کیا لڑکے نیوڈز صرف بلیک میلنگ کے لئے منگواتے ہیں؟

جسمانی اعضا سے لطف اٹھانا کو ئی نئی بات نہیں اور محبت کا اظہار بوس و کنار، جسمانی تعلق یا کسی اور کیفیت سے ہونا بھی اتنا ہی پرانا ہو سکتا ہے جتنا کہ انسان۔ انسانی جبلت ہے کہ وہ ہر چیز کا لمس چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جسم ہو کہ کوئی بھی شے اس کے پاس ہو۔ وہ اسے محسوس کر سکے، اسے چھو سکے، وہ یہ سب نہ کر سکے تو وہ کم از کم اس کا احساس چاہتا ہے۔ اسی احساس کی بدولت وہ خیالات بنتا ہے اور کسی بھی چیز پر تسلط کا خواب دیکھتا ہے۔

ایسی ہی خواہش یا سوچ ہی شاید نیوڈز منگوانے کا سبب ہے جس میں رات کے آخری پہر لڑکا اور لڑکی کی بات چیت جاری ہے۔ دونوں ہی جذبات اور احساس کی رو میں ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہیں اور اسکی رو میں بہنا چاہتے ہیں۔

اگر آپ ایسا سوچ رہے ہیں کہ لڑکے نیوڈز کی ڈیمانڈ نہیں کرتے تو ایسا نہیں ہے۔ وہ کرتے ہیں مگر کیا ہر لڑکے کا نیوڈ منگوانے کا مقصد بلیک میلنگ ہے۔ تو اس کا جواب ہے، نہیں۔ نیوڈز کی ڈیمانڈ شاید زیادہ تر ریلیشن شپ یا وقتی دوستی میں ہو سکتی ہے۔ جہاں لڑکا اور لڑکی وقتی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ باہمی رضامندی سے ٹائم پاس کر رہے ہیں۔ نیوڈز کی ڈیمانڈ لانگ ڈسٹنس فرینڈشپ میں بھی ہو سکتا ہے۔

یا ایسا کہیں کہ جہاں جہاں انسانوں کی جسمانی ضرورت ہو گی اور ٹیکنالوجی کا ساتھ ہو گا وہاں وہاں یہ کیفیت ہو سکتی ہے۔ ہمارے جیسے معاشرے میں جہاں لڑکے یا لڑکی آزادانہ ریلیشن شپ میں نہیں بندھ سکتے، وہ چوری چھپے ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرتے ہیں وہ جسمانی ہوں یا جذباتی۔ جذباتی تعلق میں تو پیار بھری باتیں ہوتی ہیں جب مو بائیلز میں کیمرے نہیں ہوتے تھے تو جذباتی میسجیز سے ایک دوسری کی کمی دور کی جاتی تھی پھر ہر موبائل میں کیمرے آ گئے۔ اور محبت کا ایک اظہار یا جسمانی ضرورت کا سامان نیوڈز ٹھہرا۔

ویسے دیکھا جائے تو نیوڈز کی ڈیمانڈ زیادہ تر لڑکے کی طرف سے ہوتی ہے یہ حقیقت ہے۔ اور لڑکی کی طرف سے کم، اور ہمارے دیسی معاشرے میں تو شاید بہت ہی کم۔ مگر ہم ایسے عوامل سے پردہ پوشی اور باہمی رضامندی کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے اگر کر رہے ہیں تو ہم بھی غلط کو غلط سے جسٹیفائی کر رہے ہیں۔

لڑکے کسی نا کسی فیز پر نیوڈز کی ڈیمانڈ کرتے ہیں میں اکثریت کی بات کر رہا ہوں سب کی نہیں۔ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں مگر وہ ایک وقتی ہیجانی کیفیت ہے۔ جس میں جذبات اور جسمانی کیفیت ایک مشکل اور سخت صورتحال سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ جس کو کسی نا کسی طریقے سے سکون باہم پہنچانا لازمی ہے۔ اس کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں مگر آج کل سب سے موثر طریقہ یہی ہے کہ دور بیٹھے ساتھی کے احساس کو محسوس کیا جائے بے شک وہ برہنہ ہی کیوں نا ہو۔

اب کوئی یہ نا بتائے کہ اسکا حل فلاں اشلوک یا فلاں تعویز ہے. آپ اس حقیقت کو سمجھیں جو ایک جوان مرد یا جوان لڑکی کو درپیش ہے. آپ آنکھیں بند کریں گے تو ایسا ہی ہے کہ زخم کو ایک خوبصورت پٹی سے چھپا دیا جائے اور وہ ناسور بنتا جائے۔

نیوڈز کی ڈیمانڈ کے حوالے سے اب تک میں نے جتنے بھی لوگوں سے بات کی زیادہ تر لڑکوں کا جواب یہ تھا کہ ہم ہیجانی کیفیت میں ڈیمانڈ ضرور کرتے ہیں۔ اور ہم اتنا زیادہ یقین نہیں رکھتے کہ واقعی اگلی بندی بھیج دے گی۔ یا بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ ہمیں امید نہیں تھی، لگا کہ اموشینلی ٹچ دے کے منگوانا پڑے مگر اسکے لیے یہ سب نا کرنا پڑا اور کسی حیل و حجت کے بغیر جواب مثبت آ گیا۔

مگر زیادہ تر لڑکوں نے اسے وقعتی کیفیت کا نام دیا اور نیوڈز منگوانے کے طریقے بھی بتائے جس میں کبھی اموشنلی یا بریک اپ کی دھمکی دی جاتی ہے۔

اور لڑکیاں جن سے بات ہوئی وہ بھی کچھ محتلف سوچ نہیں رکھتیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ ان تصویروں سے اگر ان کا دوست اطمینان حاصل کر رہے ہیں خوش ہو رہا ہے تو وہ رضامند ہیں۔ اور سوچ وہی ہوتی ہیں اگر وہ مجھ سے مانگ رہا ہے تو وہ امید ہے۔ کسی اور کی طرف نہیں جائے گا۔ ہم کبھی بریک اپ نہیں کریں گے مجھے ایک اچھا بندہ مل گیا ہے۔ اگر وہ چھوڑ بھی گیا یا میں نے کنارا کشی کر بھی لی تو وہ ایسا نہیں کر ے گا۔ تاہم ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا اور لڑکے بعض اوقات اس کا ناجائز فائدہ اٹھا لیتے ہیں جو کہ سراسر ایک گھٹیا حرکت ہے جس کا کسی بھی پیرائے میں دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ زیادہ تر بریک اپ میں یا لڑکی کا رجحان جب اس لڑکے سے کسی دوسری طرف جانے لگے۔ توایسے میں لڑکے جذباتی یا بدلے کے نتیجے میں بلیک میلنگ جیسے گھٹیا قدم اٹھا سکتے ہیں۔

مگر تصویر مانگنے یا دینے میں آپ دیکھ سکتےہیں کہ زیادہ تر صورتحال ففٹی ففٹی ہے۔آپ زیادہ سے زیادہ زور لگا سکتے ہیں اور نا ملنے پہ بائیکاٹ کی دھمکی دے سکتے ہیں اور شاید کچھ دن یہ کیفیت بھی رہے اور زیادہ تر بال لڑکی کے کورٹ میں ہے۔

میں ہے۔ ایک بار پھر وضاحت کر دوں کہ لڑکی کا مثبت جواب اس کا کنسنٹ (Consent) ہے مگر صرف اسی لڑکے کے لئے اس کے دوستوں اور شہر بھر کے لئے نہیں۔ مگر ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں کیا وہاں ہم ایک، دو یا کبھی کبھی تین دوست ایسے ضرور رکھتے ہیں جن سے دل کی بات کی جا سکے جہاں لڑکیوں کے اعضا کی تشریح ایک عام بات ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ بات صرف اسی تک محدود رہے گی؟ تو آپکی سوچ غلط ہے۔

میں یہ کوئی ایسی بات نہیں کر رہا جو آج سے پہلے کسی نے نہیں کی یا خواتین کو معلوم نہیں۔

مگر کیوں ایسی کیفیت کو جانتے ہوئے بھی ہمارے معاشرے کی لڑکیاں یہ قدم اٹھاتی ہیں کیا وہ کوئی ایسا طریقہ نہیں سوچتی کہ یا وہ نا بھیجیں۔ اگر بھیجیں تو سب کچھ واضح نا ہو۔ زندگی کو بہتر طریقے سے جیا اور انجوائے کیا جا سکتا ہے مگر چند احتیاطی تدابیر کے ساتھ، آپ اپنے آپ کو محفوظ کر سکتے بیں۔ بلکہ اس کا ملبہ کسی دوسرے پر ڈالنے کی بجائے کہ اس نے کیوں کسی کو دکھائیں۔ ایسی صورتحال سے بچا جا سکتا ہے۔ا ٓپ بھی اس میں برابر کی شریک ہیں۔ ملبہ ایک پر نا ڈالیں۔ اگر لڑکے نہیں بدل سکتے تو آپ بدل جائیں۔ میں ایک بار پھر کہنا چاہوں گا کہ بلیک میلنگ جیسی گھٹیا حرکت کا کسی طریقے سے دفاع نہیں کیا جا سکتا۔

اور ہر لڑکا اس لئے بھی نیوڈ کی ڈیمانڈ نہیں کرتا کہ وہ صرف بلیک میل ہی کرے گا۔ مگر پھر بھی احتیاط کریں اور دیکھیں تاکہ اس کا بوجھ بھی اکٹھا اٹھائیں جس طرح آپ نے ان تنہائی کے لمحات کو اکٹھا انجوائے کیا تھا۔