زبان کے زخم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاعر نے کہا تھا ؎

پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں

تیرے ملنے کے زمانے آئے

وہ اچھے زمانے تھے جب لوگوں کی کیفیت یہ تھی کہ بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے۔ اب معاملہ یکسر مختلف ہے۔ حضرت مرزا غالبؔ کہہ گئے ہیں ؎

تھی وہ اک شخص کے تصور سے

اب وہ رعنائی ٔ خیال کہاں؟

رعنائی ٔخیال کی جگہ الفاظ کی بدصورتی اور بیان کی خونخواری نے لےلی ہے اور اس کا نام ’عوام کی ترجمانی‘ اور ’اظہار کی آزادی‘ رکھ لیا گیا ہے۔

2019ء کا سال دھند اور سردی میں لپٹا ہوا اُمید کی شمعوں کے ساتھ طلوع ہوا ہے۔ ہم سب سے پہلے اپنے اہلِ وطن کو نئے سال کی مبارک باد پیش کرتے ہیں اور اپنے رب سے دعا مانگتے ہیں کہ یہ سال پوری انسانیت کے لیے امن و سلامتی کا پیامبر ثابت ہو اور پاکستان کےلیے شاداب امکانات کے در کھلتے چلے جائیں کہ اس نے گزشتہ سال بہت گہرے زخم کھائے ہیں جن کے باعث ایک اچھے معاشرے کے بنیادی اجزا اِعتدال، توازن اور انصاف بہت کمزور محسوس ہوتے ہیں۔

اِس تناظر میں آج کے معماروں کو سب سے زیادہ توجہ ان بنیادی اوصاف کی بحالی اور سرفرازی پر دینا ہو گی، مگر وہ تو اپنی بےتابیوں اور اَنا الحق کی سرشاریوں میں اِس بچی کھچی متاعِ گراں مایہ کو بھی تلف کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ شاید اُنہوں نے اقبالؔ کا یہ شعر نہیں پڑھا؎

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم

جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

محبت فاتح عالم تو شہد آگیں زباں،شیرینیِ کلام اور دل کی کشادگی سے پیدا ہوتی ہے جبکہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ زبان سے لگایا ہوا زخم آسانی سے مندمل نہیں ہوتا اور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

علاقائی اور عالمی سطح پر بہت ساری کامیابیاں پاکستان کی درست حکمت ِ عملی اور پیش دستی کے انتظار میں ہیں، مگر ہماری اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم زباں کے کاری زخموں سے اپنے داخلی استحکام اور قوت کو شدید ضعف پہنچا رہے ہیں۔ ہماری تاریخ میں زیادہ تر بحران زبان کے غلط استعمال اور لوگوں کی عزتِ نفس کی پامالی سے پیدا ہوئے ہیں۔

تفصیل میں جانے سے نئے سال کی خوشی کرکری ہو جائے گی اور تلخ یادیں اُفق ِ شعور پر پھیلتی جائیں گی اور جس لفظی عیاری کے آشوب سے ہم اِن دنوں گزر رَہے ہیں اس کی شدت اور ہلاکت آفرینی میں کئی گنا اضافہ ہوتا جائے گا۔ کوئی دیکھ ہی نہیں رہا کہ الفاظ کے دہکتے ہوئے شعلے کن کن بستیوں اور ایوانوں تک جا پہنچے ہیں اور مملکت ِ خداداد میں کس قدر ہولناک منظر نامہ شعلہ فشاں ہونے والا ہے۔

پاکستان کی تعمیر ِنو اور اس میں کرپشن کی مکمل بیخ کنی ایک عظیم جذبہ ہے جس کی نشان دہی قائد ِاعظم نے اپنی شہرہ آفاق گیارہ اگست کی تقریر میں کی تھی۔ اُنہوں نے بڑی صراحت سے فرمایا تھا کہ غلامی کے زمانے میں ہمارے مسلم عوام کے اندر بدترین معاشرتی خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں جن میں بدعنوانی، رشوت خوری، اقربا پروری، ذخیرہ اندوزی اور چوربازاری بڑے مہلک عوارض ہیں جن پر قابو پانا اشد ضروری ہے۔

اُنہوں نے حکمرانوں کے احتساب کے لیے کڑے قوانین بھی بنائے تھے اور اپنے عمل سے دیانت داری، کفایت شعاری اور احساسِ ذمہ داری کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کی تھیں۔ اُن کی وفات کے بعد اقتدار کو ایک مقدس امانت نہیں سمجھا گیا اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آمریتوں میں کرپشن کو پروان چڑھنے کے مواقع بہت زیادہ ملے۔

سول ادارے اختیارات سے محروم ہو گئے اور احتساب کا پورا نظام تلپٹ ہو جانے سے زندگی کے ہر شعبے میں بدعنوانیاں طاقت پکڑتی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دورِ آمریت کے خاتمے پر معاشرہ پہلے سے کہیں زیادہ کرپشن میں لت پت نظر آتا تھا۔

جناب عمران خان چیئرمین تحریک ِانصاف کرپشن کے خاتمے کے پروگرام کے ساتھ انتخابات میں اُترے۔ اقتدار میں آنے کے بعد وہ اچھی حکمرانی قائم کرنے پر توجہ دیتے کہ اس کے ذریعے کرپشن کے سوتے خشک ہوتے اور ایک منصفانہ سماجی اور معاشی نظام قائم ہوتا۔ اس بنیادی کام پر پوری توجہ دینے کے بجائے وہ کرپٹ عناصر کو جیل میں بند کرنے اور اُن کی رسوائی کا سامان کرنے پر اپنا قیمتی وقت اور توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔

اس کا نتیجہ افراتفری اور اقتصادی اور سیاسی عدم استحکام اور غیریقینی صورتِ حال میں نکل رہا ہے۔ گزشتہ ایک ڈیڑھ برس میں جے آئی ٹی کا جو نیا نظام عدالتی سطح پر متعارف ہوا ہے، اس نے بھی عجب عجب گُل کھلائے ہیں اور عدالت ِ عظمیٰ کو بھی مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ اِسی عدالت کے ایک فاضل بینچ نے جناب نوازشریف کو جس مقدمے میں عمر بھر کے لیے نااہل قرار دیا وہی مقدمہ جب احتساب عدالت میں زیرِسماعت آیا، تو اِس میں اُس نے سابق وزیر ِاعظم کو بری کر دیا جس نے بڑے بڑے آئینی سوالات اُٹھا دیئے ہیں۔

حال ہی میں عدالت ِعظمیٰ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لیے ایک جے آئی ٹی تشکیل دی اور حکم دیا کہ اِس کی خفیہ رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ عدالت میں سربمہر رپورٹ پیش کی گئی، مگر اِس کے ساتھ ہی وہ لیک کر دی گئی اور اخبارات میں منی لانڈرنگ کی ہوشربا داستانیں شائع ہوئیں۔

اِس رپورٹ میں سابق صدر آصف زرداری، اُن کی بہن فریال تالپور اور بلاول زرداری کے علاوہ ڈیڑھ سو سے زائد افراد کے نام تھے۔ فاضل عدالت نے اس لیک کا نوٹس لینے کے بجائے اس پر عمل درآمد کا حکم دیا۔ جے آئی ٹی کے سربراہ نے حکومت کو سفارش کی کہ تمام 172؍افراد کے نام ای سی ایل میں ڈال دیئے جائیں۔

ان میں سندھ کے وزیرِاعلیٰ سید مراد علی شاہ کے علاوہ کئی ایسے افراد بھی شامل تھے جو وفات پا چکے ہیں۔ وفاقی کابینہ نے اپنا ذہن استعمال کیے بغیر 172اشخاص ای سی ایل میں ڈال دیئے۔ اس کے بعد حکمران جماعت کی طرف سے سندھ میں حکومت تبدیل کرنے کا مشن طے پایا۔

وزیرِاطلاعات آپریشن پرروانہ ہونے ہی والے تھے اور الفاظ کے شعلے پورے سیاسی نظام کو بھسم کر دینے کے قریب تھے کہ فاضل چیف جسٹس جناب میاں ثاقب نثار نے ایک حکم کے ذریعے تمام غیرآئینی اقدامات پر پابندی عائد کر دی۔ حالات کو معمول پر لانے کے لیے زباں بندی اور سیاسی بمباری کی بندش ضروری ہے، مگر میری دلی آرزو ہے کہ بمصداقِ مزرا غالبؔ اللہ تعالیٰ ان کو دونوں یعنی دل و زباں نئی عطا کرے۔

یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات

دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

بشکریہ روزنامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •