دائروں کا سفر؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دن ، مہینے ،سال گزرتے چلے جا رہے ہیں لیکن ہماری فکری گرہیں ہیں کہ کھلنے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ وہی منیر نیازی کا اضطراب کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔ سفر بھی ، معلوم یہ ہوتا ہے ، دائروں کا سفر ہے۔ ایک عشرے کی مسافت کے بعد پتا چلتا ہے جہاں سے چلے تھے گھوم کر وہیں آن پہنچے ہیں۔

فکر کی دنیا میں نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے ہمارے مسائل آج بھی وہی ہیں۔ ہمارا پہلا مسئلہ ریاست کی شناخت کا ہے۔ ہمارا سماج آج تک اس فکری گرداب سے باہر نہیں نکل پایا کہ ہم ایک قومی ریاست ( نیشن سٹیٹ) یا ہم امت مسلمہ کے سیاسی تصور کے علمبردار ہیں۔ہمارے بہت سے فکری مسائل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اس سوال کا کوئی واضح اور دوٹوک جواب نہیں۔

نیشن سٹیٹ کی اپنی ضروریات ہوتی ہیں اور امت کے اپنے تقاضے۔ہم یہ طے نہیں کر پا رہے کہ ہم نے نیشن سٹیٹ کی ضروریات کو ترجیح دینی ہے یا امت کے تقاضوں کو اولین درجے پر رکھنا ہے۔یہ الجھن ہمارے سماج کی نفسیاتی تشکیل میں بھی بروئے کار آئی ہے اوراس نے ہماری خارجہ پالیسی کی صورت گری میں بھی اپنا حصہ ڈالا ہے۔

ہمارا سماج گاہے پاکستان سے زیادہ مختلف برادر اسلامی ممالک کے لیے پریشان پھرتا ہے اور گاہے کچھ طبقے ان برادر ممالک کی پراکسی کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔

ہماری خارجہ پالیسی فلسطین پر ناجائز قبضے کی وجہ سے اسرائیل کو تو تسلیم نہیں کرتی لیکن فیصلہ سازوں سے کوئی طالب علم سوال پوچھ لے کہ ہم نے تو فلسطین کاز کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کیا ،ہمیں یہ تو بتائیے برادر اسلامی ممالک نے ہمارے مسئلہ کشمیر پر کتنی حساسیت دکھائی ،تو اس سوال کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔

ہم قوم رسول ہاشمی ﷺ سے ہیں، ہم امت سے لاتعلق نہیں رہ سکتے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امت کا جو تصور ہمارے ہاں رائج ہے عملا اس کا کہیں وجود نہیں۔ لیکن ہم مروجہ معنوں میں ایک نیشن سٹیٹ بھی نہیں بن سکتے جو مسلمانوں کے مسائل سے لاتعلق ہو کر صرف اپنا مفاد دیکھے۔ہمیں اب تک یہ فکری گرہ کھول لینی چاہیے تھی اور امت اور قومی ریاست کے تصور میں اعتدال پیدا کرتے ہوئے سماج کو ایک فکر میں پرو لینا چاہیے تھا ۔

لیکن یہ کام نہیں آج تک نہیں ہو سکا۔ ہمارا دوسرا مسئلہ سوال ملٹری ریلیشن شپ کا ہے۔ہمارے ہاں اس باہمی تعلق میں جو تنائو رہا وہ ہم سب کے سامنے ہے لیکن اس کی وجہ سے ہم نے جو نقصانات اٹھائے کاش کبھی ہم ان کو درست طور پر جان پائیں۔ایک پیج اور ایک سطر کی باتیں ہم بے شک سنتے آئے ہیں لیکن امر واقع یہ ہے کہ یہ سوال ابھی تک اپنی پوری معنویت کے ساتھ موجود ہے کہ سول ملٹری ریلیشن شپ کی نوعیت کیا ہو گی ۔

ہمیں سقوط ڈھاکہ کے بعد اس معاملے کو بیٹھ کر نبٹا دینا چاہیے تھا کہ اس کے بعد کسی کو یہ کہنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی کہ حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں بلکہ سب کو معلوم ہوتا کہ حکومت اور فوج وطن عزیز کی خاطر بند مٹھی کی طرح ہیں اور یہاں کسی غیر ملکی قوت کو کوئی خلاء نہیں ملے گا جہاں وہ بروئے کار آ سکے۔

ہمارا تیسرا فکری مسئلہ یہ سوال ہے کہ مذہب اور ریاست کا باہمی تعلق کیا ہونا چاہیے ۔ اس سوال کا ہم آج تک حل تلاش نہیں کر سکے۔ آئین نے پاکستانی ریاست کی شناخت کا تعین کر دیا ہے کہ پاکستان کا ریاستی مذہب اسلام ہو گا لیکن اس کے باجود حکومت اور اہل مذہب کے درمیان ایک عمومی بے گانگی ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہی۔

اس بے گانگی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ابھی تک مذہب اور ریاست کے باہمی تعلق کی گتھی ہمارے سماج میں سلجھ نہیں پائی۔اس فکری گرہ نے پورے سماج کو ایک خاص نفسیاتی بحران میں مبتلا کر رکھا ہے ۔عشروں بیت گئے یہ گرہ کھلنے میں نہیں آ رہی۔

احتساب کسی بھی سماج کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتا ہے لیکن احتساب کے باب میں جن سوالات کا ہمیں بطور قوم عشروں پہلے سامنا تھا آج بھی وہی سوالات ہمیں اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہیں اور احتساب اور انتقام کے مابین جو باریک سی ایک لائن ہوتی ہے وہ کل جتنی غیر واضح تھی آج بھی اتنی ہی غیر واضح ہے۔

احتساب کا عمل عشروں پہلے بھی بڑے طنطنے سے شروع ہوا تھا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ برسوں سے بعض لوگ کٹہرے میں ہیں ، ان کی عمومی شہرت بھی اچھی نہیں لیکن اس کے باوجود ان سے ایک روپیہ تک لے کر قومی خزانے میں جمع نہیں کرایا جا سکا۔ کرپشن کے خاتمے کے عزائم پر مبنی جو تقاریر ایوب خان صاحب کے دور میں ہوا کرتی تھیں وہی تقاریر اب تک ہوتی آ رہی ہیں۔بس اتنا ہے کہ وقت کے ساتھ مقررین اور سامعین بدل جاتے ہیں ، متن وہی رہتا ہے، اور نتیجہ بھی۔

ہماری کشمیر پالیسی کیا ہے؟ راز کی یہ بات نہ عشروں پہلے کسی کو معلوم تھی نہ اب ۔ غیر معمولی تحریک وہاں چلی۔ ہوش ربا قربانیاں دی گئیں۔عسکریت کا ایک بے مثال دور جوانوں کے لہو سے سرخ ہو کر بیت گیا ۔اور اب وہاں پھر ایک انتہائی طاقتور تحریک چل رہی ہے۔

خالص مقامی رنگوں سے مہکتی یہ تحریک اتنی جاندار ہے کہ دنیا کے لیے اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ لیکن کسی کو معلوم نہیں پاکستان کی پالیسی کیاہے اور موجودہ حالات میںوہ کشمیریوں کے لیے کیا کرنے جا رہا ہے؟

سوویت یونین کے انخلاء کے بعد امریکہ نے افغانستان سے توجہ ہٹائی تو وہاں خانہ جنگی شروع ہو گئی اور اس کا وبال ہمارے اوپر آن پڑا۔ آج پھر امریکہ پیچھے ہٹنے کو ہے اور وہاں پھر ایسے ہی خطرات ہیں۔لیکن ہماری پارلیمان میں مستقبل کے امکانات اور خدشات پر کوئی بات نہیں ہو رہی۔

مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔افسوس یہ کہ ہماری بے نیازی بھی اسی طرح قائم ہے۔ہماری بلا سے یہ مسائل حل ہوں یا ناسور بن جائیں ۔ہمارے عمومی مزاج میں سنجیدگی ہے نہ اجتماعی رویوں میں۔کوئی حادثہ ہمیں عارضی طور پر جھنجھوڑ ڈالے اور ہم ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھیں تو الگ بات ہے ورنہ ہمارااجتماعی بیانیہ فکر و تدبر اور حکمت و دانائی جیسی قباحتوں سے کبھی آلودہ نہیں ہو سکا۔

سیاست اب سطحی موضوعات پر اوسط سے کچھ پست ذہنوں کی چاند ماری کا نام ہے اور دانشوری دست سوال دراز کر کے اس چاند ماری پر دیوان لکھنے کا ۔اس مشق کے اپنے تقاضے ہیں ، تماش بین نفسیات اور فکر و ذوق کی پستی اس کا منطقی نتیجہ، چنانچہ انجام ہمارے سامنے ہے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں