مہاشہ جی….!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 9
  •  

اردو ادب کے قارئین اور ان کے مداحین کے ڈاکٹر سلیم اختر اور میرے ’’مہاشہ جی‘‘ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ میں کئی دفعہ ان کے بارے میں لکھنے بیٹھا مگر میں نے محسوس کیا کہ جذبات کی رو میں بہتا چلا جا رہا ہوں، چنانچہ میں نے تحریر ادھوری چھوڑ دی۔ سلیم اختر میرا نصف صدی سے دوست تھا، میں اسے ازراہ تفنن مہاشہ جی کہتا تھا اور وہ جواب میں ہنستے ہوئے ’’جے رام جی کی‘‘ کہتا تھا۔

اس دوطرفہ چھیڑ چھاڑ کا پس منظر یہ تھا کہ جب اسے کوئی ’’السلام علیکم‘‘ کہتا تو وہ جواب میں بے دلی سے صرف ’’وعلیکم‘‘ کہتا، جس پر میں نے اسے ’’مہاشہ جی‘‘ کہنا شروع کر دیا جس پر وہ قہقہہ لگاتا، بعد میں میرے مہاشہ جی کہنے پر اس نے ’’جے رام جی‘‘ ہی کہنا شروع کر دیا اور ایسا کہتے وقت اس کا قہقہہ مجھ سے بھی بلند ہوتا۔

قارئین اس تمہید سے کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں، وہ روزے کا تو پتہ نہیں، نماز ضرور پڑھا کرتا تھا، کتنی نمازیں، یہ مجھے معلوم نہیں۔ سلیم اختر ایک آزاد خیال دانشور تھا۔ تنگ نظری درحقیقت اس کے قول و فعل میں کہیں بھی نہیں تھی۔ اس کے والدین انبالہ سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے، مگر اس کی اردو اور پنجابی میں ہریانوی زبان کی کوئی جھلک تک نہ تھی۔

سلیم اختر سے میرا پہلا تعارف اس کی کتاب ’’عورت، جنس اور جذبات‘‘ سے ہوا، میں اس وقت میں پنجابی محاورے کے مطابق ’’شی جوان‘‘ تھا اور شاید ایم اے میں پڑھتا تھا۔ اس شریف آدمی نے تواس کتاب میں عورت کے جذبات کی تحلیل نفسی عالمانہ انداز میں کی تھی مگر ہم تو عالم نہیں تھے۔

ہم نے یہ کتاب چسکے لے لے کر پڑھی اور اس سے بہت سی Tips حاصل کیں جو زندگی میں بہت کام آئیں۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب سے ملاقاتیں شروع ہونے پر میں نے ہنستے ہوئے کئی بار ان کا شکریہ ادا کیا اور وہ اپنی کتاب کی اسی بے حرمتی پر غصے میں آنے کی بجائے ہنسنا شروع کر دیتے۔

اب ایک بات اور سنیں، سلیم اختر کا عورت، جنس اور جذبات سے کوئی تعلق نہیں تھا، ان کی ایک نیک، پارسا اور شوہر سے بے پناہ محبت کرنے والی ہماری بھابی سے شادی ہوئی اور آپ یقین کریں اس سے پہلے موصوف نے عورت کو بس شرعی فاصلے ہی سے دیکھا تھا۔ یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ میں نے کئی بار ’’سلیم اختر‘‘ کو ’’جنس اور جذبات‘‘ کے حوالے سے کریدنے کی کوشش کی مگر اس کے ’’ توشے‘‘ میں کچھ ہوتا تو بتاتا۔

ہاں اس کے توشۂ آخرت میں بہت کچھ تھا۔ تمام عمرلقمہ حرام کی شکل نہیں دیکھی تھی، رائٹرز گلڈ کے الاٹ کردہ دس مرلے کے گھر میں ساری عمر گزار دی۔ ساری عمر سائیکل کو اپنی سواری بنایا اور روکھی سوکھی تو نہیں چپڑی روٹی کھائی مگر نہ گھر میں کوئی اعلیٰ فرنیچر، نہ مہنگا لباس اور نہ کوئی کروفر، ہر خاص و عام سے سے احترام کے ساتھ ملتے۔

سلیم اختر ایک درویش آدمی تھا اسے عہدوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، نواز شریف کی حکومت میں وزیر اطلاعات پرویز رشید جو خود ایک درویش آدمی ہے، کی خواہش تھی کہ علمی و ادبی اداروں میں اس شعبے کے سرکردہ افراد کو متعین کیا جائے۔ انہوں نے اس حوالے سے مجھ سے بات کی، تو دوسرے دوستوں کے علاوہ سلیم اختر کا نام بھی میرے ذہن میں آیا۔

میں سلیم اختر کے پاس گیا اور ایک محکمے کی سربراہی کی بات کی مگر اس نے کہا نہیں یار، میں پروفیسر ہوں اور پروفیسر ہی رہنا چاہتا ہوں، میرے لئے باعث افتخار لکھنا پڑھنا ہے۔ چنانچہ یہ محکمہ پرویز رشید نے ایک اور صاحب علم کے سپرد کرنے کی سفارش کر دی۔

جیسا کہ میں نے بتایا کہ سلیم اختر میں کروفر اور ’’پھوں پھاں‘‘ قسم کی کوئی ’’علت‘‘ نہیں تھی۔ چنانچہ وہ پاجامے کے اوپر قمیص پہن کر سودا لینے کیلئے خود گھر سے نکلتے، میرے اور سلیم اختر کے گھر میں صرف دو گلیوں کا فاصلہ تھا۔ میرا اپنا بھی یہی عالم تھا۔ چنانچہ کئی دفعہ ہم دونوں کی ملاقات صفدر کی دکان پر ہوتی۔

اس دور میں اور ایک حد تک اب بھی علامہ اقبال ٹائون میں بہت کثرت سے ادیبوں کے گھر تھے جو وہ رائٹرز گلڈ کی طرف سے الاٹ کئے گئے دس مرلہ زمین کی بدولت گھر بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے مگر سلیم اختر صرف میرے گھر آتے تھے۔

علی عثمان قاسمی ، اس وقت ’’بلونگڑا‘‘ سا تھا، وہ جب پورچ کے گیٹ کے نیچے سے ایک دھاری دھار پاجامہ دیکھتا تو دوڑا دوڑا آ کر مجھے اطلاع دیتا ’’ابو ڈاکٹر سلیم اختر آئے ہیں‘‘علی ماشاء اللہ اس وقت علمی حوالے سے صرف پاکستان نہیں، اپنی کتابوں کے حوالے سے یورپ میں بھی جانا جاتا ہے۔

ڈاکٹر سلیم اختر ماہر اقبالیات بھی تھا، افسانہ نگار بھی تھا زبردست نقاد بھی تھا، ماہر نفسیات بھی تھا اور اس کے علاوہ بہت اعلیٰ درجے کا استاد بھی تھا، اس کے شاگردوں میں اصغر ندیم سید، انوار احمد، نجیب جمال اور بیسیوں دوسرے نامور ادیب شامل ہیں جن کے نام اس وقت ذہن میں نہیں آ رہے وہ سب اپنے استاد پر فخر کرتے ہیں ۔

انوار احمد نے تو ایک بہت اچھا کام کیا سلیم اختر سے بستر علالت پر پڑے ہونے کی وجہ سے وہ اپنی ایک شاگرد کو سلیم اختر کے پاس بھیجتا اور اپنے میگزین کیلئے اداریہ ڈکٹیٹ کرواتا۔ الحمرا آرٹ کونسل کی چیئرمین شپ کے دوران سالانہ بین الاقوامی کانفرنس میں سلیم اختر سے فیض یابی کا سلسلہ اس وقت بھی جاری رہا جب میرا یہ عظیم دوست چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا۔ اس کے لئے کار جاتی اور اسے اٹھا کرا سٹیج کی زینت بنا دیا جاتا۔

مجھے خوشی ہے کہ میں اس درویش کی عیادت کیلئے گاہے گاہے اس کی طرف جاتا اور پھر ہم اس طرح گپ شپ کرتے جیسے نہ وہ بیمار ہے اور نہ میں سارے دن کا تھکا ہوا اس کی طرف پہنچا ہوں۔ ہر بڑی عید کو میں اس کے گھر حاضری دیتا اور جب سلیم اختر چلنے پھرنے کے قابل نہ رہا تب بھی میں نے محسوس کیا کہ اس میں وہ چڑ چڑاہٹ پیدا نہیں ہوتی جو طویل عرصے کی علالت سے پیدا ہو جاتی ہے یہ حوصلہ میں نے ڈاکٹر وحید قریشی میں بھی دیکھا تھا۔

اور پھر ایک دن اسے بے ہوشی کی حالت میں اسپتال لے جایا گیا۔ اس کا بیٹا جوخود بھی ڈاکٹر ہے اوراسی اسپتال میں متعین ہے ،اسے آئی سی یو میں رکھا گیا اور ڈاکٹروں نے اس کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر موت سے جنگ کون جیت سکتا ہے۔ میں نے اس کے جنازے میں شہر کے ہر ممتاز ادیب کو دیکھا، جن میں اس کے شاگرد بھی تھے۔

میں نے اپنی زندگی میں کسی ادیب کا اتنا بڑا جنازہ نہیں دیکھا، میں نے اپنے دوست کا چہرہ دیکھا، اتنا ہی مطمئن اور پرسکون جتنا وہ زندگی میں ہوتا تھا، وفات سے چند روز پہلے میں سلیم اختر کو دیکھنے کیلئے گیا۔ اس کی آنکھیں بند تھی۔ میں نے اس کے سرہانے کھڑے ہو کر کہا ’’مہاشہ جی‘‘ اس نے آنکھیں کھولیں اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آئی۔۔۔ آنکھیں بند ہو گئیں اور ایک دور کا خاتمہ ہو گیا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 9
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں