طالبان اور امریکہ میں امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغان طالبان، زلمے خلیل زاد

Getty Images

افغانستان میں قیام امن کے لیے دوحا میں کئی روز سے جاری مذاکرات میں شریک طالبان ذرائع کے مطابق افغانستان میں عشروں سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے امن معاہدے کے ایک مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روائٹر نے افغان طالبان کے ذرائع سے خبر دی ہے کہ امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد اب امن کے اس مسودے کے بارے میں افغانستان کے صدر اشرف غنی کو بریفنگ دیں گے جس کے لیے وہ کابل روانہ ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق افغانستان میں قیام امن کے معاہدہ کے بارے میں مزید تفصیلات کچھ روز میں ایک مشترکہ بیان میں جاری کی جائیں گی۔

افغانستان کے انٹیلی جنس چیف معصوم ستانگزئی ایک وفد کے ہمراہ قطر پہنچ چکے ہیں۔

امریکہ کو پاکستان کی افغانستان میں دوبارہ ضرورت کیوں؟

طالبان کے مسلسل حملوں سے امن مذاکرات رک جائیں گے؟

افغان مذاکرات: دباؤ، حربے اور مفادات

ملا عبدالغنی برادر طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ مقرر

’پاکستان کا طالبان پر پہلے جیسا اثر و رسوخ نہیں رہا‘

ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے تحت غیر ملکی افواج ایک مقررہ مدت کے اندر افغانستان سے نکل جائیں گی، افغان طالبان کو بلیک لسٹ سے ہٹا لیا جائے گا جس سے ان پر لگی سے سفری پابندیاں ختم ہو جائیں گی اور قیدیوں کا تبادلہ بھی ہو گا۔

طالبان اس بات کی ضمانت دیں گے کہ افغانستان میں داعش یا القاعدہ جیسے دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا نہیں ہوں گی۔

افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان پچھلے کئی روز سے دوحا میں طالبان کے دفتر میں مزاکرات جاری تھے۔

دوحا مزاکرات میں امریکہ کی نمائندگی افغان امور کے مشیر خاص زلمے خلیل زاد کر رہےتھے۔ دوسری طرف طالبان کے سینیئر کمانڈر ملا عبدالغنی برادر ہیں جو کہ آٹھ سال پاکستان کی تحویل میں رہنے کے بعد گذشتہ اکتوبر میں رہا کیے گئے۔

طالبان اور امریکہ کے مابین براہ راست مذاکرات گذشتہ برس جولائی سے جاری تھے۔ ان مذاکرات میں کئی بار تعطل آیا لیکن یہ ختم نہیں ہوئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16635 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp