’موج مستی سے فرصت ہو تو تھوڑا کام ہو جائے؟‘


’نئے پاکستان‘ میں بہت کچھ نیا ہے اور ہر روز پاکستان تحریک انصاف کی حکومت، اس کے وزراء اور رہنماؤں کی جانب سے ایسا کچھ کیا جاتا ہے جس پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔

آج ہم بات کر رہے ہیں گورنر سندھ عمران اسماعیل کی جو ’تبدیلی آئی رے‘ گانے میں بھی دیکھے گئے تھے۔

اتوار کو گورنر سندھ نے مشہور اور مہنگے موٹر سائیکل برینڈ ہارلے ڈیوڈسن کے مالکان پر مشتمل ایک کلب کے اراکین کو گورنر ہاؤس مدعو کیا۔ اور ساتھ لکھا ’ہارلے ڈیوڈسن بائیک کلب نے گورنر ہاؤس کا دورہ کیا۔ صدر پاکستان اور وزیر برائے ہوابازی بھی موجود تھے۔ کیا سواری تھی۔ اپنے لیے ایک لینے کا سوچ رہا ہوں۔‘

ہارلے ڈیوڈسن بائیک سستی سے سستی پانچ لاکھ جبکہ مہنگا ہو تو 50 لاکھ تک بھی ہو سکتا ہے۔

اب اتنے سارے افراد ایسی مہنگی بائیک پر سوار گورنر ہاؤس میں جمع ہوں تو لوگ سوال تو کریں گے۔

ٹوئٹر صارف صائمہ نے لکھا ’بہت ہی مضحکہ خیز ہے اور اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ کب آپ اور صدر پاکستان اپنی سرکاری رہائش گاہ بچت اور کفایت شعاری کے اعلانات کے تحت خالی کریں گے؟ ان وعدوں کا اطلاق صرف عمران خان نہیں بلکہ آپ سب پر ہوتا ہے؟‘

ڈاکٹر عائشہ نوید نے لکھا ’سندھ تھر کی حالت دیکھیں اور ۔۔۔ بائیک پر براجمان ہو کر شوخیاں منانا دیکھیں۔ کبھی لال قالین تو کبھی بائیک، کوئی ڈھنگ کا کام ہے اور؟‘

چونکہ عمران اسماعیل نے تصویر میں ہیلمٹ نہیں پہن رکھا اس لیے بہت سے لوگوں نے اس پر بھی سوال کیا جیسا کہ منصور خان نے پوچھا ’دوسروں کو حفاظت کا درس دینے والو ہیلمٹ کون پہنے گا؟‘

اور پاکستان زندہ باد ٹوئٹر اکاؤنٹ نے پوچھا ’آپ بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائیکل چلا رہے تھے کسی ٹریفک پولیس والے نے آپ کا چالان نہیں کیا؟ حیرت کی بات ہے۔‘

علی نے طنزیہ انداز میں موٹر بائیک خریدنے کے خیال پر لکھا ’سر آپ کے سابقہ ٹیکس ریٹرنز کے حساب سے آپ افورڈ نہیں کر سکیں گے۔‘

ایک اور صاحب نے لکھا ’یہ رہی کفایت شعاری اور درآمدی بل میں کمی کی باتیں۔‘

محمد نبیل کھوکھر نے لکھا کہ یہ پوسٹ اپنے وقت سے بہت پہلے گی گئی ہے۔ آئیے پہلے غربت کو سو فیصدی ختم کریں، 95 فیصد تک تعلیم عام کریں، ہر پاکستانی تک صحت کی سہولیات پہنچائیں اور پاکستان کو محفوظ بنائیں۔ پھر آپ ہارلے لے سکتے ہیں، ایک عام انسان جیسے چاہے خرچ کرسکتا ہے مگر ایک گورنر کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔‘

جہانگیر غوری نے لکھا ’آپ یہی کام کرتے ہیں؟ سیاہ چشمے پہن کر ماڈلنگ اور بس؟‘

عثمان نے لکھا کہ کسی نے صحیح کہا تھا کہ ’پاکستان میں صدر اور صوبائی گورنر سب سے زیادہ فارغ اور اچھی تنخواہ حاصل کرنے والا عہدہ ہوتا ہے۔ ثبوت ہم یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ لگے رہو۔‘

حجازی نے ٹویٹ کی کہ ’اگر یہی کام پیپلز پارٹی کرے تو اس کو تھر کے بچوں کی بھوک اور سندھ کی غربت کے بارے میں کہا جاتا ہے اور آپ کے بارے میں عوام کیا سوچ رہی ہو گی؟‘

ڈیجیٹل ملنگ نے لکھا ’موج مستی سے فرصت ہو تو تھوڑا کام ہو جائے؟‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 7187 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp