بٹ فرام نیویارک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تبسم بٹ سے ڈھائی سال بعد ملاقات ہو رہی تھی۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ بندہ امریکہ آئے اور تبسم بٹ سے ملے بغیر پاکستان لوٹ جائے۔
ویسے تو اپنے ملتانی دوست روشن ملک سے بھی ملنے کو بڑا دل تھا‘ لیکن کیا کریں وہ بہت دور رہتا ہے۔

کیلیفورنیا سے اکرام خٹک کا میسج تھا۔ کہنے لگے: میرے پاس آجائیں۔ میں نے کہا: میں تو بہت دور ہوں۔ مجھے اپنے پاس بلانے کے لیے خٹک صاحب نے ایسا کام کیا کہ میرے بس میں ہوتا تو اس کے بعد فلائٹ لے کر کیلیفورنیا چلا جاتا۔ میں نے ایک دفعہ اپنے کالم میں لکھا تھا: میرے دوست ڈاکٹر احتشام قریشی نے مجھے کہیں لے کر جانا ہوتا تو کہتے: شاہ جی دیکھ لیں‘ اس شہر میں کتابوں کی دکان بارنز اینڈ نوبل ہے۔ اور ڈاکٹر قریشی کتابیں خرید کر دیتے۔

اکرام خٹک نے شاید وہ کالم پڑھا ہوا تھا۔ مجھے واٹس ایپ پر بارنز اینڈ نوبل کی تصویر بھیج دی جس کا مقصد وہی تھا کہ حضور یہاں بھی کتب خانہ ہے۔ میں ہنس پڑا‘ سب کو پتہ چل گیا ہے کہ ڈاکٹر احتشام کی طرح کیسے رئوف کو بلیک میل کیا جا سکتا ہے۔ خٹک نے کہا: نہیں آسکتے تو کتابوں کے نام بھیجیں۔ اور پھر اکرام خٹک نے میری طلب کردہ چار کتابیں بھجوائیں۔

عارف سونی کو فون کیا تو پتہ چلا پاکستان گئے ہوئے ہیں۔ مشتاق بھائی نیویارک لانگ آئی لینڈ چھوڑ کر میامی جا بسے ہیں۔ لانگ آئی لینڈ کا چکر لگا تو دل چاہا‘ مشتاق بھائی کے گھر کا چکر بھی لگایا جائے‘ جہاں چار سال قبل ان کی بیٹی کی شادی پر بڑی محفل جمی تھی۔ مشتاق بھائی ہمارے دوست کالم نگار ہارون الرشید کے کزن اور سینیٹر طارق چوہدری کے بھائی ہیں۔

اس شادی میں پاکستان سے طارق چوہدری، خالد بھائی، مجیب الرحمن شامی، سابق صوبائی وزیر چوہدری شفیق بھی آئے تھے۔ ہارون الرشید حسب معمول وعدہ کرکے نہ آئے اور محفل ادھوری رہی۔ پھر مشتاق بھائی نے میامی جانے کا فیصلہ کر لیا۔ حیران ہوتا ہوں‘ مشتاق بھائی برسوں کی دوستیاں نیویارک چھوڑ کر کیسے میامی میں دل لگا بیٹھے۔

تبسم بٹ برسوں سے ہمارا پروگرام دیکھنے کے بعد ایک میسج اپنی آواز میں ریکارڈ کرکے بھیجتے‘ جس کی تان اس پر جا کر ٹوٹتی ‘ہونا کُج وی نئیں‘۔ یہ میسج سن کر میں اور عامر متین مزید ڈیپریس ہو جاتے اور محسوس ہوتا کہ ہم ایک ایسے کام میں پڑ گئے ہیں جس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا؟

کیا ہم ساری عمر راگ الاپتے رہیں گے اور سننے والے سر دھنتے رہیں گے؟ بٹ صاحب کے مطابق اس جملے‘ جو بعد میں بہت ہٹ ہوا یعنی ‘ہونا کُج وی نئیں‘ کی تخلیق کار ان کی بیگم صاحبہ تھیں جو ہمارا شو دیکھنے کے بعد بٹ صاحب کو کہتیں: اپنے دوستوں کو کہیں بس کر دیں، ہونا کُج وی نئیں۔

جب پانامہ پر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو بھی بٹ صاحب نے وہی میسج ریکارڈ کرکے واٹس ایپ پر بھیجا: آپ اور عامر متین بولتے رہیں ہونا کُج وہی نئیں۔ لیکن اس رات جب ہمارا پروگرام شروع ہوا تو میرا خیال ہے عامر متین اور میں شاید ان اینکرز میں سے تھے جو مایوس نہ تھے۔

عامر متین نے الٹا کہا تھا: اب پانامہ سکینڈل اپنے بچے انڈے دینے شروع کر دے گا۔ عامر متین نے ایک ٹرم ایجاد کی تھی کہ یہ پانامہ دوم شروع ہو رہا ہے اور شریفوں کے گلے میں پڑا پانامہ کا ڈھول اب بجتا ہی رہے گا۔ عامر متین کی بات سچ ثابت ہوئی‘ اس کے بعد پانامہ نے وہ وہ کارنامے سرانجام دیے کہ دنیا حیران رہ گئی اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ جب نواز شریف کو نااہل قرار دے کر مقدمات نیب کو بھیجے گئے تو پھر بٹ صاحب کے میسج کا انتظار کیا‘ لیکن میسج نہ ملا۔

اب زبیر بھائی کے ساتھ بٹ صاحب سے ملاقات ہو رہی تھی تو پہلا یہی سوال کیا کہ ‘بٹ صاحب ہن آرام اے‘ نواز شریف جیل میں ہیں اور آپ کا دوست عمران خان وزیر اعظم بن گیا ہے۔

تبسم بٹ صاحب خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی شخصیت تو مجھے پسند ہے ہی‘ ان کا قہقہہ سب سے زیادہ پسند ہے۔ کھل کر ہنسنے اور اونچا قہقہہ لگانے والے لوگ میری کمزوری ہیں۔ ہونٹوں پر محض مسکراہٹ لانے پر اکتفا کرنے والوں سے مجھے الجھن ہوتی ہے۔

اب کوئی یہ نہ کہہ دے کہ میرے اوپر سیزر کی اس بات کا اثر ہے‘ جب بقول شیکسپیئر سیزر نے اپنے متوقع قاتل کیسیس کو دیکھا تو اس نے یہی بات اپنے دوست مارک انٹنی سے کہی تھی کہ مجھے اس کیسیس سے ڈر لگتا ہے۔ مارک انٹنی حیران ہوا کہ سیزر جیسا جنرل ایک عام سے بندے سے ڈر گیا ہے حالانکہ کچھ دن پہلے ہی تو وہ پمپی کو شکست دے کر روم آیا تھا۔

شیکسپیئر نے سیزر کے منہ سے انسانی نفسیات پر وہ کمال بات کہلوائی تھی کہ آج تک وہ ہر بندے پر فٹ آتی ہے۔ سیزر بولا تھا: میں کیسیس پر اس لیے بھروسہ نہیں کرتا کہ یہ بہت کم مسکراتا ہے۔ تمہاری طرح یہ کھل کر قہقہے نہیں لگاتا۔ اسے کھیل پسند نہیں‘ جیسے تم کھیل کود میں لگے رہتے ہو۔ کھل کر ہنستے ہو، لطیفے سناتے ہو جبکہ یہ بندہ ہر وقت سنجیدہ رہتا ہے اور مجھے ایسے لوگوں سے ڈر لگتا ہے۔

سیزر کا ڈر درست نکلا۔ اسی کم گو اور کم مسکرانے والے کیسیس نے بعد میں بروٹس کو ورغلا کر سیزر کا قتل کرایا۔

چنانچہ بٹ صاحب مجھے اس لیے اچھے لگتے ہیں کہ وہ بڑا قہقہہ لگاتے ہیں اور سننے والے کو بھی مزہ آتا ہے‘ اور آپ کو سیزر کی طرح ان سے ڈر بھی نہیں لگتا۔

ایک وہ کشمیری ہیں اوپر سے’ سوہنڑے‘ بہت اور پھر لاہوری تڑکا… لہٰذا ان کی شخصیت کا اپنا ایک چسکا ہے۔ میں نے کہا: بٹ صاحب پھر سنائیں۔ بڑا قہقہہ لگایا اور فوراً بولے: یہ بات تو میری بیگم کہتی تھی کہ ہونا کُج وی نئیں، میں تو صرف آپ کو ان کا میسج بھیج دیتا تھا۔ میں نے کہا: بٹ صاحب آپ نے پورے تین سال ہمارے ‘تراہ‘ نکالے رکھے اور اب کہہ رہے ہیں بیگم صاحبہ کہتی تھیں۔

تبسم بٹ عمران خان کے پرانے دوستوں میں سے ہیں۔ وہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جو عمران خان سے اس طرح مرعوب نہیں جیسے ان کے گرد باقی لوگ ہوتے ہیں۔ کوئی بھی بات عمران خان کے منہ پر کہہ دیتے ہیں۔ انہوں نے بھی یہاں امریکہ میں ورجینیا کے اکبر چوہدری کی طرح عمران خان کے لیے کافی فنڈز اکٹھے کیے ہیں۔

بات چل نکلی تو ہارون الرشید کا پوچھنے لگے۔ ہارون صاحب کیلئے بٹ صاحب کے دل میں احترام تھا۔ ویسے کمال ہوا کہ جو بندہ بائیس برس عمران خان کے ساتھ اکیلا کھڑا رہا‘ اس کے حق میں لکھتا‘ بولتا رہا اور اپنے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ کرتا رہا‘ آج عمران خان اسے جانتا تک نہیں۔ جو ہارون الرشید پر عمران خان کی وجہ سے تبرہ پڑھتے تھے‘ آج وہ وزیر اعظم کی قربت کے مزے اڑا رہے ہیں۔

بٹ صاحب نے مجھے دیکھتے ہی کہا: آپ جو کہتے ہیں، بولتے ہیں، کہتے رہیں‘ بولتے رہیں‘ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں‘ آپ کا کام بولنا اور حکمرانوں پر تنقید کرنا ہے۔ اگر ہم اس وقت خوش ہوتے تھے جب آپ‘ عامر متین اور ارشد شریف، نواز شریف اور زرداری پر تنقید کرتے تھے تو اب بھی آپ لوگوں کی بات غور سے سننا چاہیے۔ میں نے کہا: بٹ صاحب آپ کی اس بات نے ہمارا دل جیت لیا‘ کتنے لوگ ہیں جو اس طرح سوچتے ہیں۔

بٹ صاحب لاہور کی تیاری کیے بیٹھے تھے۔ چار جنوری کو علی ظفر کی بیٹی کی شادی وفاقی سیکرٹری احمد نواز سکھیرا کے بیٹے سے لاہور میں ہو رہی ہے۔ کہنے لگے: لاہور کے بعد میں نے اسلام آباد آنا ہے۔

چک شہزاد میں اپنے ہاتھ سے کھانے پکا کر کھلانے ہیں‘ کیا یاد کریں گے آپ لوگ‘ عامر متین، محمد مالک، حامد میر، ارشد شریف، رحمن اظہر اور دیگر دوستوں کو لے آئو۔ میں نے کہا: بٹ صاحب امریکہ میں آپ کھانے کھلاتے ہیں‘ اسلام آباد میں بھی آپ ہی کھلائیں گے۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ کہنے لگے: اپنے ہاتھوں سے کھانا پکا کر دوستوں کو کھلانے کا اپنا سواد ہے۔ ویسے جو ذائقہ بٹ صاحب کے ہاتھ میں ہے، میں نے بہت کم لوگوں میں دیکھا۔

میں نے کہا: آپ اسلام آباد میں ہوتے تو یقین کریں آپ کے زندگی سے بھرپور قہقہے‘ باتیں سننے اور آپ کے ہاتھوں کے پکوان کھانے کے لیے روزانہ آپ کے ڈیرے پر نازل ہوتے۔ اب کیسیس کی طرح مسکراہٹ میں بھی کنجوسی دکھانے والے تو بہت ہیں لیکن نیویارک کے تبسم بٹ جیسے دل کھول کر قہقہے لگانے والے نہیں۔ یہ سن کر تبسم بٹ نے ایک اور زندگی سے بھرپور قہقہہ مارا جس کی گونج پورے لانگ آئی لینڈ میں پھیل گئی۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں