سُوری جاگیک: سورج، چاند اور ستاروں کا مشاہدہ کرنے کی برسوں پرانی کالاشا روایت

سحر بلوچ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کالاش/چترال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے شمالی علاقے کالاش میں ایک تاریخی قصہ اکثر سنایا جاتا ہے جس کے مطابق ایک خیر اللہ نامی بادشاہ نے جب کالاش کے کٹُور قبیلے پر حملہ کرنے کی حامی بھری تو اس کو ستاروں کا علم رکھنے والوں نے منع کیا اور کہا کہ ایسا کرنے سے آپ بری طرح سے ہارجاؤگے۔

اس بادشاہ نے کسی کی نہ سنی اور جنگ کی تیاری مکمل کرلی۔ لیکن حملہ کرنے پر وہ پیشن گوئیاں درست ثابت ہوئیں اور نہ صرف اس بادشاہ کو شکست ہوئی بلکہ جان کا خطرہ لاحق ہونے پر اس کو وہاں سے بھاگنے کی نوبت آگئی۔ اس بادشاہ کو افغانستان بھاگنے میں کٹُور قبیلے کے بڑوں اور بزرگوں نے مدد کی۔

اس کہانی سے زیادہ تر لوگ یہی نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور باور کراتے ہیں کہ ستاروں کا علم جاننے والوں اور سورج کا حساب رکھنے والوں کی بات کو بغور سننا چاہئیے کیونکہ ان کا حساب کبھی غلط نہیں ہوتا۔

وادی کالاش کے بارے میں مزید پڑھیے

’مواقع کی کمی لیکن خواہشات بہت‘

’اب سب بچے پاریک پاریک کہہ کر بلاتے ہیں‘

چترال میں پہلی مرتبہ خواتین بھی جنگلات کی رائلٹی میں حصہ دار

اور یہی علم کالاش کی وادئِ بمبوریت میں رہنے والے 85 سالہ سلامت خان کے پاس ہے۔

سلامت خان پچھلے پچاس سالوں سے وادیِ بمبوریت کے گاؤں پریک کے گھروں سے گزرتے ہوئے ایک ٹیلے پر چڑھ کے سورج کے طلوع ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔

کالاش میں واقع یہ گاؤں خیبر پختونخواہ کے ضلع چترال کا حصہ ہے۔ کالاش وادی کی آبادی پر اکثر مختلف اعداد و شمار بتائے جاتے ہیں لیکن صرف اس گاؤں میں رہنے والوں کی تعداد 3500 بتائی جاتی ہے۔

آج سلامت خان کے ساتھ میں بھی سورج کے طلوع ہونے کی منتظر ہوں تاکہ اس پورے عمل کو قلمبند کرسکوں اور ساتھ یہ بھی سمجھ سکوں کہ کیا اب بھی وادئِ کالاش میں ‘سوری جاگیک’ کی روایت کی پیروی کی جاتی ہے؟

‘میں اپنے والد کے ساتھ آٹھ برس کی عمر سے اس جیسے کئی مقامات پر طلوعِ سورج دیکھنے گیا ہوں۔ تب سمجھ نہیں تھی لیکن اندازے سے سمجھتا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔ اب میری عمر85 کی ہے، سرَ میں درد ہوجاتا ہے اور ٹھیک سے سنائی بھی نہیں دیتا، پھر بھی ہر روز یہاں آجاتا ہوں۔’

سوری جاگیک کیا ہے؟

سوری جاگیک برسوں پرانی کالاشا روایت ہے جس کے مطابق سورج، چاند اور ستاروں سے نہ صرف آنے والے دنوں میں موسم کے اثرات کا اندازہ لگایا جاتا ہے بلکہ مذہبی تقریبات اور رسومات کا بھی وقت مختص کرلیا جاتا ہے۔

اب اسی سے آنے والے مہینے مارچ میں جوار کی کاشت کا وقت طے ہوجائے گا تاکہ بروقت فصل کی کٹائی ہوسکےـ

سلامت نے بتایا کہ ‘اگر سردی زیادہ پڑتی ہے تو کاشت کا وقت نکل جاتا ہے۔ ‘ہمارا حساب بالکل درست ہے۔ سورج جس گھر پر پڑتا ہے ہم لوگ اس گھر کے باہر نشان لگا دیتے ہیں تاکہ سورج کی پہنچ پچھلے دنوں کے مقابلے بھانپ سکیں اور آگے آنے والے دنوں میں موسم کے اثرات سمجھ سکیں۔’

اسی مقصد کے لیے سوُری جاگکین، یعنی سورج دیکھنے کے لیے مختلف مقامات کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

یہ مقامات کالاش میں موجود تین وادیوں میں سے کسی بھی گاؤں میں ہوسکتے ہیں جہاں تین سے چار افراد اکٹھا ہوکر پہلے سورج کے نکلنے کا، اور پھر وہ کس مقام پر کتنا وقت ٹھہرتا ہے اس کا اندازہ لگاتے ہیں۔

سلامت نے بتایا کہ فی الحال سُوری جاگیک سب سے زیادہ وادی رُمبر میں دیکھا جاتا ہے، ‘لیکن ہم بھی اپنے اپنے طور ہر حساب رکھتے ہیں تاکہ اپنے گاؤں کا احوال دے سکیں۔’

مارخور کا سینگ اور سورج کی تلاش

لیکن کبھی کبھار سورج نکلتا ہی نہیں۔ جس دن میں اور میرے ساتھی سلامت خان سے پہلی بار ملنے گئے اس دن سورج نے نکلنے کا نام ہی نہیں لیا اور بادلوں کے پیچھے ہی رہا۔

ساتھ ہی سورج کے نکلنے کا انتظار کرتے ہوئے یہ بھی پتا چلا کہ کالاشا روایت کے مطابق خواتین سورج دیکھنے کے لیے چھتوں یا ٹیلوں پر سوری جاگکین کے لیے مختص کیے گئے مقامات پر نہیں جاسکتیں کیونکہ ان کو ناپاک تصور کیا جاتا ہے۔

‘شروع سے مرد سورج دیکھ کر اندازہ لگاتے آئے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ خواتین نہیں سمجھتیں۔ میری بیوی بھی سورج دیکھ کر حساب لگانا جانتی ہے، لیکن روایت ایسی ہے کو وہ ساتھ نہیں آسکتی۔’

مجھے ایک چھوٹی سی جگہ کھڑے ہونے کے لیے بتائی گئی جہاں سے میں سلامت خان کو کیمرے کے ذریعے ریکارڈ کرسکتی تھی۔ اس سے محض کچھ ہی دور وہ ٹیلہ ہے جس پر خواتین نہیں جاسکتیں۔ اور اسی ٹیلے پر بیٹھ کر سلامت اور ان کے ساتھ موجود دو اور ساتھیوں کو حساب لگانا تھا۔

سلامت نے بتایا کہ پہلے سورج دیکھنے کے لیے مارخور کا سینگ استعمال کرتے تھے جو ایک طرح سے دوربین کے کام آتی تھی۔

‘اب یہ ہے کہ ہاتھوں کو دوربین کی طرح گول دائرہ بنا کر سورج دیکھتے ہیں۔ لیکن سب کی اپنی اپنی مرضی ہے کون کیسے دیکھنا پسند کرتا ہے۔میرے پاس مارخور کا سینگ نہیں ہے، لیکن آنکھیں اب بھی سلامت ہیں۔’

سلامت خان کے ساتھ موجود شیر خان نے بتایا کہ یہ حساب ایک دن کا نہیں بلکہ پورے سال لگایا جاتا ہے جس میں سورج کے علاوہ چاند اور ستاروں کی گردش سے بھی زمینی آفات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

‘ہم پورے سال سورج کے حرکات اور زاویوں کا اندازہ لگاتے ہیں جو پھر ایک جرگے میں سب بڑوں کو جمع کرکے بتاتے ہیں کہ کس قسم کا بیج بونا چاہئیے اور اس کو اُگنے میں کتنا وقت لگے گا۔ اسی حساب کی بنیاد پر ہم سیلاب اور زلزلہ آنے کا اندازہ تک لگا لیتے ہیں۔’

اس سال یہ اندازہ لگایا جارہا تھا کہ برفباری کم ہوگی اور سلامت نے کہا کہ ایسا ہی ہوا ہے۔

‘پہلے سردی کے موسم میں یہاں کمر تک برف ہوتی تھی اور چلنا مشکل ہوجاتا تھا۔ لیکن آج ہم نئے سال کی آمد کے کچھ دن بعد ہی اس ٹیلے تک آرام سے چڑھ کر آئے ہیں اور بات کرسکتے ہیں۔’

اقوامِ متحدہ اور کالاش کا ‘انٹینجیبل کلچرل ہیریٹج’

کم سننے میں آنے والی اس روایت کو اقوامِ متحدہ نے حال ہے میں ‘انٹینجیبل کلچرل ہیریٹج’ کا لقب دیا ہے اور اس کو محفوظ کرنے کے لیے تجاویز بھی پیش کی ہیں۔

اسی بارے میں بات کرتے ہوئے سلامت سے جب میں نے پوچھا کہ کیا نئی نسل سمجھتی ہے کہ سوری جاگیک کیا ہے اور اس کو محفوظ کرنا کیوں ضروری ہے؟

سلامت نے جواب میں کہا کہ اب یہ روایت کچھ لوگوں تک محدود ہوگئی ہے۔

‘ہماری کوشش تو ہے کہ کسی طرح بچے اس روایت کو آگے بڑھائیں تاکہ ہمارے بعد بھی یہ چلتی رہے۔ یہ تو خدا بہتر جانتا ہے کہ یہ بچے ایسا کریں گے یا نہیں۔ ہماری برادری ویسے ہی کم ہورہی ہے۔ لیکن جہاں ہم اتنے عرصے سے اس جگہ پر آباد ہیں، وہیں شاید کچھ اور سال بھی رہ جائیں۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 7627 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp