نقطے کی تاریخ کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Vintage pop art style illustration of a woman looking shocked - drawn using mostly coloured dots

Getty Images

نقطے کا کیا مقصد ہے؟

ہم اسے پہنتے ہیں، سنتے ہیں، پڑھتے ہیں اور گھورتے ہیں۔ یہاں تک کے ہم اسے ہواؤں کے دوش پر اور لہروں کی طے میں بھیجتے ہیں۔

آپ نے شاید غور نہ کیا ہو لیکن اس چھوٹے سے نشان کے بہت سے پہلو ہیں۔

یہاں اس چھوٹے لیکن ناگزیر نشان کے چند دلچسپ حقائق پیش کیے جا رہے ہیں۔

کونمارا پبلک لائبریری، انڈیا کا قدیم کتب خانہ

کتب خانوں اور کتب بینی میں کمی

پاکستان میں جعلی کتب سے نقصان کس کا؟

پہلا رموز اوقاف یعنی نقطہ، تیسری قبل مسیح میں بنایا گیا

Pages from an ancient hand-written book - with expressive lettering, illustrations and some dots in between words.

Getty Images

نقطہ متعارف کروانے سے قبل الفاظ بغیر کسے وقفے کے لکھے جاتے تھے۔ کچھ اس طرح سے: ( wordsusedtorunintoeachother)

پھر تقریباً 200 قبل مسیح میں لائبریری آف ایلگزینڈریا کے پانچویں لائبریرئن نے جن کا نام ایرسٹوفینز تھا مہربانی کی اور تھکے اور پریشان قاریئن کے لیے ایک راستہ نکالا، کہ کب سانس لینی ہے۔ وہ راستہ تھا تحریر میں نقطے ڈالنے کا۔

نہ صرف یہ بلکہ انھوں نے قاریئن کو الفاظ کے درمیان مثالی وقفے کے بارے میں بھی بتایا اور اس کے لیے انھوں نے کچھ لکیریں لگائی تاکہ نقطہ دکھائی دے سکے۔

کسی تحریر میں لمبے وقفے کے لیے جسے کالن کہا جاتا ہے، ایک نقطہ تحریر کے نیچلے حصے پر ڈال دیا گیا۔

چھوٹے وقفے کے لیے کوما کا استعمال کیا گیا اور تحریر کے بالکل برابر (·) اس طرح سے نقطہ ڈال دیا گیا۔

اور اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ تو جدید رموز اوقاف کا نشان کوما ہے، تو آپ بالکل صحیح ہیں۔

2۔ نقطہ کو ’1996 میں امریکہ کے سب سے مفید لفظ کا خطاب دیا گیا‘

Vector World Map Global Communications

Getty Images

ویسے تو اس کا استعمال بہت کم ہی ہوتا تھا لیکن ای میلز اور ویب سائٹس کے آنے کے بعد سب کچھ بدل گیا۔

ایک اندازے کے مطابق 2018 کے اختتام تک دنیا بھر میں 3.8 بلین ای میل اکاؤنٹس سے ہر روز کوئی 205 بلین ای میلز بھیجی اور موصول کی جا چکی ہیں۔

جس کا مطلب ہے بہت سے ڈاٹ کام۔

3۔ پولکا ڈاٹ کا نام پولکا ڈانس پر پڑا

Red polka dot sunglasses, on a bright blue background

Getty Images

سنہ 1850 کی دہائی میں پولکا پیٹرن بالکل ویسے ہی فیشن بن گیا جیسے اس وقت ڈانس کے لوگ دیوانے تھے۔

ڈاٹی پیٹرن کے معروف مداحوں میں مارلن منرو بھی شامل ہیں جن کی سنہ 1951 میں پولکا ڈاٹ بکنی پہنے ایک تصویر بہت مشہور ہوئی۔

باب ڈیلن نے اپنے گانے ’جسٹ لائک ٹام تھمبز بلیو‘ کی ویڈیو میں ہری پولکا ڈاٹ شرٹ پہنی تھی۔

4۔ ’کنگ آف ماؤنٹینز‘ پولکا ڈاٹ جرسی پہنتا ہے

Nairo Quintana wearing the polka dot jersey during the 2013 Tour de France

Getty Images

ٹوور ڈی فرانس میں ’کنگ آف دی ماؤنٹینز‘ کا خطاب پانے والے سائکلسٹ کو پولکا ڈاٹ جرسی دی جاتی ہے، جو سفید رنگ کی ہوتی ہے اور اس پر سرخ ڈاٹ ہوتے ہیں۔

یہ ٹائٹل سائکلنگ روڈ ریس میں بہترین کھلاڑی کو دیا جاتا ہے، جسے باقاعدہ طور پر ماؤنٹینز کلاسیفیکیشن کہا جاتا ہے۔

5۔نقطے یورپ میں سب سے قدیم کیوو آرٹ ہے

Petroplyphs in Hawaii, at sunrise

Getty Images

سپین میں ایک غار کی دیوار پر ماہرین آثارِ قدیمہ نے سرخ نقطے دریافت کیے، جو کم از کم 40 ہزار سال پرانے ہیں۔ اس طرح یہ یورپ میں سب سے قدیم کیوو آرٹ ہیں۔

ان نقطوں نے نیندرتھل قوم کی صلاحیتوں، سوچ اور مہارت کے بارے میں ہماری پہلے سے قائم رائے کو چیلنج کرنے پر ہمیں مجبور کیا ہے۔

ماقبل تاریخ کے عہد کے دیگر لوگ پتھروں پر تصاویر بنا کر، اکثر نقطوں سے اپنے بارے میں بیان کرنے کو ترجیح دیتے تھے جسے نقش حجر کہا جاتا ہے، یعنی پتھروں پر نقاشی۔

یہ پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں، ہوائی کے ساحلوں سے چلی کے صحراؤں تک، اور نمیبیا کے دور دراز دیہاتوں سے منجمد سربیا تک۔

6۔ نقطے ٹائٹینک کو بچا سکتے تھے

A blackboard with the letters SOS and the SOS message written in Morse code

Getty Images
اگر کوئی صرف توجہ ہی دے دیتا۔۔۔۔

مارس کوڈ سگنل کا ابتدائی استعمال بحری جہاز ٹائٹینک سے بھی کیا گیا تھا۔ جب اس ڈوبنے والے بحری جہاز کا انجن روم پانی سے بھر گیا تو وہاں سے ایک ایسا ہی پیغام بھیجا گیا تھا۔

تاہم اس ڈوبنے والے بحری جہاز میں موجود سگنل آپریٹرز کا ابتدائی طور پر پیغام نظر انداز ہو گیا تھا، جو ڈاٹ اور ڈیشز میں تھا۔ یہ پیغام ایک دوسری کشتی سے بھیجا گیا تھا اور اس پیغام میں برف کے حوالے سے خبردار کیا گیا تھا۔

اگر یہ تھوڑی سی توجہ دیتے اور اس پیغام کو آگے کپتان کو بھیج دیتے تو شاید وہ برفیلی چٹان سے بچ جاتے۔

7۔ آسٹریلیا کے قدیم باشندے 1970 کی دہائی سے قبل ڈاٹ پینٹنگ شروع نہیں کر پائے

Aboriginal dot painting of a kangaroo, an by an indigenous Australian Aboriginal Artist - Ochre on card, Stanley Geebung, Circa 1995

Getty Images

آسٹریلوی آدی باسیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے قدیم جاری رہنے والی تہذیب ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ جدت سے خوفزدہ نہیں تھے۔

تاریخی اعتبار سے وہ رسمی طور پر سینڈ پینٹگز اور اپنے جسموں پر ڈاٹز (نقطوں) کا استعمال کرتے تھے، اور وہ 1970 کی دہائی تک ان نقطوں کو کینوس پر نہیں لا پائے تھے۔ بعد میں انھیں 1970 کی دہائی کے آغاز میں سفید فام آرٹ سکول کے ٹیچر جن کا نام جیفری بارڈن تھا نے حوصلہ دیا۔

یہ پینٹنگز اس طرح سے سامنے آئیں کہ انھیں 20ویں صدی کی لاسٹ گریٹ آرٹسٹک موومنٹ کہا گیا۔

8۔ دنیا کی ریکارڈ توڑ ڈاٹ-ٹو-ڈاٹ میں 6239 نقطے تھے

A visitor takes a picture of a sculpture of 'Mona Lisa' made with Lego bricks.

Getty Images

ورلڈ ریکارڈ ’کنیکٹ دی ڈاٹس‘ پزل کو میلبرن کے آرٹسٹ اور ڈیزائنر تھاٹس پیووٹ نے بنایا تھا۔

اس میں مونا لیسا کو پیش کیا گیا تھا اور اسے 6239 نقطوں یعنی ڈاٹس سے بنایا گیا تھا۔

پیووٹ نے سخت محنت سے اپنی زندگی کے 9.5 گھنٹوں میں اس پزل کو مکمل کیا۔

9۔ پوائنٹلزم ڈاٹس سے پینٹنگ ہے

Seurat's 'The Bridge at Courbevoie'

Getty Images
سیرت کی یہ پینٹنگ پوائنٹلزم کو نئی اونچائی تک لے گئی

سنہ 1886 میں فرانسیسی فنکار جارج سیرت اور پال سگنیک نے ایک تکنیک بنائی جسے ’پوائنٹلزم‘ کے نام سے جانا جانے لگا۔

اس تکنیک کے ذریعے چھوٹے اور مختلف رنگوں کے ڈاٹس کو اس طرح سے جوڑا جاتا کہ اس سے کوئی تصویر بن جائے۔

قریب سے آپ کو صرف چھوٹے نقطے ہی دکھائی دیتے ہیں لیکن جب آپ تھوڑا پیچھے ہٹتے ہیں تو بے ساختہ منھ سے نکلتا ہے۔۔۔۔ یہ ہوئی نہ بات!

سیرت کی ’دی برڈج ایٹ کووبووا‘ اس تکنیک کی سے سب اہم مثال سمجھی جاتی ہے۔

اس آرٹسٹ کا مشہور جملہ ہے ’بعض کہتے ہیں کہ انھیں میری پینٹنگز میں شاعری دکھائی دیتی ہے، میں ان میں صرف سائنس دیکھتا ہوں۔‘

10۔ بریل ایک ’زبان‘ ہے جو صرف نقطوں سے بنی ہے

Hands reading Braille book

Getty Images
جے کے رولنگ کی ہیری پورٹر اور آرڈر آف دی فینیکس کا بریل ورژن 38 جلدوں میں آتی ہیں

بریل ایک قوت لامسہ سے متعلق لکھنے کا نظام ہے جو نابینا افراد استعمال کرتے ہیں۔ اس میں ابھرے ہوئے نقطوں کا امتزاج ہے جس کی مدد سے رموز اوقاف اور حروف کو پڑھا جا سکتا ہے۔

اس کے بنانے والے لوئس بریل جو بچپن میں ایک حادثے میں اپنی قوت بینائی سے محروم ہو گئے تھے، لیکن وہ اپنے پڑھنے لکھنے کے شوق سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔

پندرہ سال کی عمر میں بریل نے فرانسیسی حروف کے لیے ایک کوڈ بنایا، جبکہ انھوں نے میوزک نوٹیشن میں بھی ایک نظام کو شامل کیا، جو اب تک بڑی حد تک تبدیل نہیں کیا جا سکا ہے۔

بریل کے حروف عام طور پر بڑے ہوتے ہیں اور زیادہ جگہ لیتے ہیں اس لیے بریل کی کتابیں دیگر کتابوں کی نسبت زیادہ بڑی ہوتی ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ بریل نقطوں والا ایک ٹیبلیٹ مارکیٹ میں بس آنے کو ہی ہے۔

11۔ ہلکے نیلے نقطہ (ڈاٹ) زمین کی تصویر ہے جو 3.7 بلین میل کی دوری سے لی گئی

Seen from about 6 billion kilometres away, Earth appears as a tiny dot (a blueish-white speck approximately halfway down the brown band to the right) within the darkness of deep space.

NASA
ریکارڈ دوری سے لی گئی زمین کی تصویر

یہ تصویر 14 فروری 1990 کو وئیجر 1 خلائی مشن نے زمین سے ریکارڈ دوری سے لی تھی۔

اپنا مشن ختم کرنے کے بعد جب وئیجر1 نظام شمسی کو چھوڑنے ہی والا تھا تو خلائی ادارے ناسا نے اس سے سیارے زمین کی ایک آخری تصویر لینے کو کہا۔

اس تصویر میں زمین خلا میں ایک چھوٹے سے نقطے کی صورت میں دکھائی دے رہی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 7664 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp