مودی کی بالی وُڈ سیلفی، سوشل میڈیا پر ہلچل


اگر آپ بھی ہم جیسے ہیں تو دن میں اپنی ایک آدھ سیلفی تو ضرور بناتے ہوں گے۔ آخر سمارٹ فونز کا اور مقصد ہی کیا ہے! اور ہم آپ ہی نہیں آج کل تو سیاسی رہنماؤں سے لے کر بڑے بڑے کھلاڑیوں اور فلم سٹار تک، سب ہی سیلفی کے دیوانے ہیں۔ سب سیلفی لیتے ہیں، پوسٹ کرتے ہیں اور لائک اور ریٹویٹ کا لطف اٹھاتے ہیں۔

تو پھر اس ایک سیلفی میں آخر ایسا کیا تھا کہ بحث جو شروع ہوئی وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی؟ ہوا یہ کہ انڈین فلم ساز کرن جوہر نے یہ سیلفی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کی۔۔

https://twitter.com/karanjohar/status/1083393266026930176

اس تصویر میں کرن جوہر کے علاوہ انڈین فلم انڈسٹری کے دوسرے بڑے نام بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جیسے کہ رنویر سنگھ، عالیہ بھٹ، رنبیر کپور، راج کمار راؤ اور آیوشمان کھرانا۔ تصویر کے ساتھ کرن جوہر نے لکھا، ’معزز وزیر اعظم نریندر مودی، شکریہ۔ آج ہم سب کو آپ سے بات کرنے کا غیر معمولی موقع ملا، دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا اور ساتھ مل کر ہم ایک نیا انڈیا بنانے کے لیے مثبت قدم اٹھانا چاہیں گے۔‘

https://twitter.com/ektaravikapoor/status/1083344813238304769

یہی تصویر ٹی وی ڈرامے بنانے والی ایکتا کپور نے بھی پوسٹ کی اور اس کے ساتھ لکھا، ’اس ملاقات کے لیے شکریہ معزز وزیر اعظم نریندر مودی! ایک نوجوان وفد نے ایک دور اندیش رہنما سے ملاقات کی، تعلیم اور تفریح کو کس طرح ملایا جائے، اس بارے میں بات چیت کا آغاز کیا! میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ آپ کی دور اندیشی اور شخصیت کے زور سے میں بہت متاثر ہوئی! جے ہند!‘

ان پوسٹس سے یہ بات تو ظاہر ہے کہ وفد میں موجود اداکار اور فلم ساز اس ملاقات سے کافی خوش اور مطمئن تھے، تاہم کچھ لوگوں کو یہ تصویر کچھ پسند نہیں آئی۔

https://www.instagram.com/p/BsdRs2fBP6y/?utm_source=ig_web_button_share_sheet

اداکارہ نفیسہ علی سودھی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کرن جوہر کی پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’اپنی برادری کے لوگوں کو اس طرح وزیر اعظم کی سوچی سمجھی پبلسٹی مہم کا حصہ بنتے ہوئے دیکھ کر افسوس ہوا۔ میں دعا کروں گی کہ سچ سامنے آئے اور بند دروازوں کے پیچھے جو ’تقسیم کرو اور راج کرو‘ کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے وہ لوگوں کی سمجھ میں آئے۔ میں ہر انڈین شہری کے آئینی حقوق کے لیے فکر مند ہوں۔ میں گجرات میں ہونے والے فسادات کے ٹھیک بعد وہاں موجود تھی اور اس حقیقت کو میں کبھی نہیں بھولوں گی۔ میں انڈیا کے اتحاد کے لیے دعا گو ہوں۔‘

https://twitter.com/ShabnamHashmi/status/1083436119327297536

اسی طرح کے خیالات کا اظہار انسانی حقوق کی کارکن شبنم ہاشمی نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کیا۔ انہوں نے لکھا، ’کیا یہ تصویر فوٹو شاپ کی گئی ہے؟ یا یہ لوگ پوری طرح سٹھیا گئے ہیں؟ اور تصویر کے بائیں طرف کیا یہ جے امیت شاہ ہے یا ان کے ہم شکل؟‘

اس کے جواب میں مشہور مورخ اور کارکن عرفان حبیب نے لکھا، ’شبنم، یہ نیا انڈیا ہے۔‘

https://twitter.com/irfhabib/status/1083551167546777600

اور اس کے جواب میں صحافی ساگریکا گھوس نے ٹویٹ کی، ’بالی وُڈ میڈیا کی طرح ہی ہے، بس نام کے لیے آزاد۔ ہماری فلم انڈسٹری پر حکومت کا کنٹرول غیر رسمی اور وسیع ہے۔ بھکت صحافیوں کی طرح ہمارے پاس بھکت فلم سٹار ہیں۔ میریل سٹریپ؟ روبرٹ ڈی نیرو؟ یہاں انڈیا میں نہیں! اسی وجہ سے میں ’بڑی ریاست‘ کے خلاف مزاحمت کے بارے میں بات کرتی ہوں۔‘

https://twitter.com/sagarikaghose/status/1083582496388927488

تو ظاہر ہے جہاں کچھ لوگ اس ملاقات سے خوش ہیں وہیں کچھ کو اس طرح وزیر اعظم کے ساتھ تصویر بنانا اچھا نہیں لگا۔ لیکن شاید سوال یہ ہے کہ کیا کسی سیاسی رہنما کے ساتھ اس طرح کی تصویر صرف ایک تصویر ہوتی ہے یا پھر اس رہنما کی پالیسیز، اس کے وِژن اور اس کی سیاست کی حمایت کے مترادف ہوتی ہے؟

کیونکہ، جیسا کہ کئی ٹوئٹر صارفین نے ہمیں یاد دلایا، وزیر اعظم کے ساتھ تصویر بنوانا انڈین فلم انڈسٹری کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔

https://twitter.com/Divyaharisha11/status/1083648676579368960

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 7165 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp