مزاح اورصنفی شناخت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زبان نا صرف ابلاغ کاایک اہم ذریعہ ہے‘ جو کہ معاشرے میں وقوع پذیرہونے والے عوامل کو بیان کرتاہے بلکہ اس کاتعلق سماجی حقیقتوں کی تشکیل اور اگلی نسلوں تک ان کی منتقلی سے بھی ہے‘ یوں زبان صرف بات چیت کا وسیلہ ہی نہیں‘ایک ایسا طاقتور ہتھیار بھی ہے جس کا براہ راست تعلق سیاست اور طاقت سے ہے۔

اگرہم زبان کوسماجی حقیقتوں کی تشکیل کے آلۂ کار کے طورپر دیکھیں تو یہ بحث خارج از امکان نہیںہے کہ کس طرح معاشرے کے طاقتور گروہ زبان کواپنے ذاتی مقاصدکے لیے استعمال کرتے ہیں۔ڈیل سپینڈر(Dale Spender) اپنی بنیادی کتاب Man Made Languageمیں اس بات کا دعویٰ کرتی ہے کہ جس طرح انسان معاشی عوامل کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں‘ ٹھیک اسی طرح سے زبان کابھی انسانی بقا پر گہرا اثرہوتاہے۔

مردوں کے معاشرے میں زبان بطور سماجی اثاثہ استعمال ہوتی رہی ‘ہے جس میں مرداپنے لئے انتہائی خوبصورت لفظ استعمال کرتے ہیں اور عورتوں کے لیے ایسے الفاظ کااستعمال کیاجاتا ہے جن سے وہ کمتراورادنیٰ نظر آئیں ۔ نتیجتاً معاشرے کے طاقتورگروہ زبان کوایسے استعمال کرتے رہے ہیں جس سے ان کی برتری کاواضح اظہار ہواوران کے زیرنگین کمتر نظرآئیں۔

معاشرے کے طاقتور لوگ تسلسل سے اپنے اور دوسروں(Others)کے درمیان ایک حدِفاصل قائم کرتے رہے ہیں تاکہ ان دونوں گروہوں کے درمیان نمایاں فرق برقرار رہے۔ اس ساری مشق کاواحدمقصد یہی تھاکہ معاشرے کے محروم طبقے کوطاقت کے مرکز اوربنیاد سے دوری پررکھاجائے جس سے اس محروم طبقے کی معاشرتی حیثیت پست رہے۔

لفظوں میں بھی یہ تفریق اچھے /برے ‘اعلیٰ /ادنیٰ ‘عام /خاص اورمعیاری/ غیرمعیاری جیسے الفاظ میں نمایاں نظرآتی ہے۔ اس صورتحال میں مرد جوکہ طاقتور گروہ سے تعلق رکھتاہے اپنے آپ کوایک معیار((Standard کے طورپر پیش کرتاہے اورمحروم طبقہ جیسے عورت کوکم تراور معمولی کہتاہے۔

زبان کی مددسے عجیب اوربھونڈے قسم کے تصورات کوسماجی مراتب دیئے جاتے ہیں یہ تصورات معاشرے کے محروم طبقات کوادنیٰ بیان کرتے ہیں۔ ان تصورات کی مددسے مردکو اعلیٰ اورعورت کوادنیٰ بیان کیاجاتاہے ان کی مددسے عورت کی شناخت کومسخ کرکے مردکواعلیٰ ترپیش کیاجاتا ہے۔

یوں ناموں(Naming (کی سیاست کی وجہ سے معاشرے کے محروم طبقات کومرکزی دھارے سے خارج کردیاجاتا ہے۔ مرد کی یہ برتری اورحاکمیت مختلف سماجی اداروں کی مددسے تسلسل سے برقرار رکھی جاتی ہے۔

ان سماجی اداروں میں خاندان‘ تعلیم اورمیڈیا اپنا کرداراداکرتے نظرآتے ہیں۔مرد کی یہ روایتی برتری انتہائی واضح انداز میں مختلف ذرائع کی مددسے برقرار رکھی جاتی ہے۔ ان ذرائع میں گانے‘ لطائف‘ کاروباری اشتہارات‘ شادی سے متعلق اشتہارات‘ حکایتیں‘ خیالی کہانیاں‘ نرسری کی نظمیں‘ ٹی وی ڈرامے‘ فلمیں اورحتیٰ کہ ادب تک شامل ہیں۔

اپنی برتری برقراررکھنے کاایک اہم ذریعہ اردو کی مزاحیہ شاعری بھی ہے۔ اسی طرح مشاعرے بھی برصغیر کی ادبی روایات کاحصہ ہیں۔ یہ اس علاقے میںمقبول عام ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ برصغیر کاعلاقہ کہانی گوئی کے لیے مشہور ہے اوریہاں زبانی کہانیاں مشہور رہی ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے ایسی ادبی محافل بھی دیکھیں جن میں صرف مزاحیہ مشاعرے ہی تھے۔اسی طرح کے مشاعروں کی ٹیلی ویژن پربھرمار ہے‘ جس کی وجہ سے ان کے سامعین کی تعداد میں بھی خاصا اضافہ ہواہے۔ میڈیا جب سے ایک اہم معاشرتی ادارے کے طورپر ظہورپذیرہواہے تواس طرح کے سٹریوٹائپس (Stereotypes)کی خاصی تشہیر ہوئی ہے اور یہ سارے سٹریوٹائپس لوگوں کے ا ذہان پرحقیقی زندگی میں خاصی حدتک اثرانداز ہوئے ہیں۔

اس طرح کے مشاعرے میںجدید ٹیکنالوجی کے آلات جیسے کمپیوٹر لیپ ٹاپ‘ آئی پیڈزاورموبائل وغیرہ استعمال کرکے یوٹیوب اوردیگرسماجی ویب سائٹس پر باآسانی دیکھ جاسکتے ہیں۔

عورتوں کے حوالے سے جانب دارانہ رویے کی سیاست کی گتھی سلجھانے سے پہلے ہمیں اپنی زندگیوں میںمزاح کی اہمیت اورکردار کوبخوبی سمجھناچاہیے۔ مزاح سے ہماری زندگیوں میں خوشی بھرے لمحات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔مزاح کے بغیر شایدہماری زندگی بے رنگ وبے کیف ہو۔مزاح کی درجہ بندی ہم دواقسام میں کرسکتے ہیں۔

مزاح کی تشکیل یاتومثبت اندازمیں ہوسکتی ہے‘ جس میں کسی کی دل آزاری نہ ہو یاپھرکسی پرطنزکرکے مزاح کیاجاسکتاہے۔ مزاح کی دوسری قسم کامطالعہ کرنااورسمجھنا بہت ضروری ہے اوراس کے ساتھ ساتھ اس کاسدباب بھی ضروری ہے۔ مزاح کاایک اہم ترین ذریعہ بے اصولی ہے یعنی ایسی بات جو معاملات سے ہٹ کر ہو۔

آئیں ذرا اُردو میں اس مزاحیہ شاعری پر ایک نظرڈالیں‘ جس کا مقصد دوسروں کی تضحیک اوردل آزاری ہے۔ یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ عورتوں کے متعلق کئی غیرحقیقت پسندانہ قسم کی توقعات جوڑلی جاتی ہیں۔آئیں ذرا اس قسم کی غیرحقیقی امیدوںکا سرسری ساجائزہ لیں۔

ایک مشترکہ معاشرتی توقع یہ بھی ہے کہ عورت کوخوبصورت ہوناچاہیے۔ گوری رنگت خوبصورتی کاایک اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔ اس طرح کالی رنگت کامزاحیہ شاعری میںبہت بھونڈے انداز میںمذاق اڑایاجاتاہے۔ ایک اور امیدیہ رکھی جاتی ہے کہ لڑکی سروقد ہو اوراس توقع کی بنیادایک احمقانہ مفروضے پرہے کہ انسان کا اپنے قدپر خوداختیارہے۔

مزاحیہ مشاعروں میںچھوٹے قدکی عورت کابھرپورمذاق اڑایاجاتاہے۔ ایک اورتوقع یہ رکھی جاتی ہے کہ عورت دبلی پتلی ہو۔ اس تلخ معاشرتی حقیقت کاعورتوں پربہت بڑااثر پڑتاہے اوروہ خودکو سمارٹ بنانے کے چکر میںغذا کے ایسے منصوبوں پرعمل کرنے لگتی ہیں جس سے ان کی صحت پرمنفی اثرات پڑتے ہیں۔ اسی طرح مشاعروں میں عورت کاوزن بھی مزاح کی ایک بڑی وجہ بن جاتاہے۔ ایک اورخیالی حقیقت یہ بھی ہوتی ہے کہ عورت کوہرپل جوان نظرآناچاہیے۔

اس کانتیجہ یہ نکلتاہے کہ خواتین اپنی عمر کے حوالے سے بہت محتاط ہوجاتی ہیں اورکسی سے بھی اس کا اظہار نہیں کرتیں یااسے چھپانے کی کوشش کرتی ہیں۔اس طرح عورت کوعمرچھپانے والی عادت بھی مزاح کااہم عنوان بن جاتی ہے۔

جب بھی عورت کے متعلق کوئی بات ہوتو مزاحیہ مشاعروں میں تمام بیویوں کوکاہل‘ بدنما‘ بے کیف اوربدمزاج کردارکے طورپر پیش کیا جاتاہے۔ عورتوں کے متعلق اس طرح کی منفی باتوں کی مردوں کی برتری والا معاشرہ (Patriarcha) نموکرتاہے اورمعاشرے میں ان منفی اصطلاحات کااس قدراستعمال ہوتاہے کہ وہ عام روٹین (Routine )کی باتیں لگنے لگتی ہیں۔

اس طرح کے سٹریوٹائپس کی کوئی سائنسی بنیادیں نہیں۔ اس میں عورتوں کو باتونی‘ بخیل‘ حاسداور ‘ کم عقل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔یوں عورتوں کی معاشرتی اداروں کے ذریعے ایک اور منفی سٹیریوٹائپ جو مزاح کی بنیاد بنائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ خواتین خصوصاً بیویاں اکتاہٹ کاباعث بنتی ہیں۔

جب اس طرح کے منفی استعارات کازیادہ استعمال کیاجاتاہے اورخصوصاً جب معاشرتی ادارے((Social Institutions اس کی تصدیق کرتے ہیں تو بہت سی خواتین حقیقت میں ایساہی سمجھنے لگتی ہیں‘نتیجتاً زبان مبہم اورپراسرار اندازمیں معاشرتی شناختوں کی تشکیل کرتی نظرآتی ہے۔

اس سارے عمل کے نتیجے میں عورتوں کی (spontaneous consent ) نظرآتی ہے‘ جبکہ ان سارے مشاعروں میںمرداپنے آپ کو معصوم اورسادہ پیش کرتے نظرآتے ہیں‘جن کی آزادی ان کی اکتا دینے والی بیویوں کی وجہ سے مجروح ہوکر رہ گئی ہے۔

ان سارے منفی امتیازات سے نبرد آزما ہونے کے لیے تمام معاشرتی اداروں خصوصاً خاندان‘ تعلیمی اداروں اورمیڈیا کوبھرپور کردارادا کرناچاہیے اور ایسے مزاح کی حوصلہ افزائی سے گریز کرنا چاہیے جس کی بنیاد دوسروں کی دل آزاری پر رکھی گئی ہو۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: shahidksi[email protected]

shahid-siddiqui has 98 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui