تکمیلِ ذات۔ آب ِحیات!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی ایک مسلسل سمجھوتے کا نام ہے۔ بعض اوقات اِن جان سے پیارے لوگوں سے بھی جدا ہونا پڑتا ہے، جن کے بغیر زندگی کا تصورمحال لگتا ہے۔ اور پھر ہم ان کے بغیر جیتے بھی ہیں اور مسلسل جیتے ہیں۔ یہی زندگی ہے اور یہی جینا۔ حالات ہمیں ایک نئے امتحان، ایک نئے موڑ پر لا کر ایک نئی مشکل سے آشنا کرتے ہیں اور یوں زندگی کے صبح و شام بلا تعطل چلتے رہتے ہیں۔ بلا توقف۔

میں اس کو خود سے جدا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں چاہتا تھا وہ اسی طرح میرے ساتھ رہے۔ چمٹ کر، میرے جسم کا حصہ بن کر۔ جسم کے خلا کو پر کرنے کے لیے۔ جیسے کوہ نور کے بغیر مغل تاج اور سلطنت نا مکمل لگتی ہو، ایسے ہی میرے جسم کی تکمیل اس کا پیوند لگنے سے ہوئی تھی۔ شاید اُس کا سانس میرے لیے وینٹی لیٹر کا کام کرتا تھا۔ آج مجھے گیلا ہونے کے بعد محسوس ہوا، کہ گیلا پن کتنا خوب اور مکمل ہوتا ہے۔ زندگی بھر خشک رہنے والے اور ترسے ہوئے نالوں میں جب طغیانی آتی ہے، تو پھر ان کے بہاؤ کے آگے کچھ نہیں ٹکتا۔ سب بہہ جاتا ہے۔ سب کچھ۔ جسم اور جان، سب کچھ۔ باقی صرف ایک چیز بچتی ہے۔ لطافت۔ اس کثافت کا حاصل لطافت۔

میں نے بڑی ہمت سے اُس کی سیاہ گیلی زلفوں کو چہرے سے ہٹایا۔ ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اُس کو سیدھا کرنے کی کوشش کی۔ مگر اُس کی آنکھیں بند تھیں۔ آنکھوں کا پانی، بارش کے قطروں کے ساتھ ساتھ یوں مسلسل مل رہا تھا، جیسے کچھ عرصہ پہلے ہم ملے تھے۔ اس کی جھکی ہوئی، سرخ ہوتی گیلی آنکھیں، رخساروں کی لالی، گردن کے گرد سرخی اور۔۔۔ میں نے جب اُس کے دونوں گالوں کو اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوئے، ماتھے کو چوما، تو ایک بار پھرمہک ہی مہک سے، ہم دونوں کے جسموں، میں جھرجھری، ایک تیز بجلی کا کوندا، چمک اور کرنٹ سرایت کر گیا۔ وہ بے اختیار میرے ساتھ لپٹ گئی۔ کبھی جدا نہ ہونے کے لیے۔ میری کمرکے گرد ہاتھ ڈال کر اور میرے کندھوں کو پشت کی جانب سے زورسے دباتے ہوئے، اس نے مجھے اپنے اندر جذب کر لیا۔ سمالیا۔ چھپا لیا۔ ہمیشہ کے لیے۔ ہمیشہ تک۔

اُس روز بہت بارش ہوئی۔ محبت کا طوفان اور جذبات کی بارش۔ شدید بارش۔ موسلا دھار۔ بے شمار۔ وہ آخری ملاقات تھی۔ یا شاید پہلی اور آخری برسات تھی۔ اس کی آنکھیں اور ان کی برسات، لرزتے لب، جو کچھ کہنا چاہتے تھے، مگر پھر رُک جاتے تھے۔ کانپتے ہاتھ، جسم کے بل اور بالوں کے کنڈل چیخ چیخ کر مجھے خبردار کر رہے تھے کہ روک لو۔

اس وقت کو، اس پل کو، اس ساعت کو، اس سماعت کو، اس خواہش کو۔ یہیں روک لو۔ اسی طرح روک لو۔ ورنہ یہ وقت کبھی لوٹ کرنہیں آئے گا۔ وہ روئی اور مجھ سے لپٹ کر بہت روئی، بلک بلک کر روئی۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ مجھ سے ملنے کی خوشی میں رو رہی ہے یا کبھی نہ ملنے کے غم میں۔ یا اس کو میری تکمیل کا ارمان پورا ہونے کا احساس یا اپنی تکمیلِ ذات کا سکون اپنے بہاؤ کے ساتھ بہنے پر مجبور کر رہا ہے۔ مگر میں مکمل ہو چکا تھا۔ ہمیشہ کے لیے۔ اس برسات میں، شہد قطروں کی پھوار میں، اس کے جسم سے اُلجھی بوندوں کا رس پی کر، اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھوں کا پیالہ بنا کر بہنے اور جمع ہونے والا پانی آبِ حیات تھا۔ اور میں جی بھر کر اُس آبِ حیات کو پی چکا تھا۔ جی چکا تھا۔ میرا اندراور باہر، باہر اور اندر ”زاہد“ اور ”زاہد“ کا ہم زاد، ایک ہو چکے تھے۔

میری آنکھیں بار ہا اُس پگلی سے کہہ رہی تھیں، کہ ہم کب جدا ہو رہے ہیں؟ ہر روز، ہر موسم، ہر پَل، ہر ساعت، یہ چرند پرند، یہ ہوائیں، یہ فضائیں، یہ شام یہ حسین مناظر، وہ بھیگی راتیں، وہ باتیں، وہ ملاقاتیں، دھنک رنگ برساتیں، جسم پر گرنے والے قطرے اور پھر اُن کی حرکتیں، یہ سب تمھارے پیار کی گواہی دیں گی اور تمھیں مجھ سے، اور مجھے تم سے باندھے رکھیں گی۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ ہم کب جُا ہو رہے ہیں؟!

جو چاند تم وہاں سے دیکھو گی وہ چاند میں یہاں سے دیکھوں گا۔ میرا تیرا اُفق اب بھی پونم کی رات ایسا ہی ہو گا۔ ٹوٹے تارے۔ سب نظارے، میرے تمھارے، سب تمھارے۔ سب تمھارے ہوں گے۔ میری آنکھیں بار ہا اس کو یہ سب کہہ رہی تھیں۔ مگر وہ بے اختیار، میرے سینے سے چمٹ کر رو رہی تھی۔ مسلسل رو رہی تھی۔ برسات میں، برسات کر رہی تھی۔ آنسوؤں کی برسات۔

میرے ذہن میں وہ پیار کی برسات میں بھیگے، پیار سے بھی پیارے مناظر نقش ہو رہے تھے، ثبت ہو رہے تھے۔ اس کے بدن کی خوش بو، میری سانسوں میں سما رہی تھی۔ میری روح اور جسم کا حصہ بن رہی تھی۔ دھیرے دھیرے میرے جسم میں اتر رہی تھی۔ سرایت کر رہی تھی۔ میرے انگ انگ اور تنفس کا حصہ بن رہی تھی۔ میں ان لمحوں کو، اس خوش بو کو۔ بارش میں بھیگی اس معصوم لڑکی، اس موم کی گڑیا کو، اس مشک نافہ و عنبر کو محسوس کر رہا تھا۔ پہلی اور شاید آخری بار۔ محسوس کر رہا تھا۔ جی رہا تھا۔ پہلی اور آخری بار۔ آخری بار اور پہلی بار۔ مہک کی مہک کو محسوس کر رہا تھا۔

وہ رخصت ہوئی۔ میرے ہاتھوں سے آہستہ آہستہ ہاتھ چھڑاتی ہوئی، دھیرے دھیرے، دوسری طرف دیکھتی ہوئی، سسکتی ہوئی۔ رخصت ہو گئی۔ میں اس کی رخصتی کے بعد بہت رویا، ٹوٹی چوڑیاں۔ خشک پھول، پرانی الماری میں سال ہا سال سے پڑی کتابوں میں سے بر آمد ہونے والی موتیے کی کلیاں، قمیص کے ساتھ چپکا ہوا، کالے ناگ کی طرح لمبا بال۔ کچھ نا مکمل غزلیں۔ چند نظمیں جو ادھوری ہیں۔ انگریزی میں اردو شاعری۔ کندھے کا تِل۔ وفا کی علامت گرم ہتھیلی۔ آدھا کافی کا کپ۔ تیرالمس۔ تیرے لہجے کی سچائی۔ آنکھوں کی گہرائی۔ ہاتھوں کی نرمائی۔ گال کا ڈمپل۔ جسم کا صندل۔ مجھے تیری عادت ہو گئی ہے۔ اِڈکشن ہو گئی ہے۔ تم نے مجھے مکمل نہیں مزید نا مکمل کر دیا ہے۔ کھوکھلا کر دیا ہے۔ میں تم بن ادھورا ہوں۔

سنا ہے اس کی شادی ہو گئی۔ اور وہ بہت روئی تھی شادی کے روز۔ شادی مرگ پر۔ بہت روئی تھی۔ کچھ تلاش کرتی رہتی تھی۔ ڈھونڈتی رہتی تھی۔ ادھراُدھر دیکھتی تھی، ہر آنے والے کو، کھلتے ہوئے دروازے کو، فون کی گھنٹی کو، ہروقت کچھ سوچتی رہتی تھی۔ اور سنا ہے، اس دن بھی بہت بارش ہوئی تھی۔ طوفان آیا تھا۔ تمام شامیانے اور قناتیں اُکھڑ گئی تھیں۔ وہ بہت روئی تھی۔ زمین و آسمان بھی روئے تھے۔ کیونکہ شاید محبت کے بازار میں بہت ”مندا“ تھا۔

برسوں بیت گئے۔ مہک اور اس کی مہک سے بچھڑے ہوئے، جدا ہوئے۔ مگر اب بھی اکثر سرِ شام، برسات کے ایّام، کسی رنگین و اداس شام، بارش اور اس کے قطروں میں کھیلتی۔ یا دھند کی دبیز تہہ کے اندر تیرتی۔ میرے قریب ہوتی ہوئی۔ مہدی حسن کی غزل سے مدھر ”حسن کی دیوی۔“ ”پیڑ کے نیچے اقرار کرتی ہوئی۔“

”تیرے بھیگے بدن کی خوش بو۔‘‘
میری سانسوں میں سماتی ہے
مجھ سے ملنے آتی ہے

برسوں بیت گئے
مگر اب بھی۔ اکثر
شام ڈھلے
دور گگن سے
چاند نگر سے
دھیرے سے اُتر کے
مہک اور اس کی مہک
مجھے ملنے آتی ہے
اپنی چھب دکھلاتی ہے
مسکراتی ہے، کھلکھلاتی ہے
مجھ کو لُبھاتی ہے، دل کو رجھاتی ہے
سینے سے لگاتی ہے۔ اور
مجھ میں سماتی ہے
مجھ میں سماتی ہے
کچھ پل بتاتی ہے
پھر
کہیں دور، دھنک رنگی شام میں
اُفق کے اُس پار
گم ہو جاتی ہے
پھر سے گم ہو جاتی ہے۔
مہک اور اس کی مہک، مجھ سے ملنے آتی ہے
اب بھی مجھ سے ملنے آتی ہے

(’کتاب، ’’حاصل لا حاصل‘‘ سے اقتباس)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیاقت علی ملک

لیاقت علی ملک ۔۔۔ داروغہ ہے۔ خود ہی عدالت لگاتا ہے، خود ہی فیصلہ سناتا ہے اور معاف نہیں کرتا۔۔۔ بس ایک دبدھا ہے۔۔۔وہ سزا بھی خود ہی کاٹتا ہے ۔۔ ۔۔کیونکہ یہ عدالت۔۔۔ اس کے اپنے اندر ہر وقت لگی رہتی ہے۔۔۔۔

liaqat-ali-malik has 11 posts and counting.See all posts by liaqat-ali-malik