اویغور مسلمانوں کے پاکستانی رشتے داروں کا وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر افسوس

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواتین جکارتہ میں چینی سفارتخانے کے باہر احتجاج کر رہی ہیں

Getty Images
دنیا کے مختلف ممالک میں چینی سفارتخانوں کے باہر ان چینی کیمپوں کے خلاف احتجاج ہوئے ہیں

پاکستان کے بعض مرد شہریوں نے چین کے صوبہ سنکیانگ میں شادیاں کی ہوئی ہیں اور انھیں شکایت ہے کہ ان کی بیویوں اور بچوں کو چین کے حکام نے ایسے کیمپوں میں بند کر رکھا ہے جنھیں اصلاحی مراکز یا ری ایجوکیشن سینٹر کہا جا رہا ہے۔

ایسے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے دورہ ترکی کے دوران ترک نیوز چینل ٹی آر ٹی کو دیے گئے انٹرویو میں یہ کہا ہے کہ وہ اویغور مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں تفصیل سے نہیں جانتے جس پر ان افراد نے اپنے شدید تحفظات، دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ماریہ اور مومنہ (فرضی نام) دو سال سے اپنے پاکستانی والد کے ہمراہ اسلام آباد میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق ان کی ایغور ماں اور بھائی گزشتہ دو سال سے چین کے کیمپ میں قید ہیں۔

اویغور مسلمانوں پر بی بی سی اردو کی خصوصی سیریز

چین کے خفیہ کیمپ: لاپتہ اویغوروں کے ساتھ کیا ہوا؟

میرے جمعہ پڑھنے کی سزا ’گل بانو کو ملی‘

’برسوں کی محنت سے کھڑا کیا کاروبار پل بھر میں تباہ‘

سترہ سالہ ماریہ نے وزیر اعظم عمران خان کے انٹرویو کے بعد انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انکل عمران خان مجھے اور میری بہن کو آپ سے بہت امیدیں تھیں کہ آپ ہمیں ہماری والدہ اور بھائی سے ملوا دیں گے اور ایسے اقدمات کریں گے کہ ہم دوبارہ اسی طرح بھرپور زندگی گزار سکیں جس طرح ہم اپنی امی سے بچھڑنے سے پہلے گزارا کرتے تھے۔

’میں نے تو اپنی چھوٹی بہن اور والد کے ہمراہ اسلام آباد میں احتجاج بھی کیا تھا جہاں پر وزارت خارجہ کے افسران نے یقین دلایا تھا کہ وہ ہماری امی کو واپس لائیں گے مگر اب جب ہمارے پسندیدہ وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ ان کو معلومات ہی نہیں ہیں تو میں ایک بار دوبارہ ان کو بتانا چاہتی ہوں کہ میری امی اور کئی اور اویغور مسلمانوں کے والدین اس وقت کیمپوں میں قید ہیں اور اس میں کئی پاکستانی بھی شامل ہیں‘۔

دس سالہ مومنہ کا کہنا تھا کہ ’میں عمران انکل کو بتانا چاہتی ہوں کہ امی کی بعد میرا کوئی خیال رکھنے والا بھی نہیں ہے اور مجھے میری امی بہت یاد آتی ہیں۔ میری امی اور بھائی کو واپس لا دیں‘۔

ان کے والد رضا (فرضی نام) نے کہا ’مجھے اس بات پر بہت حیرت ہوئی ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے غیر ملکی دورے کے دوران انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ اویغور مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں نہیں جانتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیر اعظم کی بے خبری انتہائی مایوس کن ہے کیونکہ پوری دنیا کا میڈیا اس وقت روزانہ اویغور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے بے رحم سلوک کی اطلاعات فراہم کر رہا ہے اور پوری دنیا میں انسانی حقوق کے کارکن اس پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ایسے میں عمران خان کی بے خبری درحقیت بے خبری نہیں ہے بلکہ وہ نظریں چرا رہے ہیں۔

’میری مسلمان اویغور بیوی تقریباً دو سال سے سنکیانگ کے کسی کیمپ میں قید ہے۔ میں اپنے ایسے کئی ساتھیوں کے ہمراہ بیجنگ کے پاکستانی سفارت خانے، اسلام آباد میں وزارت خارجہ، وزیر اعظم ہاؤس میں درجنوں درخواستیں ارسال کرچکا ہوں۔ پاکستانی حکام سے ملاقاتیں بھی کی ہیں اس کے باوجود وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے یہ کہنا کہ انھیں اویغور مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں معلومات نہیں ہیں انتہائی قابل افسوس ہے اور اس پر مجھے دکھ ہوا ہے‘۔

رضا کا کہنا تھا کہ انھیں اور ان جیسے کئی پاکستانی مردوں کو وزیر اعظم عمران خان سے بہت امیدیں وابستہ تھیں مگر اس بیان کے بعد ایسے لگتا ہے کہ ‘اب ہمارا کوئی بھی پرسان حال نہیں اور اب ہم بے یارومدگار ہیں’۔

چین میں موجود ایک دوسرے شخص نے وزیراعظم عمران خان کے انٹرویو پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے عمران خان کے انٹرویو پر بہت حیرت ہوئی ہے اور اگر انھیں معلومات نہیں ہیں تو میں ان کی معلومات میں اضافہ کرتا ہوں کہ اس وقت چین میں مسلمان بہت مسائل کا شکار ہیں‘۔

اویغور مسلمانوں پر بی بی سی اردو کی خصوصی سیریز

’بچے رشتے داروں کے گھروں میں رُل رہے ہیں‘

’چین میں قید ہماری بیویوں کو رہا کروایا جائے‘

‘چینی کیمپ میں میری بیوی کو برہنہ کیا گیا’

انھوں نے مزید کہا ’ہم پاکستانیوں کی بیویاں اور بچے غائب ہیں، پولیس کے پاس جائیں تو وہ کوئی مدد نہیں کرتے۔ وزیر اعظم ہاؤس، پاکستانی سفارت خانے، پاکستانی وزارت خارجہ میں درجنوں درخواستیں دے رکھی ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے متعارف کروائی جانے والی ایپ کے ذریعے سے شکایات درج کروائی ہیں۔ اب ایسے میں اگر وزیر اعظم یہ کہیں کہ ان کو اویغور مسلمانوں کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم پاکستانیوں کو انھوں نے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور اب ہمارا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہے اور یہ صورتحال ہمارے لیے انتہائی افسوسناک ہے۔‘

ایسے دیگر کئی پاکستانیوں نے وزیر اعظم کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے خطوط کے جواب میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ان کے خطوط مل چکے ہیں اور متعلقہ احکام کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے احتجاج بھی کیا ہے پھر بھی وزیر اعظم کا بے خبر ہونا ان کے لیے حیرت انگیز ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 7562 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp