی اس حکومت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ماضی میں شریک جرم رہے ہیں۔ آج بھی احتساب پر سوالیہ نشان اس لئے ہے کہ سب کا احتساب ہوتانظر نہیں آتا۔ آج بھی وفاداریاں تبدیل کروا کر حکومت بنائی جاتی ہے صرف انداز بدل گیا ہے۔

وہ زمانے گئے جب سیاست رومانس کے مانند تھی جس کی خاطر لوگ جان دینے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے، نظریات پر پھانسی چڑھ جاتے تھے، انہیں کوئی منی ٹریل نہیں دینا پڑتی تھی۔ ان کا اثاثہ ان کے نظریات ہوتے تھے، کتاب اور قلم ہوتے تھے مگر نظریاتی سیاست سے کرپشن تک کی کہانی سناتے وقت پورا سچ بولنا چاہئے۔ فیض یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ یہ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے اور جالب یہ کہتا ہوا رخصت ہوا کہ

ہے کوئی تو پرچم لے کر نکلے اپنے گریباں کا جالب

چاروں جانب سناٹا ہے دیوانے یاد آتے ہیں

دیکھتے ہیں پاناما اور اومنی کے بعد سنگین غداری کیس بھی کسی انجام تک پہنچے گا یا جو اب تک ہوا، اسے غنیمت جانیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں