خلا میں انتہائی فاصلے پر واقع کہکشاں سے آنے والی پراسرار لہروں کا سراغ، نیوٹرون ستارہ یا خلائی مخلوق؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خلا

Getty Images
سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اس نوعیت کے سگنل طاقتور مقناطیسی سطح والے نیوٹرون ستاروں سے آ سکتے ہیں

سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ خلا میں انتہائی فاصلے پر واقع کہکشاں سے بھیجے جانے والے سگنل کینیڈا کی ایک ٹیلی سکوپ کو موصول ہوئے ہیں لیکن ان ریڈیائی لہروں کے بارے میں تفصیل اور ان کے اصل مقام کے بارے میں ابھی کوئی وضاحت نہیں ہے۔

ماہرین کے مطابق ان ریڈیو لہروں سے ملنے والے سگنلز ڈیڑھ ارب نوری سال کے فاصلے سے آنے والی ان لہروں کو جس رفتار سے بھیجا گیا تھا وہ بہت غیر معمولی تھا۔

ماضی میں اس نوعیت کا صرف ایک اور واقع رپورٹ کیا گیا ہے لیکن وہ مختلف ٹیلی سکوپ کے ذریعے آیا تھا۔

اس حوالے سے مزید پڑھیے

لمبوترا مہمان سیارچہ یا خلائی مخلوق کا جہاز؟

ناسا کے خلائی جہاز ’نیو ہورائزن‘ کا زمین سے رابطہ

خلائی مخلوق کی تلاش: دس دلچسپ حقائق

یونی ورسٹی آف برٹش کولمبیا سے منسلک سائنسدان انگرڈ سٹئیرز نے بتایا کہ ‘اس پیغام سے یہ لگتا ہے کہ شاید وہاں کوئی اور بھی موجود ہو۔ اور ایسا اگر بار بار ہو اور ہمارے پاس اس قسم کے پیغامات کو جانچنے کے ذرائع ہوں تو ہم شاید یہ گتھی سلجھانے میں کامیاب ہو جائیں کہ یہ کیا ہے اور یہ شروع کیسے ہوئی ہے۔’

کینیڈا کے علاقے برٹش کولمبیا میں واقع ‘چائم’ نامی رصدگاہ میں سو میٹر لمبے چار انٹینا نصب ہیں جو آسمان کا معائنہ کرتے ہیں۔

گذشتہ سال کام کا آغاز کرنے والی اس ٹیلی سکوپ نے اپنے ابتدائی دنوں میں ہی یہ ریڈیو سگنل موصول کیے تھے اور اب ان کے بارے میں تحقیق موقر سائنسی جریدے ‘نیچر’ میں شائع ہوئی ہے۔

‘فاسٹ ریڈیو برسٹ’ (ایف آر بی) کے نام سے موسوب یہ ریڈیو سگنل درحقیقت ایسی ریڈیائی لہریں ہوتی ہیں جو بہت کم وقت کے لیے پیدا ہوتی ہیں اور ان کے بارے میں گمان ہے کہ وہ کائنات کے دوسرے سرے سے آ رہی ہیں۔

سائنسدانوں نے اب تک اس نوعیت کے 60 ایف آر بی کا سراغ لگایا ہے جو ایک بار سگنل دیتے ہیں جبکہ دو سگنل ایسے تھے جو بار بار آئے تھے۔

ان ایف آر بی کی حقیقت کے بارے میں مختلف اندازے ہیں کہ وہ کیسے پیدا ہوتے ہیں۔

ان میں سے ایک خیال یہ ہے کہ ایک ایسا نیوٹرون ستارہ جس کی مقناطیسی سطح بہت طاقتور ہوتی ہے اور یہ بہت تیزی سے گھوم رہا ہوتا ہے۔

لیکن دوسری جانب قلیل تعداد میں کچھ ایسے بھی سائنسدان ہیں جن کا خیال ہے یہ سگنل کسی خلائی مخلوق کے خلائی جہاز سے آ رہا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8028 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp