نئے اخلاقی ضابطوں کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روٹی، کپڑا اور مکان ایک قدیم مسئلہ ہے ’مگر تیسری دنیا کے انسان کا آج بھی سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ شکار کے دور سے انسان اپنی زندگی کا بیشتر وقت روٹی، کپڑے اور مکان کے حصول کی تگ و دو میں گزارتا آیاہے۔ یہ انسان کی انتہائی بنیادی ضروریات ہیں۔ یہ ضروریات پوری ہونے کے بعد ہی انسان آرٹ اور کلچر کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ دانشورانہ اور فنکارانہ تخلیقات میں دلچسپی لیتا ہے۔ سماجی رشتوں کی طرف متوجہ ہوتاہے۔ دینیات، روحانیت اور ما بعد الطبیعات پر غور و فکر کرتاہے، یا اپنے دیگر مشاغل کے بارے میں سوچتا ہے۔

شکار کے دور کا انسان خوراک کے حصول پر بہت وقت صرف کرتا تھا۔ شکار کرنے سے لے کر زندہ رہنے کے دیگر اسباب پیدا کرنے تک ’سارا وقت طلب کام تھا۔ آگ جلانے کے لیے لکڑی جمع کرنا، پانی کا حصول، خوراک کی تیاری اور موسموں کے مطابق خوراک کو محفوظ کرنے جیسے بہت سارے ایسے کام تھے۔ بنیادی طور پر اس وقت کے انسان کا بیشتر وقت خوراک کی فکر میں ہی گزرتا تھا کہ اس کے لباس کی ضروریات محدود تھیں اور رہائش کا انتظام سادہ اور عارضی نوعیت کا تھا۔

جوں جوں انسان ٹیکنالوجی سے آشنا ہوتا گیا توں توں اس کی زندگی میں آسانیاں آتی گئیں۔ شکار کے دور سے نکل کر جب انسان زراعت کے دور میں داخل ہوا تو ٹیکنالوجی کا استعمال ہتھیاروں اور اوزاروں کی شکل میں پہلے سے زیادہ بڑھ گیا۔ ہل، بیل، درانتی، ہتھوڑے کے استعمال نے خوراک کے حصول میں کچھ آسانیاں پیدا کیں، مگر پھر بھی انسان کا بیشتر وقت خوراک کے گرد گھومتا رہا۔ یہاں تک کہ زرعی انقلاب کی وجہ سے دنیا کے بیشتر حصوں میں جدید مشینوں اور کیمیائی مادوں کے استعمال کے بعد آبادی کے ایک حصے کے لیے یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو گیا۔

صنعتی دور میں ٹیکنالوجی کے استعمال نے غالب حیثیت اختیار کر لی۔ اس سے انسان کی پیداواری صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ کم وقت میں زیادہ پیداوار حاصل کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے انسان کے پاس بہت زیادہ فالتو وقت بچنا چاہیے تھا، اور یہ وقت اسے زندگی کے دوسرے مشاغل میں گزارنا چاہیے تھا، مگر ہوا اس کے بر عکس۔ انسان کے اپنے اختیار و صوابدید پر پہلے سے بہت ہی کم وقت رہ گیا۔ اس کی ایک وجہ صنعتوں اور مشینوں کی نجی ملکیت تو تھی ہی ’لیکن اس کی دوسری بڑی وجہ آسائشِ زندگی کی اشیا تھیں۔

 جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے انسان کے حصے کا بہت سارا کام مشین نے لے لیا۔ واشنگ مشین سے لے کر ریفریجریٹر تک اور گھر کے اندر خود کار طریقے سے پانی کی فراہمی کی وجہ سے انسان کو ان کاموں سے چھٹکارہ مل گیا، جن پر وہ اپنے وقت کا بیشتر حصہ صرف کرتا تھا۔ مگر یہ وقت انسان کا اپنا نہیں ہے۔ اس وقت کے اصل مالکان نئی ٹیکنالوجی اور نئی مشین کے مالکان ہیں۔ اپنی سہولیات اور آسائشوں کی قیمت ادا کرنے کے لیے انسان کو اپنا بیشتر وقت کام پر صرف کرنا پڑتا ہے۔

 ہمارے دور تک یہ سادہ ٹیکنالوجی بڑھتے بڑھتے اتنی جدید اور معیاری ہو گئی کہ اس نے انسان کی زندگی آسان بنا دی، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے اوقات کار بھی بڑھ گئے ؛ چنانچہ آج ترقی یافتہ لوگوں کا معیار زندگی تو بہت ہی بلند اور آرام دہ ہے، مگر لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کا بیشتر وقت بل ادا کرنے یعنی اپنی سہولیات کی قیمت چکانے پر صرف ہوتا ہے۔ دانشورانہ یا فنکارانہ تخلیقات کے نام پر سال بھر میں ایک کتاب پڑھ لینا، یا ویک اینڈ پر ایک فلم دیکھ لینا عام آدمی کے لیے بڑی بات ہے۔ ورکنگ کلاس کے لیے سال میں دو ہفتے کی چھٹیاں اور عام دنوں میں ہاکی، فٹ بال یا کرکٹ کا میچ، ایک آدھ ٹی وی ڈرامہ اور فلم کافی سمجھی جاتی ہے۔

ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسان کو بے پنا ہ سہولیات مہیا کر دی ہیں۔ جوں جوں اس کی سہولیات بڑھتی جا رہی ہیں، توں توں اس کی قیمت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ جن لوگوں کی سرمائے اور ٹیکنالوجی پر اجارہ داری ہے وہ دن بدن امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس عمل سے طبقاتی تقسیم بڑھ رہی ہے ’مگر اس طبقاتی تقسیم کے باوجود مغرب کی ترقی یافتہ سماجی جمہوریتوں نے اپنے عام شہری کو روٹی، کپڑے اور مکان کی بنیادی سہولیات مہیا کر دیں۔

 بہت ہی امیر طبقات اور بہت ہی غریب طبقات کی سہولیات اور رہن سہن میں فرق کے باوجود یہاں پرطبقاتی تصادم قدرے کم ہو گئے، اور طبقاتی جدوجہد کی شدت میں کسی حد تک کمی آ گئی۔ طبقاتی اور انقلابی رجحانات کی جگہ سوشل ڈیموکریسی اور فلاحی ریاستوں کے تصورات زیادہ بڑے پیمانے پر عوام نے قبول کر لیے۔ سماجی اور معاشی انصاف اور جمہوری اقدار کی وجہ سے سماج کے کم خوش نصیب طبقات میں نئی امید پیدا ہوئی؛ چنانچہ سماج میں ایک طرح کا استحکام اور ٹھہراؤ پیدا ہوا۔

 ٹیکنالوجی اب مگر ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے، جسے ہم بائیو ٹیک کا دور کہتے ہیں۔ بائیوٹیک انقلاب کی وجہ سے اب دنیا میں جو جنگ شروع ہو رہی ہے، وہ محض طبقاتی نہیں بلکہ اس کے ساتھ زندگی اور موت کا مسئلہ بھی جڑ گیا ہے۔ بائیوٹیک میں انقلاب کی وجہ سے انسان ان دس بڑی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے پُر امید ہے، جو دنیا میں انسانی موت کی وجہ بنتی ہیں۔ ان بیماریوں کی بروقت تشخیص اور ان کے فوری علاج کی وجہ سے انسان کی اوسط عمر میں بے پنا اضافہ ہو گا۔

 عام طور پر ترقی یافتہ دنیا میں اگر ایک عام آدمی نے ستر یا اسی سال کی عمر میں مر جانا ہوتا تھا تو نئی بائیو ٹیکنالوجی کے اعجاز سے اس بات کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں کہ وہ ایک سو بیس سال تک ایک صحت مند اور پر مسرت زندگی گزار سکے۔ ظاہر ہے فوری طور پر لمبی اور صحت مند زندگی کی یہ سہولت سب سے پہلے ان لوگوں کو میسر آئے گی، جو اس کی قیمت ادا کر سکیں گے۔ جن کے پاس بازار سے صرف نیا دل ہی نہیں، گردے، پھیپھڑے اور دماغ تک خریدنے اور ٹرانسپلانٹ کرانے کے لیے مالی وسائل ہوں گے۔

کم وسائل رکھنے والے لوگ اس باب میں بھی کم خوش نصیب ہی ٹھہریں گے۔ ایسا آج بھی ہے۔ آج بھی دنیا میں غربت زدہ انسان جلد اور آسانی سے مرتا ہے۔ آج انسان کو زندہ رکھنے کی کوئی بھی گارنٹی نہیں دیتا۔ مگر یہ گارنٹی اب آ رہی ہے۔ امریکہ میں پہلے ہی انسان کا کلون ایمبریو بنایا جا چکا ہے۔ اب صرف اخلاقیات کا مسئلہ باقی ہے کہ کیا کلون ایمبریو استعمال کرنا جائز ہے۔ یہ سائنس اور اخلاقیات کے درمیان ایک اختلافی مسئلہ ہے۔

 تاریخ میں سائنس اور اخلاقیات کبھی بھی ایک صفحے پر نہیں رہے، مگر سائنس خاموشی سے اپنا کام کرتی رہی، اور اخلاقیات کو کئی بار سائنسی حاصلات کے آگے سر نگوں ہونا پڑا۔ کلوننگ کے ذریعے انسانی اعضا کی پیوند کاری کو فی الحال آدم خوری کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں حکومتیں اس کی اجازت نہیں دے رہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں حکومتیں ایک جیسی نہیں ہیں۔ اور دنیا میں ہر کام حکومتوں کی اجازت سے ہی نہیں ہوتا۔

بائیو ٹیکنالوجی کے طفیل ہی سائنسدانوں نے ڈی این اے اور جینز میں اپنے مطلب کی تبدیلی لانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ اس صلاحیت کا مطلب یہ ہے کہ دولت مند والدین اپنے بچے میں اپنی مرضی کی خصوصیات پیدا کر سکتے ہیں۔ جینز میں مصنوعی ترمیم کے ذریعے وہ اس کا آئی کیو اپنی مرضی کے مطابق بڑھا سکتے ہیں۔ وہ اسے عام بچے کی نسبت کئی گنا زیادہ ذہین بنا سکتے ہیں۔ وہ اس کی اتھلیٹک اور جسمانی طاقت و صلاحیت میں حیرت انگیز اضافہ کر سکتے ہیں۔

 اس طرح جینز اور ڈی این اے میں ہیر پھیر کے ذریعے وہ اسے سپر ہیومن بنا سکتے ہیں، جس کا کھیل، تعلیم یا مقابلے کے امتحانات میں عام بچہ مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ذہانت اور جسمانی قوت میں یہ بے پناہ فرق بے پناہ سماجی اور معاشی فرق کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے دنیا میں موجود طبقاتی تفریق اور امیر و غریب کے درمیاں فرق میں اضافہ ہو گا۔ بائیو ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے نئے اخلاقی ضابطوں اور نئے سیاسی نظریات کی ضرورت ہو گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں