دہشتگردی: بلوچستان میں اضافہ، باقی ملک میں کمی

ریاض سهیل - بي بي سي کراچۍ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دہشتگردی

Getty Images
دہشتگردی کے ان حملوں میں سے 171 حملے تحریک طالبان یا اس سے علیحدہ ہونے والے گروہوں جماعت الاحرار اور اس جیسے اور گروہوں مقامی طالبان اور نام نہاد دولت اسلامیہ وغیرہ نے کیے

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں دہشت گری کے واقعات میں سال 2018 کے دوران گزشتہ سال کی نسبت 23 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پاکستان میں دہشتگردی کے مجموعی واقعات میں 29 فیصد کمی ہوئی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ گروہ نام نہاد دولت اسلامیہ ایک خطرہ بنے رہے۔

پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز نے اپنی سالانہ رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اس سے وابستہ گروہوں نے سال 2018 میں ہونے والے دہشتگردی کے اکثر واقعات کی ذمہ داری قبول کی، ان کے بعد دوسرے نمبر پہ دہشتگردی کے واقعات میں علیحدگی پسند تحریکیں ملوث رہیں۔

سب سے زیادہ حملے صوبہ خیبرپختونخواہ اور اس سے ملحقہ سابقہ فاٹا میں ہوئے تاہم دہشتگردی کے حملوں میں سب سے زیادہ افراد بلوچستان میں مارے گئے۔

اس سال نئی پیش رفت بلوچ قوم پرست مسلح گروہوں کی جانب سے خودکش حملوں کا استعمال تھا جو کہ خطرناک رجحان کی عکاسی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بلوچ قوم پرست عناصر کی جانب سے اس سال میں 2 خودکش حملے بہت خطرناک رجحان ہیں تاہم اس کی وجہ سے ان کے ساتھ مصالحت کی پالیسی کو ترک نہیں کیا جانا چاہیئے جو کہ نیشنل ایکشن پلان کا ایک واضح حصہ ہے۔

اس رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق سال 2018 میں پاکستان کے 64 اضلاع میں نسلی، مسلکی اور مذہبی دہشتگردی کے 262 واقعات ہوئے۔ ان میں 19 خودکش حملے شامل تھے۔ اسی طرح ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں سال 2017 کے مقابلے میں سال 2018 میں 29 فیصد کمی ہوئی۔

دہشتگردی

Getty Images
دہشتگردی کی سب سے زیادہ مہلک کاروائیاں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کی گئیں، سال 2018 میں انتخابی مہم کے دوران 24 دہشتگرد حملے ہوئے

دہشتگردی کے ان حملوں میں سے 171 حملے تحریک طالبان یا اس سے علیحدہ ہونے والے گروہوں جماعت الاحرار اور اس جیسے گروہوں اور مقامی طالبان اور نام نہاد دولت اسلامیہ وغیرہ نے کیے اور ان حملوں میں 449 افراد ہلاک ہوئے جبکہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملوں میں 96 افراد ہلاک ہوئے، ان حملوں کی تعداد 80 تھی۔ ملک میں فرقہ وارانہ دہشتگردی کے کل 11 واقعات ہوئے اور ان میں 50 افراد ہلاک جبکہ 45 زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق دہشتگردی کے کل واقعات میں سے 136 ایسے تھے جن میں براہ راست قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایاگیا ۔ جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے دوران 120 مسلح دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ سال 2017 میں یہ تعداد 524 تھی۔

دہشتگردی کی سب سے زیادہ مہلک کارروائیاں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کی گئیں، سال 2018 میں انتخابی مہم کے دوران 24 دہشتگرد حملے ہوئے جن میں 218 افراد مارے گئے جبکہ 394 افراد زخمی ہوئے ۔

اس رپورٹ میں پاکستان کی سرحد پر بھی کارروائیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے مطابق افغانستان، ایران اور بھارت کی سرحدوں پر 131 حملے ہوئے جن میں 111 افراد مارے گئے اور 290 زخمی ہوئے۔ پاک ایران سرحد پر بھی کشیدگی دیکھی گئی جس کے سبب سفارتکاری کی سطح پر بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

پاکستانی کرسچن

Getty Images
اس رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق سال 2018 میں پاکستان کے 64 اضلاع میں نسلی، مسلکی اور مذہبی دہشتگردی کے 262 واقعات ہوئے۔

امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے بلوچستان اس سال بھی توجہ کا مرکز رہا ۔یہاں 354 افراد دہشتگرد حملوں میں مارے گئے جو کہ ملک بھر میں مارے گئے افراد کی کل تعداد کا 59 فیصد ہیں۔ بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے 2 حملے ان کی روایتی کاروائیوں سے مختلف تھے جن میں انہوں نے چینی سفارتکاروں اور کارکنوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مذہبی انتہا پسند عناصر اورعلیحدگی پسندوں کو ایک نظر سے نہ دیکھا جائے اگرچہ بلوچستان میں مذہبی انتہا پسندی کی کارروائیاں تعداد میں کم ہیں تاہم ان میں مارے جانے والے افراد قوم پرستوں کے دہشتگرد حملوں سے کہیں زیادہ ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان کے اس نقطے جس میں قوم پرست دہشتگرد عناصر سے مصالحت پہ زور دیا گیا ہے تاحال اس پہ کوئی قرار واقعی کوشش نہیں ہوئی ۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ نیشنل ایکشن پلان پہ نظر ثانی کی ضرورت ہے تاہم قومی سلامتی کی داخلہ پالیسی 2018 تا 2023 میں بھی اداروں کی واضح ذمہ داریوں کے تعین میں ابہام پایا جاتا ہے۔ اس کو موثر بنانے کے لئے اس پرپالیسی مکالمے کی ضرورت ہے ۔

سال 2018 کے دوران بھی حکومت اور کالعدم جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان چوہے بلی کا کھیل جاری رہا۔ اگر کسی ایک حکومتی ادارے نے ان کی سرگرمیوں پہ پابندی لگائی تو کسی دوسرے ادارے نے انہیں اس پابندی سے آزاد کردیا۔ بہت سے ایسے رہنماء جن کا تعلق کالعدم جماعتوں سے تھا ، جن کے نام فورتھ شیڈول میں شامل تھے اور ان پر اپنے اضلاع سے باہر جانے پر پابندی تھی انہوں نے نہ صرف اپنے اضلاع سے باہر جا کر سڑکوں پہ احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کیا بلکہ حکومت کو مجبور کیا کہ وہ ان کے نام فورتھ شیڈول سے خارج کرے۔

ان میں سے بعض نے انتخابات میں بھی حصہ لیا اور جب ان کی جماعتوں پر انتخابات میں شامل ہونے پر پابندی لگائی گئی تو انہوں نے اپنی جماعتوں کے نام بدل لئے۔

بظاہر پاکستان کو اس سال بھی عالمی دنیا کو انتہا پسندی کے خلاف اپنی جنگ اور کامیابیاں منوانے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ پاکستان کی ان کوششوں پر اس وقت سوال اٹھایا جاتا رہا جب بھی کسی دہشتگرد کے خلاف ڈرون حملہ ہوا یا کسی کالعدم رہنماء نے عوامی سطح پر پریس کانفرنس کی یا عوامی احتجاج کیا ۔

رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ ان مسائل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں تاحال کچھ گروہوں کو قومی سطح کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ رپورٹ کے مطابق حکومتی سطح پر اس ابہام کو فی الفور ختم کرنے ضرورت ہے، رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ کالعدم جماعتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی کے بنیادی نکات میں تمام گروہوں کو بلاتعصب شامل کیا جائے اور اسے پارلیمان کے تحت ترتیب دیا جائے ۔

افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء اور مشرق وسطیٰ میں تنازعات ایک نئی متشدد لہر کا باعث بن سکتے ہیں، امریکی افواج کے ہنگامی انخلاء کی صورت میں افغان طالبان کو بڑی کامیابیاں ملنے کی توقع ہے جن کی پوری توجہ اپنے نئے دشمن نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف مرکوز ہوجائے گی، یہ امر نہیں بھولنا چاہیئے کہ افغان طالبان القاعدہ کے حمایتی رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 7627 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp