جھیل والے ڈاکٹر صاحب


صبح صبح حسب معمول جب ہم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مٹر گشت کرنا شروع کیا تو سب ”جھیل والے ڈاکٹر“ کے بارے میں بات کرتے دکھائی دیے۔ ہم نے دل میں سوچا کہ کہیں اس جہاں فانی سے کوچ تو نہیں کر گئے مگر دوسرے ہی لمحے خود کو سرزنش اور ملامت کی اور مزید تفصیل معلوم کرنے کے لیے تگ و دو میں لگ گئے، تو جناب ہم پر آشکار ہوا کہ جھیل والے ڈاکٹر اپنا ٹوئٹر کا اکاونٹ ڈی ایکٹیوئٹ یعنی بند کر چکے ہیں۔

اب یہ ”جھیل والے ڈاکٹر“ کا نام ”جھیل والا“ کیوں پڑا؟ آئیے یہ کہانی آپ کو بتاتے ہیں۔

تو جناب قصہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ سال 25 جولائی کے انتخابات میں جب عمران خان کی جیت ہوئی تو تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کارکنوں اور لوگوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا، بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے، بعض بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے فرط جذبات میں آکر اُس ملک کو چھوڑنے کا فیصلہ کیاجہاں وہ مقیم تھے، ان میں ایک نام ”ڈاکٹر عمران ملک“ کا بھی شامل تھا۔

امریکا میں مقیم عمران ملک پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور وہ Neonatologist ڈپارٹمنٹ کے ریجنل ڈائرکٹر ہیں اور وہ جھیل کنارے خوبصورت گھر میں اپنی اہلیہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

قصہ مختصر، جوں ہی انتخابات میں عمران خان کی جیت کا اعلان ہوا ڈاکٹر عمران ملک المعروف جھیل والے ڈاکٹر نے پاکستان آنے کی غرض سے ایک جذباتی وڈیو تیار کی جس میں انھوں نے اپنا تعارف کرایا

وڈیو کا متن کچھ یوں ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے تمام پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وہ امریکا میں ایک ڈاکٹر ہیں اور جھیل کنارے ان کا گھر ہے اور یہ کہ وہ اپنی تمام جائیداد بیچ کر ڈالرز پاکستان لے کر آرہے ہیں۔ ان کی اہلیہ بھی ڈاکٹر ہیں اور یہ کہ وہ بھی اپنی ملازمت سے استعفی دے کر سب چھوڑ چھاڑ کر پاکستان آرہے ہیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، انصافیوں نے جھیل والے ڈاکٹر کو غائبانہ طور پر کندھوں پر بٹھا لیا، ٹوئٹر پر ان کے نام کا ٹرینڈ چلا اور دادوتحسین کے ڈونگرے ہر سو سے برسنے لگے، بیرون ملک پاکستانیوں نے بھی ان کے اس فیصلے کو بہترین قرار دیا غرض ہر سو سے جھیل والے ڈاکٹر کی حوصلہ افزائی ہونے لگی اور لوگ ان کے اس فیصلے کو کارنامہ قرار دینے لگے، ڈاکٹر صاحب بھی وقتا فوقتا اپنے ہینڈل سے موٹیویشنل وڈیوز بھی جاری کرتے رہے۔ دن ہفتے اورہفتے مہینوں میں بدلنے لگے، اکھیاں اڈیکتی ہی رہیں دل واجاں ماردا رہا مگر پردیسی ڈاکٹر کی آمد کی خبر بر نہ آئی،

انصافی تو بہت عش عش کرچکے تھے مگر اب باری تھی تحریک انصاف کے مخالفین کی، یہاں پاکستان میں لوگوں کے ہاتھوں تو جیسے شغل میلہ آگیا۔ سوشل میڈیا پر ”جھیل والے ڈاکٹر کو واپس لاو“ کے ٹرینڈز چلنے لگے۔ گھر آجا پردیسی تیرا دیس بلائے رے، لوگ ڈاکٹر عمران کو ان کے ملک واپس آنے کی یاد دہانی کراتے رہے اور ان کے اکاونٹ کو ٹیگ کرنے لگے اور یوں تنگ آکر ”جھیل والے ڈاکٹر“ اپنا اکاونٹ ڈی ایکٹویٹ کر کے سوشل میڈیا سے غائب ہو گئے۔ ہم سمجھتے ہیں غالباً ڈاکٹر صاحب وزیراعظم عمران خان کی ”یو ٹرن“ حکمت عملی سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہیں اور اپنے قائد کے نظریے پر دل وجان سے عمل پیرا ہوتے ہوئے پاکستان آنے کا فیصلہ غالباً موخر کر چکے ہیں اورٹوئٹر اکاونٹ ڈی ایکٹویٹ کرنا اسی کی کڑی ہے۔

منچلوں اور دل جلوں نے ”جھیل والے ڈاکٹر“ کوتنگ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، اور ان کا ذاتی فون نمبر اور ان کے آفس کا فون نمبر سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا۔ آخری خبروں کے آنے تک جھیل والے ڈاکٹر واٹس ایپ پر بھی جواب نہیں دے رہے۔ مگر جھیل والے ڈاکٹرکی صورت میں کئی دن تک پاکستانیوں کے ہاتھ ایک اچھا مشغلہ رہا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں