ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ-میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے پانچ ارب ڈالر کا مطالبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پرائم ٹائم پر اپنے ٹی وی خطاب میں ڈیموکریٹس پر زور دیا ہے کہ وہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈنگ پر راضی ہو جائيں۔

دیوار کی تعمیر کے لیے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کے مطالبے سے جو تنازع پیدا ہوا ہے اس کے نتیجے میں حکومت کے مختلف شعبوں کو گذشتہ 18 دنوں سے جزوی ‘شٹ ڈاؤن’ کا سامنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے یہ مسئلہ 45 منٹ میں حل ہو سکتا ہے اور یہ کہ انھوں نے کام کو انجام تک پہنچانے کے لیے کانگریس کے رہنماؤں کو بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی اس بات پر اصرار کیا ہے کہ سرحد پر دیوار کی تعمیر ملک کی سلامتی کے لیے ضروری ہے اور بہت جلدی یہ خود اپنی ادائیگی کرنے لگے گی۔

تقریباً نو منٹ تک جاری رہنے والی تقریر میں امریکی صدر نے کہا کہ دیوار کی تعمیر ناگزیر ہے اور اس کی مدد سے ملک میں ‘بڑھتے ہوئے بحران اور سکیورٹی خدشات کا خاتمہ ہو سکے گا۔’

صدر ٹرمپ اس دیوار کی تعمیر کے لیے ساڑھے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

امریکی صدر کی جانب سے میکسیکو سرحد پر دیوار قائم کرنے کے حوالے سے مزید خبریں پڑھیے

میکسیکو دیوار:’رقم نہیں دینی تو دورۂ امریکہ منسوخ کردیں‘

میکسیکو دیوار: ٹرمپ رقم حاصل کرنے میں ناکام

ٹرمپ کی ’قومی ایمرجنسی‘ کے اعلان کی دھمکی

اس تقریر میں انھوں نے قومی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان نہیں کیا لیکن توقع ہے کہ وہ جمعرات کو میکسیکو کی سرحد کا دورہ کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکہ میں حکومتی جماعت ریپبلیکن پارٹی اور حریف ڈیموکریٹس کا دیوار کی تعمیر پر ڈیڈ لاک ہو گیا ہے جس کی وجہ سے امریکہ میں ‘شٹ ڈاؤن’ ہے اور سرکاری مشینری نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔

یہ امریکی تاریخ میں دوسرا طویل ترین ‘شٹ ڈاؤن’ ہے اور اس کی وجہ سے لاکھوں سرکاری اہلکاروں کو تنخواہ بھی نہیں ملی ہے۔

صدر ٹرمپ کے خطاب کے فوراً بعد ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما، نینسی پلوسی اور چک شومر نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے امریکیوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور زبردستی کا بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے امریکی صدر سے شٹ ڈاؤن فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

طرفین 18 دنوں سے جاری حکومتی شٹ ڈاؤن سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آٹھ منٹ کے خطاب میں، جسے امریکہ کے تمام اہم ٹی وی چینلوں پر براہ راست نشر کیا گيا، صدر ٹرمپ نے کہا: ‘یہ انسانی بحران ہے، جو دل کا اور روح کا بحران ہے۔’

انھوں نے مزید کہا: ‘وقاقی حکومت ایک اور صرف ایک ہی وجہ سے شٹ ڈاؤن ہے اور اس کی وجہ ڈیموکریٹس کا سرحد کی سکیورٹی کے لیے فنڈنگ نہ کرنا ہے۔’

ریپبلیکن صدر سرحد پر سٹیل کی دیوار بنانے کے لیے پانچ ارب 70 کروڑ امریکی ڈالر کا فنڈ چاہتے ہیں جس سے ان کی انتخابی مہم کے بڑے وعدے کی تکمیل ہوگي لیکن ڈیموکریٹس ان کو فنڈ نہ دیے جانے پر بضد ہیں۔

دباؤ بنائے رکھنے کے لیے صدر ٹرمپ جمعرات کو سرحد پر جانے سے قبل بدھ کو کیپیٹول ہل پر ریپبلکن سینیٹروں کی ریلی نکاليں گے۔

ڈیموکریٹس کا رد عمل

ایک مختصر سی تردید میں ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی اور سینیٹ کے مائناریٹی لیڈر چک شومر نے صدر ٹرمپ سے شٹ ڈاؤن ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

چک شومر نے صدر ٹرمپ پر ‘مزاجی چال بازیوں سے حکومت چلانے’ اور بناوٹی بحران کا الزام لگایا۔

نیویارک کے سینیٹر نے کہا: ‘صدر ٹرمپ نے حقیقت کے بجائے خوفزدہ ہونے کی اپیل کی ہے۔ اتحاد کے بجائے تقیسم کی۔’

انھوں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا: ‘امریکہ کی علامت سٹیچو آف لبرٹی ہونا چاہیے نہ کہ 30 فٹ اونچی دیوار۔’


وقت کے حصول کا کھیل

بی بی سی نیوز کے اینتھونی زرچر کا تجزیہ

منگل کی شب صدر ٹرمپ کے خطاب کے دو سامعین تھے۔ ایک امریکی عوام جو کہ سروے کے اعتبار سے مجموعی طور پر سرحدی دیوار کی تجویز میں دلچسپی نہیں رکھتے اور صدر کو حکومتی شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار مانتے ہیں۔ دوسرے کانگریس کے ریپبلکنز ہیں جنھیں صدر ٹرمپ اپنے حلقے میں رکھنا چاہیں گے اگر وہ اس طول پکڑتے سیاسی تنازعے سے کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

بظاہر منگل کو صدر نے ایسا کچھ نہیں کہا کہ عوام کا رخ بدل سکے۔ ان کے دلائل جانے پہچانے تھے اور ان میں سے بعض کو پہلے ہی خارج کیا جا چکا ہے۔ صدر نے جب سے اپنی صدارتی مہم کا آغاز کیا ہے وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ سرحد پر بحرانی صورت حال کا سامنا ہے۔

جہاں تک کانگریس کے ریپبلکنز کا معاملہ ہے خطاب سے یہ بات سامنے آئي کہ وہ دیوار کی تعمیر کے لیے اپنے ترکش کا ہر ایک تیر استعمال کر لیں گے۔ بدھ کو صدر اپنی پارٹی کے ارکان سے کیپیٹول ہل پر مل رہے ہیں۔ جمعرات کو وہ سرحد کا دورہ کریں گے۔

بہر حال کانگریس میں صدر کی حمایت میں پہلے ہی شگاف کے آثار ہیں۔ صدر نے اپنی حالیہ کوشش سے مزید وقت حاصل کیا ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ اس سے ان کو کیا فائدہ حاصل ہوگا۔


ایمرجنسی کے اعلان سے کیا حاصل ہوگا؟

ہر چند کہ صدر ٹرمپ نے منگل کی شب کو ہنگامی صورت حال کا اعلان نہیں کیا لیکن تجزیہ کاروں کا خيال ہے شٹ ڈاؤن کے مسئلے کے حل سے قبل وہ ابھی بھی اس کا اعلان کر سکتے ہیں۔

تعطل میں اس طرح کے ڈرامائي اضافے سے انھیں دیوار کے لیے فوجی فنڈ تک رسائي حاصل ہو جائے گي لیکن یہ ان کے دو سال کے دور صدارت میں نامکمل ہی رہے گی۔

لیکن صدر پر کانگریس کے آئينی اختیارات کو ہڑپنے کا الزام لگے گا اور ان کا یہ قدم قانونی چیلنجز کی بھول بھلیاں میں گم ہو کر رہ جائے گا۔

بعض تجزیہ کاروں کا خيال ہے کہ آخری داؤ کے طور پر وہ اس قسم کا اعلان کرسکتے ہیں تاکہ ڈیموکریٹس کے ہاتھوں شرمندگی اٹھانے سے بچ جائیں اور اس سے انھیں حکومت کو دوبارہ کھولنے کا موقع مل جائے گا۔

سرحد پر حقیقی صورت حال کیا ہے؟

ہرچند کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں ہی اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ سرحد پر بحران ہے لیکن ناقدین صدر ٹرمپ پر مسئلے کو انتہائی بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

سرحد پار کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد سنہ 2000 میں 16 لاکھ سے کم ہوکر گذشتہ سال چار لاکھ رہ گئی ہے۔

اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئي ہے کہ غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والے افراد کا امریکہ میں پیدا ہونے والے شہریوں کے مقابلے میں کم ہی جرائم کرنے کا خدشہ ہے۔

ویکنڈ پر وائٹ ہاؤس نے یہ بتایا کہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر ہزاروں دہشتگردوں کو سرحد پار کرنے کی کوشش میں پکڑا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہوائی اڈوں پر سب کے بجائے صرف چند افراد کو ہی روکا گیا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8029 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp