کیا پاکستان میں #MeToo مہم خطرے کا شکار ہے؟

کومل فاروق - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ سوشل میڈیا پر ذرا بھی سرگرم ہیں تو آپ نے می ٹو تحریک کے بارے میں ضرور سنا ہو گا۔

میشا شفیع کے علی ظفر پر انھیں ہراساں کرنے کا الزام لگانے کے بعد پاکستان میں یہ مہم زور پکڑتی گئی۔

حال ہی میں نجی خبر رساں ادارے کی طرف سے نئے ٹیلینٹ کے استحصال اور فلم انڈسٹری کو خواتین کے لیے محفوظ بنانے پر کیے گئے سوال کے جواب میں اداکار جاوید شیخ کا کہنا تھا ’می ٹو تحریک میں بہت سی کہانیاں شہرت حاصل کرنے کے لیے مشہور کی گئیں۔ ہم نہیں جانتے کہ جس شخص پر الزام لگایا گیا ہے وہ قصوروار ہے یا نہیں۔‘

جاوید شیخ کا مزید کہنا تھا ’ایسی باتوں کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ جہاں مرد اور عورت ہوتے ہیں وہاں اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں۔ بہت سی خواتین خود پر می ٹو کرواتی ہیں۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

MeToo# پاکستان کب پہنچے گا؟

‘بائیکاٹ طیفا ان ٹربل’ کے نعرے کیوں؟

’ٹویٹ حذف کریں، معافی مانگیں ورنہ ہرجانہ دیں‘

’میشا شفیع آپ اکیلی نہیں ہیں‘

سوشل میڈیا پر پرستاروں کا ردِعمل

اس بیان کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِ عمل دیکھنے میں آیا۔ انسٹاگرام پر ایک صارف کہتی ہیں ’آپ ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی یا عورت سے اس کے ساتھ ہوئے ریپ کو ثابت کرنے کو نہیں کہہ سکتے۔ کوئی (اپنے ساتھ ہوئی) زیادتی کو ثابت کیسے کر سکتا ہے؟ اور اگر وہ حقائق پیش کر بھی دے تو آپ جیسے لوگ اس لڑکی پر یقین نہ کرنے کے بہانے بنائیں گے۔’

ایک ٹوئٹر صارف کہتے ہیں ’می ٹو کی سب سے زیادہ مخالفت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو پکڑے نہیں گئے یا جنھوں نے ایسی ناانصافیوں کو نظرانداز کیا ہے۔‘

https://twitter.com/fatherofyousaf/status/1081276889573064704

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جاوید شیخ کا کہنا تھا کہ ان کا وہ مطلب نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں’عورت عورت ہوتی ہے اور ہر جگہ اس کی عزت کرنی چاہیے۔ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہیں۔ کچھ لڑکیاں ایسی ہیں جو شہرت حاصل کرنے کے لیے یہ کرتی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’عورت میں ہمت ہونی چاہیے مگر پانچ سال کے بعد اگر آپ نے کہا کہ سنہ 2000 میں ایسی بات ہوئی تھی تو اس میں پاور نہیں رہتی۔ اگر ایسی کوئی بات ہو تو ہمت پیدا کریں، اس کا سامنا کریں اور بتائیں تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ جس نے کیا ہے اس کو کتنی بری سزا ہو سکتی ہے؟‘

کیا جاوید شیخ اکیلے ہی ایسے خیالات کے مالک ہیں؟

کسی سلیبریٹی کی طرف سے ایسا بیان پہلی بار منظرِ عام پر نہیں آیا۔

نجی چینل پر ’ٹو نائیٹ وِد ایچ ایس وائے‘ نامی ٹاک شو پر می ٹو کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے معروف ماڈل صدف کنول کا کہنا تھا ’جب آپ کے ساتھ می ٹو ہو تب بول دو۔ بعد میں آپ کو یاد آ رہا ہے می ٹو، میرا خیال ہے تب ہی بول دو۔ اگر میرے ساتھ کبھی می ٹو ہوا تو میں بولوں گی اور میں سوشل میڈیا پر نہیں بولوں گی، میں آپ سب کو بتاؤں گی۔‘

اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر سرگرم رہنے والے اداکار حمزہ علی عباسی نے ٹویٹ کی ’ایک مرد عورت کے ساتھ ہنسی مذاق کرتا ہے اور عورت کو برا لگتا ہے لیکن بااختیار ہونے یا کسی اور وجہ کی بنا پر وہ اسے عورت کی رضامندی سمجھنے لگتا ہے اور برسوں بعد وہی عورت کہتی ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے مگر مرد کو لگتا ہے کہ وہ تو رضامندی کہ ساتھ ہنسی مذاق کر رہا تھا‘۔

https://twitter.com/iamhamzaabbasi/status/987253543257235456

حال ہی میں بالی ووڈ کے بہت بڑے ستارے بھی می ٹو مہم کی لپیٹ میں آئے۔ سرحد پار سے ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ جیسی سدا بہار فلمیں کرنے والی رانی مکھر جی نے راجیو مسند کے شو پر کہا ’میرا خیال ہے عورتوں کو خود پر یقین ہونا چاہیے اور انھیں خود سے کہنا چاہیے کہ اگر وہ نہ چاہیں تو ایسا نہیں ہو گا۔‘

https://twitter.com/doepikapadukone/status/1079054975551107075

اس طرح کے بیانات کا پرستاروں پر کیا اثر پڑتا ہے؟

اس بارے میں ماہرِ سماجیات ڈاکٹر ندا کِرمانی کا کہنا ہے ’اس طرح کی رائے عورتوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے اور یہ پیغام جاتا ہے کہ عورتوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ جنسی زیادتی کے دعوؤں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ عورتوں کو ان دعوؤں سے فائدہ نہیں ہوتا بلکہ ان دعوؤں کی وجہ سے اکثر وہ سب کچھ کھو دیتی ہیں جس کی وجہ سے وہ سامنے آ کر اس بارے میں بات نہیں کر پاتیں۔‘

خیبرپختونخوا میں حکومت کی طرف سے ایسے معاملات کے لیے منتخب کی گئیں پہلی محتسب رکشندہ ناز کہتی ہیں کہ ہم مشکل سے خواتین کے لیے جگہ بنا رہے ہیں تو جاوید شیخ کو اس قسم کی ’سویپنگ سٹیٹمنٹ‘ نہیں دینی چاہیے۔

’مرد اور عورت کے ایک جگہ موجود ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات پیش آنے پر‘ ڈاکٹر ندا کہتی ہیں کہ ’جاوید شیخ جنسی زیادتی کو باہمی رضامندی کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ وہ ایک معروف شخص ہیں اور لوگ ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ اس طرح کے بیان پڑھ کر لوگ می ٹو مہم کے متعلق مزید غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں‘۔

اس بارے میں صحافی صباحت زکریا کا کہنا ہے کہ پہلے سے ہی کچھ خواتین کی رائے میں پدرِ شاہی کا اثر واضع ہوتا ہے کیونکہ ان کی رائے تجربات کی عکاسی کرتی ہے اور ایسی رائے پڑھ کر ان خواتین کو زیادہ فرق نہیں پڑتا۔

جنسی زیادتی کے کیسز برسوں بعد سامنے کیوں آتے ہیں؟

کچھ سیلیٹریٹیز کی طرف سے اصرار کیا جاتا ہے کہ جب کسی کے ساتھ جنسی زیادتی ہو تو وہ فوراً ہی کیس درج کروائیں۔ خیال رہے کہ سماجی دباؤ اور پدر شاہی جیسے عوامل کی وجہ سے زیادتی کے کیسز عموماً کچھ سال بعد ہی رپورٹ کروائے جاتے ہیں۔

صحافی صباحت زکریا کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کے بہت سے کیسز ایسے ہوتے ہیں جو ثابت نہیں کیے جا سکتے تو اس صورت میں اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کے لیے نام لے کر برا بھلا کہنے اور ملزم پر الزام لگا کر گزارا کیا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں پہلی صوبائی محتسب رکشندہ ناز کہتی ہیں ’میرے پاس فیکٹری ورکرز، دفاتر میں ملازمت کرنے والی، تعلیم کے شعبے اور ہوائی اڈے پر کام کرنے والی خواتین کے کیسز آتے تھے۔ فیکٹری ورکرز نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بات باہر نکلے۔

ان کا مزید کہنا ہے ’پاکستان میں یہ بڑا نازک معاملہ ہے۔ مختاراں مائی کے کیس کا سب کو پتہ ہے اور ایک صدر اٹھ کر کہہ دیتا ہے کہ آپ کو کینیڈا کا ویزا چاہیے۔‘

ان کیسیز پر کس قسم کے قوانین لاگو ہوتے ہیں؟

پاکستان بھر میں زیادتی کے کیسز پر دو قسم کے قوانین لاگو ہوتے ہیں: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 509 اور 2010 میں عورتوں کو کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کے خلاف متعارف کروائے گئے قوانین۔

تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 509 کے تحت عوامی مقامات پر خواتین کو ہراساں کرنا قانوناً جرم ہے۔ جنسی زیادتی کرنے پر زیادہ سے زیادہ تین سال قید یا پانچ لاکھ تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

سنہ 2010 کے عورتوں کو کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کے خلاف قانون کے تحت ہر کمپنی کو تین افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنانی ہو گی جو درج کی گئی شکایات سے 30 دن کے اندر نمٹے گی۔ بنائی گئی کمیٹی میں ایک عورت کا ہونا لازمی ہے۔ سات دن کے اندر کمپنی کو کمیٹی کے نتائج کا نفاذ کرنا ہو گا۔ اس قانون کے تحت نشانہ بننے والی خاتون حکومت کی طرف سے مقرر کردہ صوبائی محتسب کو خود بھی شکایت جمع کروا سکتی ہیں۔

کیا ایسے بیانات عورت کو عورت کے خلاف کر دیتے ہیں؟

صباحت زکریا ’عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے` جیسی دقیانوسی روایات کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں۔ ان کا خیال ہے ’کچھ خواتین کی ذہنیت پدر شاہی ہوتی پر مبنی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ سمجھتی ہیں کہ پدر شاہی یا غیرجانبدارانہ نقطہ نظر کا اظہار کرنے سے مرد انھیں سنجیدگی سے لیں گے کیونکہ انڈسٹری میں ابھی تک مرد ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں تو اس صورت حال میں عورتوں کو باقی عورتوں کو بدنام کرنے کا یہ فائدہ ہو گا کہ وہ زیادہ متوازن نظر آئیں گی تاکہ مرد یہ کہیں کہ اس غیرجانبدار عورت کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ کچھ خواتین کے لیے یہ عورت یا مرد کے بجائے سچ یا جھوٹ کی جنگ ہو۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سلیبریٹیز کی طرف سے دیے گئے اس قسم کے بیانات مہم کو کمزور بنا دیتے ہیں۔ مہم کے ہائی جیک ہونے کے بارے میں ندا کرمانی کہتی ہیں کہ ’اس قسم کے بیانات بہت خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ خواتین کو حقوق دلانے کے لیے ہم پہلے سے ہی ایک دشوار جنگ لڑ رہے ہیں اور ایسی جاہلانہ باتیں ہمارے کام کو مزید مشکل بنا دیتی ہیں‘۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 7627 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp