تحریک انصاف وزیر اعظم کی عزت کروانا چاہتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 286
  •  

پاپولزم اور فسطائیت میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جمہوریت کے لیے ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ ان دونوں میں فراق کیسے ہو؟

خبر ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف نفرت آمیز تقریر پر چار افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ ایک مدت کے بعد اس نوعیت کی خبر پڑھنے کو ملی۔ ورنہ ہم تو بھول چکے تھے کہ صدر یا وزیر اعظم کی توہین بھی کوئی جرم ہے۔ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو، صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف وہ وہ کچھ سننے کو ملا کہ شرفا کی مجلس میں دھرایا نہیں جا سکتا تھا۔ سیاسی جلسوں سے لے کر ٹی وی سکرینوں تک، حسبِ توفیق لوگ ان مناصب کی عزت افزائی کرتے رہے۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی اس پر قانون حرکت میں آیا ہو۔

کم از کم 2008ء کے بعد سے تو کسی کو خیال ہی نہیں رہا کہ منتخب وزیر اعظم یا صدر کو برا بھلا کہنا قانون کا کوئی مسئلہ ہے۔ جس کا جب جی چاہے پگڑی اچھال دے۔ اب یہ خبر پڑھی اور سنی تو آنکھوں اور کانوں کو اجنبی لگی۔ آنکھیں ملتے ہوئے، اسے دوبارہ پڑا۔ جب یہ دیکھا کہ کون کہہ رہا ہے تو مزید حیرت ہوئی۔ معلوم ہوا کہ تبدیلی آ گئی ہے۔ میں اب اس تبدیلی کو سمجھنے کی کوشش میں ہوں۔

عمران خان صاحب اور ان کی جماعت نے ایک منتخب وزیر اعظم کی جو درگت بنائی، اس کی یاد ابھی لوگوں کی ذہنوں سے محو نہیں ہوئی۔ زبانِ حال اور زبانِ قال سے یہ بتایا گیا کہ وزیر اعظم کوئی لائقِ تعظیم منصب نہیں ہے۔ اب، جب خان صاحب کسی کی مہربانی سے اس منصب تک پہنچ گئے تو ان کی جماعت کو یہ یاد آیا کہ اس منصب کی بھی کوئی توقیر ہوتی ہے۔ اگر کوئی اس کا لحاظ نہ رکھے تو اسے گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس تضاد کی کیا کوئی توجیہہ ممکن ہے؟

میرے نزدیک دو توجیہات ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ ہم سے پہلے غلطی ہوئی۔ ایک منتخب وزیر اعظم کے بارے میں وہ لب و لہجہ مناسب نہیں تھا جو اختیار کیا گیا۔ ہم اس رویے پر نادم ہیں۔ آئیے، اب ایک نئے دور کا آغاز کرتے ہیں۔ آج کے بعد اس منصب کی توقیر ہو گی۔ دوسری توجیہہ یہ ہے کہ عزت فرد کی ہوتی ہے، منصب کی نہیں۔ اگر کسی کی نظر میں کوئی نا اہل آدمی کسی منصب پر فائز ہو جائے تو اس پر ایسے آدمی کی تعظیم واجب نہیں ہے۔

پہلی توجیہہ تو قابلِ قبول نہیں۔ اس کی کوئی شہادت نہیں کہ تحریکِ انصاف نے اپنے ماضی کے کسی فعل سے اعلانِ برات کیا ہو۔ عملی مثالیں تو بکثرت ہیں مگر شعوری مثال کوئی ایک بھی نہیں۔ وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کے بارے میں، وہ جو کچھ کہتے رہے ہیں، وہ کبھی اس پر نادم نہیں ہوئے۔ اب صرف دوسری توجیہہ کا امکان باقی ہے۔ اس کو اگر قبول کر لیا جائے تو دنیا میں کوئی سماجی نظم قائم ہو سکتا ہے نہ سیاسی۔ اگر لوگ ٹریفک پولیس کے ایک سپاہی کو کرپٹ قرار دے کر اس کی بات نہ مانیں تو ملک میں انارکی پھیل جائے۔ پھر باپ کا منصب باقی رہے نہ حاکمِ وقت کا۔

تحریکِ انصاف کے اس تضاد سے صرفِ نظر کرتے ہوئے، اس سوال پر معروضی طور پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک معاشرے میں توقیر منصب کی ہوتی ہے یا فرد کی؟ قانون کی نظر میں تو منصب لائقِ تعظیم ہے۔ ہمارے لیے ایک نا پسندیدہ شخص، اگر کسی منصب پر بٹھا دیا جائے تو اس کی تکریم کی جائے گی؛ تاہم یہ اخلاقی نوعیت کا سوال ہے کہ کسی منصب پر فائز کوئی شخص اگر اپنے فرائضِ منصبی دیانت داری سے ادا نہ کرے تو کیا پھر بھی اس کا احترام اور اطاعت لازم ہے؟ اس کے ساتھ ایک اور سوال جڑا ہوا ہے؟ ایک جمہوری معاشرے میں، اگر منتخب وزیر اعظم تنقید سے بالا تر نہیں تو پھر اس تنقید کی حدود کیا ہیں؟

اس میں شبہ نہیں کہ توقیر منصب کی ہوتی ہے؛ تاہم ایک جمہوری معاشرہ اربابِ اقتدار کے بارے میں ایک متوازن رویہ پیدا کرتا ہے۔ ایک طرف وہ حکمران کو خادم سمجھتا ہے، اوتار نہیں۔ جہاں سیاسی نظم کی بقا کے لیے، وہ اس کے احترام کو ضروری قرار دیتا ہے‘ وہاں عوام کا یہ حق کسی صورت میں ختم نہیں ہوتا کہ وہ سرِ عام ان کا احتساب کر سکتے ہیں اور سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ہماری اپنی تاریخ میں اس متوازن رویے کے بہت سے شواہد موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو صاحب پر نواب زادہ نصراللہ خان کی تنقید یا ایوب خان پر مولانا مودودی کی تنقید۔ انہوں نے اپنا حقِ تنقید استعمال کیا لیکن منصب کا احترام بھی برقرار رکھا۔ آج اسی رویے کے احیا کی ضرورت ہے؛ تاہم میں اس وقت ایک دوسرے خطرناک رجحان کو ابھرتا دیکھ رہا ہوں۔

یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ہم ایک بند معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اب تقدس کا دائرہ پھیل رہا ہے۔ آج یہ کسی ایک گائے تک محدود نہیں رہا۔ اب وزیر اعظم کو بھی تقدس کا لبادہ پہنا کر آزادیٔ رائے کے دائرے کو مزید تنگ کیا جا رہا ہے۔ اس کے پیچھے کسی منصب کے احترام کا خیال نہیں، محسوس یہ ہوتا ہے کہ ایک فسطائی سوچ کارفرما ہے۔ پاکستان میں بہت تیزی کے ساتھ آزادیٔ رائے کا دائرہ سکڑ رہا ہے۔

غیر سیاسی قوتوں کی طرف سے جب ایسا قدم اٹھایا جاتا ہے تو اس لحاظ سے قابلِ فہم ہوتا ہے کہ جمہوری اقدار کی تعلیم ان کے نظامِ تربیت کا حصہ نہیں ہوتی۔ انہیں اس بات سے آگاہی نہیں ہوتی کہ آزادیٔ رائے کے بغیر جمہوریت کا تصور ممکن نہیں۔ وہ معاملات کو عوام کی نظر سے نہیں، ریاست کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ ایک سیاسی حکومت اگر فسطائی ہونے لگے تو اس پر ضرور تشویش کا اظہار کرنا چاہیے۔

پاپولزم اور فسطائیت کا باہمی رشتہ بہت گہرا ہے۔ پاپولزم کا انجام مطلق العنانیت ہے۔ پاپولزم میں عوام کا لیڈر سے رشتہ شعوری اورعقلی نہیں، رومانوی ہوتا ہے۔ اس سے لیڈر میں عقلِ کل ہونے کا احساس پختہ ہوتا ہے اور اسی سے قومیں، خود فریبی کا شکار قیادت کے ہاتھوں بند گلی میں جا نکلتی ہیں۔ جو ان کا راستہ روکنا چاہتا ہے، اسے قوم دشمن سمجھا جاتا ہے۔ ہٹلر کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو اس بات کا کریڈیٹ ضرور ملنا چاہیے کہ ان کے ادوارِ حکومت میں سیاسی بنیاد پر مقدمات اور گرفتاریوں کا تصور ختم ہو گیا تھا۔ صدر زرداری نے بطور صدر، جس خندہ پیشانی سے تنقید کو برداشت کیا، اس سے جمہوریت کا سفر آگے بڑھا۔ پچھلے دس برس میں ہمیں کسی سیاسی قیدی کا سراغ نہیں ملتا۔ اب یہ سیاسی روایت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

حکمرانوں پر تنقید، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شائستگی کے ساتھ ہونی چاہیے‘ لیکن کوئی حد سے تجاوز کرے تو حکیمانہ طرزِ عمل یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اگر یہ تنقید بے جا ہو گی تو عوام اسے مسترد کر دیں گے۔ زرداری صاحب کے بے رحم ناقدین، ان کے دورِ صدارت کا ایک دن کم نہیں کر سکے۔ صبر سے حکومتوں کا وقار بڑھتا ہے اور بے صبری سی مشکلات۔

جمہوری روایات کے باب میں تحریکِ انصاف کی حکومت میں وہ حساسیت دکھائی نہیں دیتی جو سابق ادوار میں پائی جاتی تھی۔ نواز شریف صاحب نے وزیر اعظم گیلانی کے خلاف کالا کوٹ پہنا مگر پھر اس پر اظہارِ ندامت بھی کیا۔ مخالفین کے لیے موجودہ حکومت کی عدم برداشت جمہوری روایات کے لیے چیلنج بن جائے گی اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ اس اندازِ نظر کی قیادت عمران خان صاحب کے پاس ہے۔ یوں حکومت کے رویے میں کسی جوہری تبدیلی کا امکان بہت کم ہے۔ اگر وہ خوش دلی سے شہباز شریف صاحب کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ مان لیتے تو اس سے جمہوری روایت کو تقویت ملتی اور نتیجتاً حکومت زیادہ مضبوط ہوتی۔

قوم کو اگر آگے بڑھنا ہے تو پھر زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھنا ہو گا۔ بھٹو صاحب ایک عوامی لیڈر تھے مگر ان کی فسطائیت نے انہیں نقصان پہنچایا اور جمہوریت کو بھی۔ فسطائیت فوجی آمر میں پائی جائے یا کسی سیاسی راہنما میں، یکساں نقصان دہ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 286
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں