ولی عہد کا دورہ پاکستان ۔۔چین اور ایران کیا سوچ رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 168
  •  

ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایران اور چین کیا سوچ رہے ہیں۔یہ محض ایک سوال نہیں ،یہ ایک پوری فکری واردات ہے جو پاکستان پر مسلط کر دی گئی ہے۔پہلے اس واردات پر بات کر لیتے ہیں ، اس کے بعد سوال کی معنویت پر غورکر لیں گے۔

پاکستان میں اہل دانش کا ایک ایسا فعال اور مضبوط حلقہ وجود میں آ چکا ہے جس کے فکری شجرہ نسب میں کوئی این جی او یا کوئی غیر ملکی ادارہ ضرور آتا ہے۔یہ طبقہ پاکستان کے معاملات کو پاکستان کی آنکھ سے نہیں دیکھتا۔یہ اپنے ڈونرز کی آنکھ سے دیکھتا ہے اورڈونر کے ذہن سے سوچتا ہے۔

ریاست نے چونکہ علم و تحقیق کی حوصلہ افزائی نہیں کی ، سماج رسومات پر تو پانی کی طرح پیسے بہانے کو تیار ہوتا ہے لیکن علم و فکر کی دنیا میں چند روپے خرچ کرنا بھی گوارا نہیں کرتا اور اہل مذہب میں آج بھی شعلہ بیاں خطیب ہونا باعث فضیلت سمجھا جاتا ہے اس لیے عمومی ماحول ہی غیر منطقی اور جذباتی ہے۔

مغرب کی فکری اور مالی سرپرستی میں کام کرنے والے اداروں کو گویا میدان خالی ملا ، ان کا بیانیہ بھی غیر جذباتی ہے اسلوب بھی بہتر۔ امر واقع ہے کہ نئی نسل ان کی طرف متوجہ ہوئی ہے۔ ریاست نے دہشت گردی کو مخاطب بناتے ہوئے مدارس کو ملنے والی رقوم پر تو گرفت کی مگر وہ فکری دہشت گردی کو ابھی تک سمجھ نہیں پا رہی اور این جی اوز کو ملنے والی رقوم اور ان کی شان نزول کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی اس لیے یہ واردات کامیابی سے جاری ہے۔

قوم کی نفسیات ان کے نشانے پر ہے۔یہ اس قوم کو ملامتی صوفی بنانا چاہتے ہیں۔ان کے ہاں گویا اجماع ہے کہ ہر خوبی غیروں میں ہے اور تمام خامیاں پاکستان میں ہیں۔بھارت افغانستان میں مداخلت کرے تو یہ اس کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے اور پاکستان وہاں اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہے تو یہ مداخلت ہے۔

عرب دنیا سے بھارت کے تعلقات بنیں تو یہ بھارتی فیصلہ سازی کا کمال ہے اور عرب دنیا پاکستان کے قریب آئے تو یہ پیسوں کے عوض حمیت فروخت کرنے کے مترادف ہے۔پاکستان سی پیک پر کام کرے تو یہ شور مچاتے ہیں کہ پاکستان تو چین کی کالونی بننے جا رہا ہے اور سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے آئے تو یہ چیخنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ سرمایہ کاری چین اور سی پیک کے خلاف سازش ہے۔

پاکستان عافیہ صدیقی کی بات کرے تو یہ کہیں گے تمہیں کیا تکلیف ہے وہ تو امریکی شہری ہے لیکن اشرف غنی پاکستان کے معاملات میں ٹویٹ کرے تو یہ انسان دوستی ہے۔پاکستان آئی ایم ایف کی سخت شرائط سے بچنے کے لیے دوست ممالک سے رجوع کرے تو یہ شور مچا دیتے ہیں کہ آئی ایم ایف بہتر تھا چین تو آپ کو کھا جائے گا۔اور پاکستان آئی ایم ایف سے رجوع کرے تو یہ طعنہ زن ہو جاتے ہیں کہ بھیک لے لی۔

سفارتی محاذ پر جمود ہو تو یہ طعنہ دیں گے کہ پاکستان تنہا ہو گیا اور دوست ممالک قریب آ رہے ہوں تو یہ پریشان ہو جائیں گے کہ کیا کھچڑی پک رہی ہے۔مغرب اور بھارت اپنے مفاد کی تکمیل کے لیے جو مرضی کر گزریں یہ زمینی حقائق کے مطابق ان کی حکمت عملی قرار پائے گی لیکن پاکستان کچھ کرے گا تو اسے ابن الوقتی کے باب میں لکھا جائے گا۔

اسی واردات کا تازہ ظہور اس سوال میں ہوا ہے کہ سعودی ولی عہد تو آ رہے ہیں لیکن چین اور ایران کیا سوچ رہے ہیں۔ مت بھولیے کہ جب چین کے ساتھ سی پیک ہو رہا تھا تو یہ احباب منہ میں انگلی داب کر قوم کو ڈراتے ہوئے کہہ رہے تھے کیا تمہیں معلوم ہے امریکہ کیا سوچ رہا ہے۔دوست ممالک کے جائز مفادات کے خلاف کوئی کام نہیں کرنا چاہیے اور پاکستان ایک سے زیادہ مرتبہ اعلانیہ کہہ چکا کہ سعودی عرب سے دوستی کا مطلب ایران دشمنی نہیں۔

پاکستان ایران اور سعودی عرب دونوں کا دوست ہے۔ہمارا وزیر اعظم آرمی چیف کو ساتھ لے کر سعودیہ جاتا ہے اور پھر ایران۔ آج بھی وزیر خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان یمن تنازعہ میں نہیں جھونکا جا رہا۔اب کیا نیک چلنی کے سرٹیفکیٹ کے لیے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کیا جائے؟

ہر ملک اپنے مفاد میں کام کرتا ہے۔ایران نے چاہ بہار میں جب بھارت کو لا بٹھایا تو کیا ایران کے کسی ایک اخبار یا ٹی وی میں کسی ایک دانشور نے بھی یہ دہائی دی کہ پاکستان کیا سوچ رہا ہے؟کبھی آپ نے اس پر غور فرمایا کہ یہ کام صرف پاکستان میں کیوں ہوتا ہے کہ ہم فلاں ملک کے قریب ہوئے تو فلاں ملک کیا سوچے گا ؟

اب آئیے چین کی طرف ۔سوال یہ ہے کہ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری سے چین کیوں ناراض ہو گا؟ کیا ہم کبھی اس بات پر خفا ہوئے کہ چین اور بھارت کا تجارتی حجم 90 بلین ڈالر کے قریب کیوں پہنچ چکا ہے؟یاد رہے کہ چین کے ساتھ ہمارا تجارتی حجم تو ابھی کہیں 21 بلین ڈالر ہے۔کبھی ہم نے شکوہ کیا کہ تاراپور ایٹمی ری ایکٹر کو چین سے ایندھن کیوں فراہم کیا جاتا ہے؟

بعض حضرات دور کی کوڑی لا رہے ہیں کہ سعودی عرب اور امریکہ میں بہت قربت ہے اس لیے چین پاکستان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری سے پریشان ہو گا۔ تو کیا چین کو یہ معلوم نہیں کہ پاکستان کے امریکہ سے کیسے تعلقات رہے ہیں اور اس وقت ان کی نوعیت کیا ہے؟کیا ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ خود چین کے امریکہ سے تعلقات کیسے ہیں؟

کیا ہمیں معلوم ہے امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر چین ہے اور امریکہ اور چین میں باہمی تجارت کا حجم 700 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے؟ سعودی عرب سی پیک کے لیے خطرہ کیسے بن سکتا ہے جب کہ اس کے چین کے ساتھ مثالی تعلقات قائم ہو چکے۔ مغربی ایشیا میں چین کا سب سے بڑا کاروباری حلیف سعودی عرب ہے۔چین ہر روز سعودی عرب سے 16 لاکھ بیرل پٹرولیم مصنوعات خرید رہا ہے۔

ربع الخالی میں گیس نکالنے کے ٹھیکے سعودی عرب نے چین کو دے رکھے ہیں۔پیٹرو یو آن کی باتیں ہو رہی ہیں۔سعودی عرب چین کے مفادات کے لیے خطرہ کیوں بنے گا؟بن سیمفن ڈورفر کی کتاب The New Silk Road کا مطالعہ کیجیے معلوم ہو جائے گا سعودی عرب اور چین کے باہمی مفادات کی نوعیت کیا سے کیا ہو چکی ہے۔

معاشی ماہرین یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ سعودی ولی عہد کا ویژن 2030 ء اور چین کا ون بیلٹ ون روڈ ایک دوسرے کے فطری حلیف تصورات ہیں۔ پاکستان میں یہ دو حلیف تصورات عملی طور پر بروئے کار آتے نظر آ رہے ہیں تو اس میں حیرت کیسی؟ ففتھ جنریشن وار کے جنگجوئوں کی تکلیف البتہ الگ ہے اور قابل فہم ہے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 168
  •