وہ لڑکا ملتا ہی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 1
  •  
  •  

انیسواں سال ہے مگر وہ بارش خیالات کی وادی میں اب بھی جھل تھل ایک کیے ہے۔ شہر کے گرد پہاڑ دھند کی سفید چادر اوڑھے تھے اور وہ جھڑی کے جو لگی ہی رہتی۔ نوجوانی کی دہلیز سے بس ابھی پار اترا وہ کھلنڈرالڑکا کلاس روم کی کھڑکی سے باہر فضاوں میں نظریں جمائے تھا۔ ہوا کے ساتھ برف کے آوارہ گالے دیکھے تو اس کا دل بھی مچل پڑا۔ لیدر کی جیکٹ میں اندرونی جیب سے اونی ٹوپی نکال کر سر پر چڑھائی اور اس کی جگہ ڈائری کو رکھا، زپ بند کرتے پچھلے دروازے سے نکل پڑا۔

بے ترتیب عمارتوں کے بیچوں بیچ ٹپکتی گلیوں سے ہوتا، چھتوں سے گرتے پرنالوں سے خود کو بچاتا تیز قدموں سے چلاجاتا۔ شہر کو دو حصوں میں بانٹتی سڑک کے پار لاری اڈہ اس کی منزل تھی مگر اس نے جانا کہیں نہیں تھا۔ اڈے کی پچھلی جانب کشمیر ان ہوٹل کی نیم تاریک سیڑھیوں سے ہوتا وہ بالائی ہال میں جا پہنچا۔ جب بھی بارش ہوتی وہ یہیں چلا آتا اور بارش تو روز ہی ہوتی۔ ہوٹل کا متروکہ فرنیچر، ٹوٹی کرسیاں اور پرانی میزیں اس ہال کا اثاثہ تھیں۔

ہال میں بانکپن کی ڈگر سے گزرتے کچھ اور بھیگتی مسوں والے بھی موجود رہتے۔ ایک کونے میں بیٹھتے ہی اسی کی عمر کا ویٹر آیا تو اس نے بنا کوئی بات کیے دس روپے کا نوٹ اسے تھما دیا۔ پانچ روپے کے دو سگریٹ آتے اور پانچ روپے اس ویٹر کی بخشیش ٹھہرتی جو کسی ممنوع نشہ مہیا کرنے جیسی رازداری سے ہوٹل پر آنے والے ان کھلنڈروں کو سگریٹ مہیا کرتا تھا۔ اس بالائی ہال میں عام گاہکوں کا آنا جانا تھا نہیں اس لئے سگریٹ کا لطف اٹھاتے کسی اپنے سے پکڑے جانے کا ڈر بھی نہ تھا۔

اس کے باجود وہ سگریٹ جلانے کے بعد دو کشوں کے درمیانی وقفوں میں سگریٹ کو میز کے نیچے چھپائے رکھتا۔ چاروں جانب دیکھتا، جب تسلی ہو جاتی کوئی دیکھ نہیں رہا تب اگلے کش کی باری آتی۔ اس معمول سے ایک سگریٹ سے بمشکل دس کش ہی ممکن ہوتے۔ اس ہال کی ایک کھڑکی سے بہتی ندی کا منظرکھلتا تو دوسری جانب لاری اڈے کا کچا میدان پڑتا جہاں اپنی باری کے انتظار میں کھڑی بسوں میں کنڈکٹر محفلیں جمائے رکھتے۔ اڈے کی دوسری جانب غنی کا ٹی سٹال تھا جس کی زنگ آلود چھت سے کچھ ٹوٹی چینکوں کے علاوہ بوندیں بھی الٹی لٹکی رہتی۔

غنی نام کا ہی نہیں، دل کا بھی غنی تھا۔ پورا اڈہ ہی غنی سے ادھاری چائے پیتا۔ پاؤ دودھ پتی کے نام پر چھوٹی پیلی چینک میں تین پیالیوں میں چائے آتی، کبھی پینے والے زیادہ ہوتے تو پیالیاں زیادہ بھی منگوا لی جاتیں۔ حجام کے پھٹے پر چوکڑی بھرے بیٹھے گاہک، بیٹری والے کے دکان پر موجود گاڑیوں کے ڈرائیورز اور الیکٹریشن کے شالیں لپیٹے کچھ دوست نما گاہگ انہی پیالیوں سے دو دو گھونٹ بھرتے اور سردی کا تریاک کرتے۔

سگریٹ دونوں ختم ہو جاتے مگر وہ الجھی آنکھوں اور بکھرے بالوں والا لڑکا یہیں بیٹھا رہتا کہ صرف سگریٹ ہی اس کا نشہ نہیں تھا، یہ کھڑکی کے شیشوں سے ٹکرا کر سر پھوڑتی بوندیں، گہرے بادل، سڑکوں پر بہتا پانی، چھتریاں تھامے لوگ، یہ سارے منظر اسے سرور دیتے۔ وہ بارش کی آواز کے ساتھ سوچتا رہتا۔ وہ سوچ جو اس عمر میں سبھی کو لاحق ہوتی ہے۔ ”کیا میں اس سے کہوں؟ چھوڑ۔ کیا کہوں“۔ خود ہی سوال کرتا خود ہی جواب دیتا وہ جانے کتنے مہینے یہیں آکر بیٹھتارہا، وہ خود ہی اپنا دوست تھا۔

کلاس میں بھی گم سم، نہ زیادہ بولتا نہ شرارت کرتا۔ کلاس میں کوئی سوال پوچھ لیا جاتا یا کسی موضوع پر بحث ہوتی تو وہ ایک آدھا شعر ضرور سنا دیتا کبھی صرف ایک حسب حال مصرعہ۔ پرنسپل نے ایک بار مضمون لکھوایا تو اس کے طرز تحریر کا گرویدہ ہو گیا۔ پاس بلایا، بٹھایا، سمجھایا کے تم قابل ہو، محنت کرو، پڑھو مگر کوششیں بے سود رہیں، اس لڑکے کی روش نہ بدلی۔ وہی بے دلی سے کبھی کالج آجانا کبھی نہ آنا اور آنا تو نظریں بچا کر نکل جانا۔

شہر میں ایک میوزک سنٹر والے سے اس کی کچھ دوستہ ضرور تھی۔ کبھی اس کے پاس جا کر بیٹھ رہنا۔ جیب خرچ سے پیسے بچا کر فرمائشی غزلیں اور گیت کیسٹ میں بھروانا۔ ساٹھ منٹ کی کیسٹ میں دس گانے پچاس روپے کے عوض بھروائے جاتے۔ گھر جا کر ٹیپ پر وہ کیسٹ لگانا اور جو گیت یا غزل دل کی بھرپور ترجمانی کرتی محسوس ہو اسے بار بار آگے پیچھے کر کے سننا، گھر والے کیا سوچیں گے، اسے یہ پرواہ بھی کب تھی۔ ایک مکمل بے فکر، بے پرواہ مگر خواب دیکھنے والا، خوبصورتی کو محسوس کرنے والا، زندگی کے رنگوں سے رومان کرنے والا لڑکا تھا۔

آج انیس سال بعد جب بارش ہو اس لڑکے کی یاد ذہن کے کواڑوں پر دستک دینے آتی ہے۔ ۔ ادھر کسی فکر نے دامن پکڑا ادھر اس کی بے فکری یاد آئی، غم دوراں کے جھمیلوں سے نکلنے کے لئے بھی اس ٖغم جاناں میں گم سم رہنے والے لڑکے کو بہت ڈھونڈا، اس شہر میں، ان بارشوں میں، ان قہوہ خانوں میں، اس ہوٹل کے بالاخانے میں، اس کالج کی چاردیواری کے پاس، اس کے گاؤں کی پگڈنڈیوں پر اور اس لڑکے کی سوچ کا مرکز رہنے والے ایک دوسرے گاؤں کے رستوں پر، کہاں کہاں نہ تلاشا مگر وہ لڑکا ملتا ہی نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 1
  •  
  •  
سہیل رشید کی دیگر تحریریں
سہیل رشید کی دیگر تحریریں