پڑھی لکھی خواتین کو طلاق زیادہ کیوں ہوتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اس وقت تھرڈ ائیر میں تھی۔ ہمارا معمول تھا کہ عصر اور مغرب کی نماز کے درمیان کا وقت میں اور ابو ساتھ گزارتے تھے۔ اس دوران چائے پی جاتی، کیرم بورڈ یا لڈو کھیلا کرتے اور ساتھ ساتھ باتیں بھی ہوتیں۔ کبھی سیاسی گفتگو، کبھی معاشرتی مسائل، کبھی شاعری، گیت اور چٹکلے تو کبھی سنجیدہ گفتگو۔ یہ میری زندگی کی بڑی خوبصورت یاد ہے۔ ایسی یاد جسے دل میں بہت سنبھال کے رکھا جاتا ہے، ایسی یاد کہ جس کے یاد آنے پر ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی آجاتی ہے اور آنکھوں میں نمی بھی اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ مسکراہٹ زیادہ گہری ہے یا آنکھیں زیادہ نم ہیں۔

یہ وہ وقت ہے جس نے مجھے ابو کے بہت قریب کیا اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان کے پاس بیٹھنا اور ان کے ساتھ وقت گزارنا مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ ایک دن ہمیشہ کی طرح ہم بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ اچانک ابو نے ایک سوال کیا کہ یہ پڑھی لکھی خواتین کو طلاق زیادہ کیوں ہوتی ہے؟ ان دنوں ہماری ایک جاننے والے خاتون نے، جو کہ کسی بینک میں ملازمت کرتی تھیں، شادی کے قریب 20 برس بعد خلع لے لی تھی۔ انہی دنوں ٹی وی پر ایک ڈرامہ بھی چل رہا تھا جس کا مرکزی کردار ایک پڑھی لکھی خود مختار خاتون اپنے شوہر سے عاجز آ کر طلاق لے لیتی ہے۔

سوال جتنا اچانک تھا میری عمر اور سمجھ کے حساب سے اتنا ہی مشکل بھی تھا۔ بچپنا ہی سمجھیے کہ دل ہی دل میں خود پر بہت فخر کیا کہ مجھ سے ابو نے ایسے اہم مسئلے کے بارے میں بات کی ہے جس کا مطلب ہے کہ یقینا میری قابلیت کے معترف ہو چکے ہیں۔ اب تو اس سوچ پر ہنسی آتی ہے مگر تب اس کامیابی پر خود کو داد دیتے ہوئے میں نے ایک لمحے کو سوچا اور بہت مدبرانہ انداز میں جواب دیا پڑھی لکھی عورتوں کو اپنے حقوق کا پتا ہوتا ہے۔

انہوں نے میرا جواب غور سے سنا مگر کہا کچھ بھی نہیں۔ میں جو اپنے تئیں دانشمندانہ جواب دے کر ان سے کچھ تعریفی کلمات سننے کی توقع کر رہی تھی ان کی خاموشی سے خاصا مایوس ہوئی۔ کچھ دن گزرے تو ابو نے مجھ سے کہا تمہیں یاد ہے میں نے تم سے پوچھا تھا کہ پڑھی لکھی خواتین میں طلاق کی شرح زیادہ کیوں ہے، میں فوراً الرٹ ہو گی اور دل ہی دل میں سوچا کہ اس دن رہ جانے والی تعریف یقیناً آج ہو گی۔ اب سوچتی ہوں بچے کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہو جائیں والدین کی طرف سے کی جانے والی حوصلہ افزائی ان کے لیے کتنا معنی رکھتی ہے۔

جی مجھے یاد ہے میں نے پھر سے اسی ”تدبر“ کا مظاہرہ کیا، اور وہ اس لیے کیونکہ انہیں اپنے حقوق کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ اب کی بار بھی انھوں نے پہلے کی ہی طرح میری بات سنی اور پھر نرمی سے بولے ہمارے معاشرے میں انہیں یہ حقوق دیتا کوئی بھی نہیں ہے۔ حقوق دینا کیا ہوا حقوق تو بس ہوتے ہیں، بات سمجھ آئی نہیں اور حجت کرنے کی تو آج بھی ہمت نہیں تب کیسے کرتی سو خاموش ہو رہی۔ وقت گزرا مشاہدہ بڑھا تو دیکھا فرائض تو سارے انجام دیے جا رہی ہے مگر حق ایک بھی نہیں مانگتی۔

ظلم اور جبر برداشت کر رہی ہے اور ایسے کررہی ہے کہ جیسے اسی میں خوش ہے۔ عزت نفس کی دھجیاں اڑا دیں تو اگلے ہی لمحے خود کو سمیٹ کر پھر سامنے حاضر ہے، زندگی میں آنے والی کسی بھی قسم کی مشکل کے لئے مورد الزام ٹھہرائی جائے تو بخوشی یہ الزام اپنے سر لے لیتی ہے، مار کھانے والی مار کھاتی چلی جاتی ہے مگر احتجاج نہیں کرتی۔ یہاں یہ بھی پتہ چلا کہ ان حالات کا شکار کئی ایسی خواتین بھی ہیں جو تعلیم یافتہ ہیں مگر مصلحت کی بنا پر ہونٹ سیے بیٹھی ہیں۔

اور وہ جو اپنے حق میں کوئی قدم اٹھا بھی لیں تو گویا ایک جہنم سے دوسرے جہنم میں چلی جاتی ہیں۔ سچ ہے انہیں حقوق کوئی نہیں دیتا، مرد اپنی بیوی سے جیسا مرضی سلوک کرے، کر سکتا ہے کیونکہ وہ اس کی بیوی ہے، اور وہ بیوی کے تو basic human rights بھی نہیں ہوتے۔ اور کوئی بھی اس کے سر پر دست شفقت رکھ کے یہ نہیں کہتا کہ گھبراؤ مت ہم تمہارے ساتھ ہیں کیونکہ یہ تو میاں بیوی کے آپس کا معاملہ ہے جس میں کوئی مداخلت نہیں کرتا۔

صبر کرنے والی کا جینا تو یوں ہی مشکل ہے اور اپنے حق میں آواز اٹھانے والی کو معاشرہ جینے نہیں دیتا۔ خیال آتا ہے کہ آج سے کچھ سال بعد کبھی ایسے فرصت کے لمحوں میں ابو کے ساتھ چائے پینے بیٹھوں گی تو انہیں بتاؤں گی کہ اب خواتین کی اکثریت پڑھی لکھی ہے اور وہ ہنسی خوشی رہتی ہیں، معاشرہ انہیں حقوق دینا سیکھ گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •