پاکپتن دربار اراضی کا مقدمہ: بابا رحمتے کے انصاف کا زریں نمونہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ون مین آرمی کی اصطلاح تو آپ نے سنی ہو گی لیکن یہ کہانی ہے ایک منفرد ون مین ٹیم کی جو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بہت سارے کمالات میں سے ایک ہے۔

کون کہتا ہے لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس ثاقب نثار کو بھول جائیں گے۔ پاکستان کے عدالتی نظام کو فاسٹ ٹریک پر لانے والے سابق جج کے عدالتی کنڈکٹ پر کئی قانونی ماہرین برملا اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں تو دوسری جانب قانون پر انکی پکڑ سے ناقدین بھی انکار نہیں کر سکتے البتہ یہ بھی سچ ہے کہ بطور ایک جج کے جسٹس ثاقب نثار انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو جواز بنا کر قانون کو نظر انداز کرنے سے بھی نہیں گھبراتے تھے۔ ایسا ہی کچھ میاں نواز شریف سے جڑے ایک مقدمے میں ہوا، جب منصف اعلیٰ نے ایک تین رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔

بہت سے لوگ اس حقیقت سے لاعلم ہیں کہ دراصل اس جے آئی ٹی میں سوائے ایک شخص کے دوسرا کوئی رکن تھا ہی نہیں۔ جے آئی ٹی مخفف ہے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا جس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم یقینی طور پر ایک سے زائد افراد پر ہی مشتمل ہو سکتی ہے۔

مقدمہ تھا پاکپتن دربار سے ملحقہ اراضی کا جس میں مبینہ طور پر نواز شریف نے بطور وزیر اعلی پنجاب 1985 میں غیر قانونی طور پر محکمہ اوقاف کا ایک نوٹیفکیشن واپس لینے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے نواز شریف کی رضا مندی پر معاملے کی مزید تحقیقات کے لئے سربراہ نیکٹا خالق داد لک کی سربراہی میں تین رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہونے والی سماعت میں خالق داد لک نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر جے آئی ٹی کا حصہ بننے سے معذرت کر لی۔ چیف جسٹس نے معذرت قبول کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب حسین اصغر کو جے آئی ٹی کا نیا سربراہ نامزد کر دیا۔ عدالتی حکم نامے کے مطابق جے آئی ٹی کے دیگر دو ارکان کا تعلق آئی ایس آئی (انٹر سروسز انٹیلیجنس) اور آئی بی (انٹیلیجنس بیورو) سے ہو گا، جن کے نام آج تک منظر عام پر نہیں آ سکے۔

عدالت نے حسین اصغر کو دس دن کے اندر جے آئی ٹی کے ضابطہ کار (ٹی او آرز) سپریم کورٹ میں جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس ثاقب نثار نے کسی بھی صورت میں تاخیر کے پیش نظر اس وقت کمرہ عدالت میں موجود اپنے سٹاف کو تنبیہہ کی کہ ٹھیک دس دن کے بعد مقدمے کو سماعت کے لئے مقرر کیا جائے تا کہ مزید تاخیر نا ہو۔ دس روز کے بعد مقدمے میں ایک وکیل افتخار گیلانی کی جانب سے التواء کی درخواست پر سماعت کو غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سماعت کے موقع پر جے آئی ٹی کی جانب سے کوئی شخص عدالت میں پیش ہی نہیں ہوا اور نا ہی عدالت نے ان کی عدم موجودگی کا کوئی نوٹس لیا۔

بہر حال کچھ روز گزرنے کے بعد سربراہ جے آئی ٹی کی جانب سے تیار کیے گئے ٹی او آرز سپریم کورٹ میں جمع کروا دیے جاتے ہیں اور مقدمہ ایک بار پھر سماعت کے لئے مقرر کر دیا جاتا ہے۔ ممکنہ طور پر اس دن جے آئی ٹی سربراہ کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹی او آرز زیر غور آنا تھے لیکن ہوا اس کے برعکس۔ جے آئی ٹی سربراہ حسین اصغر نے جے آئی ٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کا سن کر روز مرہ کی عدالتی کارروائی پر گہری نظر رکھنے والے صحافی جہاں حیران ہوئے وہیں یہ انکشاف نواز شریف کے وکلاء کے لیے بھی ایک جھٹکے سے کم نہیں تھا۔

حسین اصغر نے جے آئی ٹی رپورٹ کا وہ حصہ پڑھ کر سنایا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ زمین کی غیر قانونی منتقلی میں نواز شریف کا کردار تھا، جس پر چیف جسٹس کی جانب سے حسب معمول برجستہ ریمارکس بھی دیے گئے۔ چیف جسٹس نے نواز شریف کے وکیل کو شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار نہ بننے کی تلقین کرتے ہوئے جے آئی ٹی رپورٹ پر نواز شریف سے جواب طلب کر لیا اور سماعت ملتوی کر دی۔

سابق وزیراعظم کے وکیل سے جب جے آئی ٹی رپورٹ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ بیرسٹر منور اقبال دوگل نے بتایا کہ انہیں آگاہ ہی نہیں کیا گیا کہ جے آئی ٹی کے ٹی او آرز کیا ہوں گے اور نہ رپورٹ پیش کیے جانے سے متعلق بتایا گیا۔ وکیل کے مطابق انکی سمجھ کے مطابق آخری سماعت پر ٹی او آرز جمع کروائے جانے تھے تاہم اچانک جے آئی ٹی رپورٹ کا منظر عام پر آ جانا ان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ زمین منتقلی میں نواز شریف کا کردار جانچنے کے لئے تشکیل دی گئی اس جے آئی ٹی ٹی نے نواز شریف کو نوٹس تک نہیں بھجوایا اور نہ ہی کوئی سوالنامہ سابق وزیر اعلیٰ کے وکیل کو دیا گیا۔

کیا چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے قبل مقدمہ نمٹانا چاہتے تھے؟

 سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ایسی کیا وجہ تھی جس کے باعث قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔ ایسے کیا خدشات تھے کہ نواز شریف کے وکلاء سے بھی عدالتی کارروائی کو خفیہ رکھا گیا۔ سات صفحات پر مشتمل جے آئی ٹی رپورٹ پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جے آئی ٹی رپورٹ کسی تحقیقاتی ٹیم نے نہیں بلکہ صرف ایک شخص نے تیار کی ہے جس کا نام حسین اصغر ہے اور جس کے واحد دستخط رپورٹ کے آخری صفحے پر موجود ہیں.

ایک سے زیادہ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے جے آئی ٹی کا کردار محدود کر کے صرف حسین اصغر کو رپورٹ جلد جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔ اگر ایسا کچھ ہوا بھی ہے تو اس کو خفیہ کیونکر رکھا گیا؟ اگر محض عدالتی ریکارڈ کو مد نظر رکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے چیف جسٹس نے اس مقدمے سے جڑے کئی اہم فیصلے کھلی عدالت میں نہیں کیے۔ یاد رہے یہ وہی مقدمہ ہے جس میں نواز شریف ثاقب نثار کے سامنے ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے تھے۔ نواز شریف نے عدالت کے پوچھنے پر ازراہِ تفنن جے آئی ٹی تشکیل نہ دینے کی بات کہی تھی اور چیف جسٹس نے بھی نواز شریف کی حس مزاح کو خواب سراہا تھا۔

اگر جے آئی ٹی کے مندرجات پر نظر دوڑائی جائے تو کئی مزید سوالات بھی جنم لیتے ہیں ۔ رپورٹ میں ایک جگہ نواز شریف کے بطور وزیر اعلیٰ سیکرٹری رہنے والے سید جاوید حسین بخاری کے تحریری بیان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ بیان 7 جنوری کو دیا گیا تھا، دلچسب بات یہ ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کے ساتھ اس بیان کا کوئی اینیکسچر نہیں لگایا گیا جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ یہ بیان دراصل دیا کس کو گیا تھا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق جے آئی ٹی نے 8 جنوری تک ٹی او آرز عدالت میں جمع کروانا تھے۔ اگر سابق وزیر اعلیٰ کے سیکرٹری نے بیان جے آئی ٹی کو دیا ہے تو سوال اٹھتا ہے، کیسے؟ تحقیقاتی ٹیم ٹی او آرز تیار ہونے سے پہلے کیسے کام کر سکتی تھی؟

رپورٹ کے اختتامی صفحے پر ایک جگہ لکھا گیا ہے کہ “میں نے معاملے کی مزید تحقیقات کے لئے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے افسران پر مشتمل ٹیم کو حکم دیا ” دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی صفحے پر جے آئی ٹی سربراہ حسین اصغر کے دستخط تو موجود ہیں لیکن دیگر دو ممبران کا دور دور تک کوئی ذکر ہی نہیں ہے ۔ اس بات سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کسی تحقیقاتی ٹیم کا نہیں بلکہ ایک ہی شخص کا کارنامہ ہے۔ اس حوالے سے جب نواز شریف کے وکلا سے جاننے کی کوشش کی گئی تو بیک وقت لاعلمی اور حیرت کا اظہار دیکھنے کو ملا ۔

اس صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ کیونکر ایسے ہائی پروفائل کیس کو متنازع ہونے سے روکا نہیں گیا۔ سابق چیف جسٹس کی جانب سے کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف کے خلاف اپنی ریٹائرمنٹ سے دو روز قبل فیصلہ سنانا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ اگر مقصود انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہی تھا تو شارٹ کٹ اختیار کر کے پورے کیس کو متنازع کرنے کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •