پروفیشنل حلالہ: ایک پھلتا پھولتا حلال کاروبار

”ذیشان کے ساتھ میری شادی شدہ زندگی اچھی بسر ہورہی تھی ’طویل رفاقت کے باوجود ہم دونوں کے درمیان ایک باریک سی لکیر تھی جب ہم اس لکیر کے پاس پہنچتے تو ہمارے لب خود بخود خاموش ہوجاتے اور ہم ایک دوسرے کو مطعون ٹھہرائے بغیر دیکھتے رہتے مگر زبان سے ایک لفظ تک ادا نہ ہوتا۔ وہ لکیر اولاد تھی۔ مجھے پتہ تھا کہ ذیشان اس حوالے سے خالی ہے مگر اس کے باوجود میں رشتے کو نباہ رہی تھی۔ یہ خاموش لکیر بڑھتے بڑھتے ایک خلیج بن گئی اور بالآخر یہ طوفان بھونچال لے آیا۔ ذہنی مریض بنتے ذیشان نے مجھے طلاق دے دی۔

میرے اندر بھی بھونچال آگیا کہ میری قربانیوں کا یہ صلہ ’کئی دنوں کے بعد ذیشان نے رابطہ کیا کہ وہ اپنے کیے پرشرمند ہ ہے۔ میرا خیال تھا کہ وہ بحیثیت مسلمان جانتا ہو گا کہ طلاق کے بعد دوبارہ رجوع کیسے کیا جا سکتا ہے‘ اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ شرعی طور پر ایک دوسرے کے رفیق کیسے بن سکتے ہیں مگر وہ بضد رہا ’ایک دن اس نے آئیڈیا پیش کیا کہ اس کا ایک دوست ہے جو باقاعدہ نکاح کرکے مجھ سے شادی کرے گا اور پھر طلاق دے گا تو میں عدت پوری ہونے پردوبارہ رجوع کر لوں گا۔

پھر ایک دن ذیشان نے بتایا کہ میرادوست کم ازکم دو دن تک نکاح میں رکھناچاہتا ہے حالانکہ وہ ایک ہفتے سے کم پر راضی نہ تھا لیکن ذیشان کے زور دینے پر بمشکل دودن بعد طلاق پرراضی ہوا۔ میرا ذہن ماؤف تھا کہ اگر میں دوبارہ ذیشان کی زندگی میں شامل ہوناچاہتی ہوں تو مجھے یہ کام کرنا پڑے گا۔ خدا نے میری رہنمائی کی ’میرے گھروالوں نے ذیشان کی خواہشوں کو مٹی میں ملا دیا‘ میری شادی ایک اورشخص سے ہوگئی اورآج میں بچوں سمیت خوشحال زندگی بسر کررہی ہوں ”

صاحبو! یہ ایک کہانی نہیں بلکہ معاشرے میں پھیلے زہرکاعکس ہے ’ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے‘ معاشی مجبوریوں اور بعض دیگر عوامل کے باعث جب میاں بیوی میں طلاق ہوجائے توپھر ندامت کے بعد پھر سے ایک ہونے کی خواہش ہی حلالہ کی صورت سامنے آتی ہے۔ اسے بدقسمتی ہی سمجھاجا سکتا ہے کہ حلالہ کا تصور غلط انداز میں لیا گیا حالانکہ شرعی اعتبار سے اگر کوئی طلاق یافتہ عورت یا مرد شادی کرنا چاہیں تو ان کی نیت نکاح کے بعد طلاق کی نہ ہو۔ لیکن ہمارے ہاں اسے بھی ایک کاروبار بنا دیا گیا ہے۔

کاروبار سے یادآیا کہ اب تو باقاعدہ کئی سینٹرز بنادیے گئے ہیں جو حلالہ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ بیرون ممالک اس کاروبار کی ”ترقی“ دیکھ کر اب بڑے شہروں میں باقاعدہ سینٹرز نے تشہیری مہم اس زور سے چلائی ہوئی ہے کہ بحیثیت مسلمان شرمندگی ہوتی ہے۔

ہمیں آج کی تیز رفتار ترقی نے بے شمار سہولیات فراہم کردی ہیں تو ان سہولیات کو ہرشخص نے اپنی مرضی کے مطابق موم کی ناک سمجھ کرموڑ دیا ہے۔ گوگل پر حلالہ سینٹر سرچ کریں تو بے شمارخوشنما اشتہارات سامنے آجاتے ہیں۔ ”حلال طریقے سے حلالہ کروانے کی سہولت“ اب باقاعدہ رہائشی سہولیات اور دیگر ضروریات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ ان سنٹروں کے علاوہ باقاعدہ اشتہارات کے ذریعے حلال حلالہ کی ترغیب دی جاتی ہے ’اس کا ثبوت گوگل سرچ سے بھی مل سکتا ہے اس کے علاوہ کئی ایسی ویب سائٹس بھی موجود ہیں جہاں ایسے حلالہ کے حوالے سے نوجوانوں کی خوشنما پیشکش سامنے آتی ہیں باقاعدہ موبائل نمبر اورفراہم کردہ سہولیات کا ذکر‘ یہ وہ عوامل ہیں جو سامنے آگئے ورنہ جہاں جہاں طلاق کی شرح زیادہ ہے وہاں حلالہ کی شرح اسی اعتبار سے بھی بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔

صاحبو! ایک دوست نے معلومات میں یوں اضافہ کیا کہ بیرون ممالک اب تو خصوصی سینٹرز بنے ہوئے ہیں جو محض مسلمانوں کے لئے ہی مختص ہیں۔ ان سینٹروں میں ایک رات سے لے کر ایک ہفتہ یا ما بعد شادی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے اور باقاعدہ معاوضہ طے کیا جاتا ہے۔ بتانے والے نے بتا کرحیران کر دیا کہ انہی سنٹروں پر طلاق یافتہ عورتیں دوبارہ اپنے سابقہ شوہر وں سے رجوع کرنے کے لئے حلالہ بھی کراتی ہیں۔ یہ سلسلہ اتنی سرعت سے پھیلا ہے کہ بحیثیت مسلمان ہمیں بھی شرمندگی ہوتی ہے کہ ہم کس راہ پر چل نکلے ہیں۔

حلالہ کو آسان سمجھنے والے شاید نہیں جانتے کہ محض ایک فعل کی بدولت عورت کی ذہنی اورجسمانی کیفیت کیا ہوتی ہے؟ عورت محض سابقہ شوہر کی خواہش پر دوبارہ رجوع کرنے کی خواہش میں ایک غیر محرم کے ساتھ عارضی نکاح کی سولی پر لٹک جاتی ہے۔

صاحبو! پاکستان شرعی کونسل نے بیک وقت تین طلاق دینے پر سزاؤں کا اعلان کیا ہے اس حوالے سے فقہ ہائے کی رائے بھی الگ الگ ہے کونسل کا مقصد ہی یہی ہے کہ معاشرہ میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کو کم کیاجائے۔ طلاق عموماًنامناسب رویوں ’اولاد کے نہ ہونے‘ معاشی مجبوریوں کے باعث ہی ہوتی ہے اورجب غصہ پورے انتہا کو پہنچ جائے تو شوہر کے منہ سے نکلنے والے لفظ ”طلاق طلاق طلاق“ سے رشتوں کی ہیئت ہی بدل جاتی ہے۔ بعد میں جب دونوں کو ندامت ہوتو شوہر حلالہ کامشورہ دے کر خودایک طرف ہوجاتا اورپھر ذہنی جسمانی ٹارچر عور ت کو بھگتناپڑتا ہے۔ گو کہ شرعی اعتبار سے حالت غیض وغصہ بیک وقت تین طلاقوں کی ممانعت کی گئی ہے لیکن حالت شدید میں دی گئی طلاقوں کی شرح حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔

حلالہ کے نام پر معاشرے میں جاری بھیانک اور ان سنٹروں میں ہونیوالا نفسانی کھیل کسی اعتبار سے بھی شرعی طورپر حلال نہیں سمجھا جاسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشر ہ کے ذی شعور طبقات ان بڑھتے ہوئے رجحانات کو کم کرنے کے لئے ا پنا کردار مثبت انداز میں اداکریں۔